زاویہ: ‘اب تک کہاں چھپے تھے بھائی!’

زاویہ

سام بیسائل (اصل نام نکولا باسلی نکولا) ایک ٹھگ اور مجرم کے طور پر مشہور ہے، نہ کہ ایک ذہین ہالی ووڈ فلم ڈائریکٹر کے طور پر۔

جس امریکہ میں سام بیسائل رہتا ہے، وہاں مائیکل مور بھی ہے جو بش دور کا سب سے بڑا نقاد تھا، کیونکہ مائیکل مور ایک جنگ مخالف آرٹسٹ ہے۔ مائیکل مور کا کہنا ہے: ‘سات سمندر پار جنگ کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ جنگ تیل اور ہتھیاروں کے لالچ کی اندھی ہوس پر لڑی جا رہی ہے؛ بش اور اس کے ٹولے کے مفاد کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ بھاڑ میں جائے افغانستان، امریکی فوجیوں کو ہر صورت واپس بلاؤ۔’

لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ حکمران بھی ویسے ہی کریں جیسا آرٹسٹ سوچتے ہیں۔ اگر میری آزادی کسی کے جذبات کے قتل پر ختم ہوتی ہے تو اس قسم کی آزادی نفرت کہلائے گی۔ سام بیسائل نے وہی کچھ کیا ہے۔

اس کی اس پوری فلم کے پیچھے اسرائیلی سرمایہ کاری بتائی جاتی ہے اور دوسرا، اس کام کے لیے ستمبر کا مہینہ چنا گیا۔ لیکن مبصرین (پنڈتوں) کا خیال ہے کہ اصل میں نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات سے قبل اس قسم کا ٹریلر باراک اوباما کو دوسری بار صدر بننے سے روکنے کی سازش ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فلم محض بیسائل کی غفلت یا لاعلمی کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک سنجیدہ اور گہری سازش ہے۔

چھوڑیں جو بھی ہو، لیکن اس فلم نے امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان حائل خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ ان کے ہاں جو انتہا پسند ہیں، ان کا بھی ہمارے انتہا پسندوں کی طرح اس میں مفاد ہے۔

فہمیدہ ریاض نے کتنا خوبصورت کہا تھا:

تم بالکل ہم جیسے نکلے،

اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟

فہمیدہ نے یہ نظم بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے لیے کہی تھی اور انہیں اس ہوٹل میں یہ نظم پڑھنے نہیں دی گئی تھی جہاں ان کا پروگرام طے تھا۔ فہمیدہ ریاض جیسے لوگ چاہے پاکستان میں ہوں یا بھارت میں، ایک ہی سزا بھگتتے ہیں۔

امریکی پاور راہداریوں میں نائن الیون کے بعد وہ سکہ چلتا ہے جس پر نعوم چومسکی جیسے دانشور اپنے ناخن چبا رہے ہیں۔ اور ہمارے دور کا محبوب صحافی اور مصنف رابرٹ فسک لکھتا ہے کہ کتنا تعجب ہے کہ اس دو ٹکے کی فلم کا شکار پھر لیبیا میں وہ امریکی سفیر ہوا جسے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ‘عرب دوست’ سمجھا جاتا تھا۔

فلم کے ردعمل نے جہاں امریکی ہاکس (جنگجو سوچ) کو تقویت بخشی، وہیں عرب دوست سفیر کرسٹوفر اسٹیونز سے بھی جان چھوٹ گئی۔ ایک تیر سے دو شکار!

جہاں دنیا بھر میں کروڑوں عام مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے (اور مسلمان صرف پاکستان میں نہیں رہتے، حالانکہ پاکستانی مسلمانیت کا نمونہ آپ کو عالم اسلام میں کہیں اور نہیں ملے گا)، وہاں ہمارے انتہا پسند گروہوں کو بھی اسائنمنٹ مل گئی۔ وہ تو جیسے طاق میں بیٹھے تھے۔

انہیں یوں ایک ایشو مل گیا جیسے بھوکے صحافیوں کو اچانک بریکنگ نیوز مل جائے۔ عرب دنیا سوشل میڈیا اور جمہوریت کے نام پر فدا ہونے والی نئی جنریشن کے بخار میں مبتلا تھی، لیکن اس ایشو نے اصل میں القاعدہ اور اس قسم کی تنظیموں کو ایندھن مہیا کر دیا۔

