زاویہ: حافظ نعیم الرحمان کی ادھوری کاوشیں

حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان ’ادھوری کاوشوں‘ کے ریکارڈ بناتے جا رہے ہیں۔ ابھی تک ان کا کوئی ایک دھرنا، کوئی ایک احتجاج منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا جس کے نتیجے میں عوامی مفاد کو تقویت ملتی یا کوئی عوامی مسئلہ حل ہوتا۔

کراچی کے شہریوں کو یاد ہوگا موجودہ امیر جماعت اسلامی پاکستان جب پارٹی کے کراچی کے امیر تھے تو کے الیکٹرک کے خلاف خوب گرجتے برستے تھے۔ آئے روز کے الیکٹرک کے صدر دفتر یا کسی ذیلی دفتر کے باہر لاؤ لشکر لے کر پہنچ جاتے تھے بلکہ لاؤ لشکر کہنا ذرا زیادتی ہوگی، حامیوں کی ٹکڑی لے کر پہنچ جاتے تھے۔

 کچھ دیر کے لیے راستے بند ہوتے، لوگوں کو پریشانی ہوتی، نعرے وعرے لگتے لیکن کے الیکٹرک کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑتا۔ حافظ نعیم کراچی والوں کو کے الیکٹرک کے ظلم سے نجات دلانے کے خواب دکھاتے دکھاتے اچانک شہر سے ہی چلتے بنے۔ عوام تو وہیں کے وہیں رہے حافظ صاحب کی البتہ ترقی ہو گئی۔

حافظ نعیم نے عوام بلکہ بچوں کو بھی ایک خواب دکھایا تھا۔ یہ خواب انٹر کے ان بچوں کے لیے ڈراؤنہ خواب بن گیا جن کو بورڈ کی ستم ظریفی سے کم نمبر ملے تھے۔ ان بچوں میں کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے میٹرک میں اسی فیصد تک نمبر حاصل کیے لیکن انٹر میں یا تو فیل کر دیا گیا یا پچاس فیصد کے اریب قریب نمبر آئے۔

طالب علموں کے لیے یہ صورت حال بہت اذیت ناک تھی، وہ غم سے نڈھال سڑکوں پر نکل آئے، پورا شہر ان کا حامی تھا، بورڈ پر سخت دباؤ تھے، بچوں کی خودکشیوں یا خودکشی کی کوشش کی خبریں آ رہی تھیں۔ اچانک منظر میں حافظ نعیم داخل ہوئے، انہوں نے بچوں کے احتجاج کی قیادت شروع کی۔

ان کی دیکھا دیکھی فاروق ستار اور ایم کیو ایم کے کچھ اور رہنما بھی میدان میں نکل آئے لیکن بچوں کی زیادہ امیدیں حافظ صاحب سے وابستہ تھیں، حافظ صاحب نے یقین دلایا کہ وہ بچوں کو ان کا حق دلا کر رہیں گے، لیکن پھر کیا ہوا، حافظ صاحب اپنی عادت کے مطابق یہ محاذ بھی ادھورا چھوڑ کر چلتے بنے، بچوں کی اذیت، مایوسی اور لاچاری میں بدل گئی، وہ جہاں تھے وہیں رہ گئے، حافظ صاحب کی ترقی ہو گئی۔

تیسرا معاملہ بحریہ کے ان پلاٹ ہولڈرز کا ہے جن کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ انہیں ڈبل یا دو نمبر فائلیں دی گئیں، ایک پلاٹ کئی کئی لوگوں کے نام کیا گیا، جس کا قبضہ ہو گیا اس کا تو ہو گیا لیکن بہت سارے لوگ اپنی عمر بھر کی کمائی سے محروم ہو گئے۔ وہ بھی حق لینے سڑک پر نکلے، احتجاج شروع ہوئے، شہریوں کی حمایت اور ہمدردی ان کے ساتھ تھی، بلڈر پر دباؤ پڑ رہا تھا۔

پھر منظر میں حافظ نعیم داخل ہوتے ہیں، کیمروں کی چکاچوند میں بلڈر کے ساتھ بیٹھتے ہیں، معاہدہ ہوتا ہے، دستخط ہوتے ہیں، امیدیں بندھتی ہیں، کچھ کی امیدیں پوری بھی ہو جاتی ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو آج بھی اپنی فائلیں ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، وہ جہاں تھے وہیں ہیں، حافظ صاحب البتہ ترقی کر گئے۔

تازہ معاملہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا ہے۔ حافظ نعیم نے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا، لیوی کو بھتہ اور غنڈہ ٹیکس قرار دیا، شہر شہر دھرنے دیے، ان کے دھرنوں کے دوران حکومت مسلسل پٹرول مہنگا کرتی رہی، حافظ صاحب نے تنگ آکر لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔

ٹرین سے اپنے لاؤ لشکر بلکہ معاف کیجیے گا ٹکڑی کے ساتھ اسلام آباد کی جانب عازم سفر ہوئے، ابھی ملتان تک ہی پہنچے تھے کہ وزیراعظم کا فون آگیا، امیر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ موخر کر دیا۔ پٹرول کی قیمتیں وہیں کی وہیں ہیں حافظ صاحب البتہ۔

ماضی کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ حافظ صاحب جس معاملے میں پڑے، وہ معاملہ ڈائلیوٹ ہو گیا، دباؤ کم ہو گیا، عوام کو سوائے خواری اور مایوسی کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ کیا حافظ صاحب کسی کے آلہ کار ہیں، کیا وہ کسی خاص مقصد کے لیے ایسا کرتے ہیں؟ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کو تو ایسا ہی لگتا ہے، ایک پوڈ کاسٹ میں الزام لگایا کہ جس معاملے میں جماعت اسلامی احتجاج کرے سمجھو وہ معاملہ ختم ہو گیا کیونکہ جماعت اسلامی عوامی دباؤ کو کم اور ختم کر دیتی ہے۔

شبر زیدی کی رائے اپنی جگہ لیکن آج کے جدید دور میں سڑکوں پر نکلنے سے پہلے سوشل میڈیا پر لوگوں کو متحرک کیا جاتا ہے۔ جب ان کی بڑی تعداد موٹیویٹ ہو جاتی ہے اور اس کاز سے جڑ جاتی ہے تب جا کر سڑکوں پر نکلا جاتا ہے، حال ہی میں بھارت میں ہونے والا کاکروچ پارٹی کا دھرنا اس کی بہترین مثال ہے۔ جماعت اسلامی اس پہلو کو قطعا نظرانداز کر دیتی ہے۔ لوگوں کو فعال اور جوڑے بغیر سڑکوں پر نکل آتی ہے، جس سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا ہاں البتہ حافظ صاحب۔