‘دفاع پاکستان کونسل’ کے شعلہ نواؤں کو آپ نے آخری بار کب سنا تھا؟ فرقہ پرست تنظیمیں بھی جی اٹھی ہیں۔ کیونکہ ان کی دکان امریکہ و مغرب دشمنی کے مال پر چلتی ہے، جیسے صیہونیت کی دکان ایرانیوں یا فلسطینیوں کی مخالفت پر چلتی ہے۔ کیا ہولوکاسٹ کا سارا درد اور اس کا ردعمل اس نفرت کی شکل اختیار کرنے کے لیے تھا؟ ایاز نے کتنا درست لکھا تھا:

ساری قوم بھی ظلم کرتی ہے،

اونچ بھی ظالم، نیچ بھی ظالم۔

یا جاپانیوں کی طرف سے برما پر قبضے کے دوران برمیوں پر ظلم کی انتہا دیکھ کر اس نے لکھا تھا:

قوم کے کردار کی بات نہ کر،

جو بیٹے کونپل پر ہائیکو لکھ سکتے تھے،

وہ برما پر بم بھی برسا سکتے ہیں۔

یوں امن و سلامتی کے دین کو ہمارے انتہا پسند گروہوں نے ایسا تعارف دیا کہ دنیا اس سے خوفزدہ ہونے لگی۔ مذہب کی بنیادی روح کے خلاف یہ ایک سیاسی سازش تھی، استحصال تھا اور ذاتی مفادات تھے۔ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ تقریباً تمام مذاہب اس آگ سے گزرے ہیں۔ بدھ مت کے پیروکار برما میں مسلمانوں کے ساتھ بربریت کی انتہا کریں گے اور بوسنیا کی جنگ کیسے شرمناک مثالوں کو جنم دے گی، اور اکیسویں صدی کی دہلیز پر یہ سب کچھ یوں ہوگا، کس نے سوچا تھا؟

اب تک کہاں چھپے تھے بھائی،

تم بھی بالکل ہم جیسے نکلے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور زید حامد جیسے اسکالرز کی بھی نئی فصل کا سیزن نکل آئی۔ لیکن غامدی جیسے لوگ اپنی جنگ لڑتے آ رہے ہیں۔ اس بار یہ پہلی بار ہوا جب ہم نے دیکھا کہ بااثر ٹی وی چینلز نے منطق اور دانشمندی سے کام لیا، جیسے جیو پر ثنا بچہ کے ‘لیکن’ پروگرام میں اس قسم کے موقف نے جذبات کو قابو میں رکھنے میں مدد کی۔ غامدی صاحب اور ایاز امیر کا موقف واضح تھا۔

سلمان رشدی کو سلمان رشدی اسلامی دنیا کے ردعمل نے بنایا، اور وہ ابھی تک اس تنازع کو کیش کرا رہا ہے۔ اس فتویٰ کے بعد اس نے کیسے خطرات کا سامنا کیا، ان یادداشتوں پر مشتمل کتاب لکھ رہا ہے اور اس کے لیے مہنگے پبلشرز پریشان ہیں۔ ابھی وہ کتاب مارکیٹ میں لائے گا۔

لیکن سب سے اہم اور حساس بات یہ ہے کہ اگر کوئی پوری اسلامی دنیا کو مصروف کرنا چاہے تو کوئی فتنہ کھڑا کرے اور ہمیں کام پر لگا دے۔ اور پوری اسلامی دنیا اپنی املاک اور اپنے لوگوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دے گی، اور بالکل یہی ‘مسلمانوں کی سادگی’ اس متنازع فلم کے معاملے میں ہو رہی ہے۔ ہم اپنے ردعمل کی دیوانگی میں مصروف ہیں اور وہ سوچتے ہوں گے کہ انہیں مزید نقصان پہنچانے کی کیا ضرورت ہے؟

دنیا نائن الیون کے بعد مزید حساس ہو گئی ہے، لیکن اس کا اسکرپٹ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے لکھا تھا۔ سابق سوویت بلاک کو شکست دینے کے لیے سیاسی مذہب کو فروغ دیا گیا۔ رہی سہی کسر 79 میں افغانستان میں روسی فوج کی مداخلت نے پوری کر دی اور پاکستان اس بین الاقوامی سازش کا شکار ہوا۔

جنرل ضیاء نے امریکہ اور سعودی عرب کے پیسے اور ہتھیاروں پر اپنے ملک کو جہنم بنا دیا۔ سوویت فوج کی واپسی اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی ہمیں الوداع کہہ کر چلے گئے۔

اگرچہ سرد جنگ ختم ہو چکی تھی، کمیونسٹ روس نہ رہا، لیکن ہم اپنی ہی دھن میں لگے رہے، یہاں تک کہ جڑواں ٹاورز پر حملوں نے امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کی یاد دلائی اور ہمیں اس دھن سے ہٹانے کے لیے کولن پاول کا آدھی رات کو فون آیا، اور کمانڈو صدر نے ‘ہاں’ کہنے میں پانچ منٹ کی بھی تاخیر نہیں کی۔ 30 سال تک ہم جس افغان اور کشمیر کی دھن میں لگے ہوئے تھے اس سے نکلے اور نئی اسائنمنٹ پر لگ گئے۔

اصل میں ہماری سنتری ڈیوٹی وہی تھی، صرف اسائنمنٹ تبدیل ہوئی تھی، پچھلی اسائنمنٹ کے بالکل برعکس۔ لیکن ہم نے اسے ‘اسٹریٹجک اہمیت’ کے روپ میں قبول کر لیا، کیونکہ اس وقت کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔

اس وقت ہم ایک دہکتے ہوئے آتش فشاں اور جہنم پر رہ رہے ہیں۔ اس کے لیے ہمارے مذہبی رکھوالوں، سیاست دانوں اور نان سویلین اسٹیبلشمنٹ نے مل جل کر ایندھن اکٹھا کیا ہے۔ اب ہم اسی آگ میں جل رہے ہیں۔ منطق، دلیل، برداشت اور دوسرے کے احترام سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں رہا۔

ان بدترین دنوں میں بہتری کی امید کیسے رکھی جائے؟ اس کے لیے جواز اور امکانات نہ جانے ہم کہاں چھوڑ آئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی موت اس امید کے تابوت میں آخری کیل تھی۔ انہوں نے اسلام اور مغرب کے درمیان مفاہمت  کی بات کی تھی، نہ کہ نواب شاہ اور گجرات کے چوہدریوں کے درمیان۔ اتنی بڑی بات کا انجام! تاریخ کو ابھی بی بی صاحبہ کی شہادت پر حقیقت کی مہر ثبت کرنی ہے؛ دیکھتے ہیں تاریخ اس سلسلے میں کتنا انتظار کرواتی ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو معاملات کو نئے تناظر میں دیکھنا ہوگا، ورنہ صرف ایک فلم اور ایک آدھ کارٹون دنیا کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ جبکہ ہماری صورتحال مزید مشکل ہے۔ ہم امریکہ سے پنجہ آزمائی کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب خاموش ہے۔ سعودی عرب احتجاج کر رہا ہے لیکن وہ خاموش احتجاج ہے، نہ کہ ہمارے جیسا۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں اپنے اندرونی گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں طالبان ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہیں۔ کاش ہماری مقدس مذہبی بریگیڈ انتہا پسند عسکریت پسندی کے خلاف بھی یوں ہی اٹھ کھڑی ہو۔

تصور کریں کہ اگر ہمارے ملک کا رائٹ ونگ اقلیتوں کے بارے میں اتنا حساس ہو جائے جتنا اپنے بارے میں حساس ہے، تو یہ ملک کتنا بہترین بن جائے! اگر آپ دوسروں کے مذہبی اور ثقافتی اقدار کا خیال نہیں رکھیں گے تو دوسرے بھی آپ کا خیال نہیں رکھیں گے۔

رمشا مسیح کے معاملے پر ہمارے ہاں کیا لبرل اور کیا قدامت پسند، اگر سب یوں ہی باہر نکل آتے تو کیا یہ ملک رہنے کے لیے بہترین جگہ نہیں بن سکتا تھا؟ اصل میں ہم نے پاکستان کو خود ایک بیگار کیمپ میں تبدیل کیا ہے۔ سام بیسائل اور اس قسم کے کردار جو اپنے معاشروں میں دو ٹکے کے بھی نہیں ہیں، ہم نے انہیں اتنی اہمیت دی ہے۔ سب سے بہترین انتقام دراصل نظر انداز کرنا ہے۔ کیا ہم ان کی اس نفرت انگیزی کو نظر انداز نہیں کر سکتے؟

اوپر جو محترمہ کی مفاہمت والی بات تھی، وہ نہ ان کے انتہا پسندوں کو پسند تھی اور نہ ہمارے انتہا پسندوں کو۔ کیونکہ محترمہ دو انتہاؤں کے درمیان ایک اعتدال پسند زندگی کا راستہ تلاش کر رہی تھیں، لیکن انہیں اس کی مہلت نہیں دی گئی اور وہ دو نفرتوں کا شکار ہو گئیں۔

ہم اس نفرت سے اوپر اٹھیں گے یا اس طوفان، کشتی میں ڈوب کر ختم ہو جائیں گے، تاریخ کسی بیرومیٹر کی طرح ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔

اسی بارے میں: