آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے بیچ پاکستان کو قطر سے ایل این جی کی ایک اور کھیپ

ایل این جی

پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس، ایل این جی، کی ایک اور کھیپ کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے کا انتظام کر لیا ہے۔ اس پیش رفت سے توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنے والے پاکستان کو عارضی طورپر کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی بزنس نیوز کے ادارے بلومبرگ کے مطابق قطر سے روانہ ہونے والا ایل این جی ٹینکر ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق منگل تک پاکستان کی ایل این جی درآمدی تنصیب پر پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ ستمبر کے دوران قطر سے پاکستان پہنچنے والی دوسری ایل این جی کھیپ ہو گی۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ جہاز نے قطر کی راس لفان گیس تنصیب سے جون کے آخر میں ایل این جی لوڈ کی تھی۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں پیدا ہونے والی مشکلات کے باعث اس کی پاکستان آمد میں تاخیر ہوئی۔

پاکستان نے ایران سے براہ راست رابطہ کر کے اس جہاز کو محفوظ راستہ فراہم  کرنے کے لیے انتظامات کیے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث اس راستے سے توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے پاکستان سمیت ایشیا کے کئی ممالک کو ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے لیے ایل این جی کی مسلسل فراہمی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی گیس پر بھی انحصار کرتا ہے۔

ایل این جی بجلی پیدا کرنے، صنعتوں اور دیگر شعبوں کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ درآمدی گیس کی فراہمی میں رکاوٹ سے بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ستمبر میں یہ دوسری قطری ایل این جی کھیپ ہے جو پاکستان پہنچ رہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی کچھ جہاز خلیج فارس سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم خطے کی صورتحال نے پاکستان کے لیے ایل این جی کی معمول کی درآمد کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

توانائی کے بحران کے باعث پاکستان کو ایل این جی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے اور سپلائی کے محفوظ راستوں کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی ایل این جی کے خریدار مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں رکاوٹوں کے بعد اپنے ذرائع اور ترسیلی راستوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کئی ایشیائی ممالک نے مغربی افریقہ، انڈونیشیا، آسٹریلیا، شمالی امریکا اور دیگر خطوں سے گیس حاصل کرنے کے امکانات پر توجہ بڑھائی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ایل این جی کی عالمی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔ قطر دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی راس لفان تنصیب عالمی گیس کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

حالیہ حملوں کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی پیداواری صلاحیت کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے، جس سے عالمی سپلائی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

ایک اور خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطر کی تقریباً 17 فیصد ایل این جی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے اور متاثرہ تنصیبات کی مکمل بحالی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے مسئلہ صرف ایل این جی کی دستیابی تک محدود نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی اہم ہے۔ عالمی سپلائی میں کمی اور نقل و حمل کے خطرات کے باعث ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایشیائی مارکیٹ میں گیس کی اسپاٹ قیمتیں حالیہ بحران کے دوران تقریباً 10  ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ سے بڑھ کر تقریباً 30 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ اس صورتحال نے پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے اضافی مالی دباؤ پیدا کیا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے قطر سے ایل این جی کی یہ کھیپ فوری طور پر کچھ سہولت فراہم کر سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں توانائی کی فراہمی کے لیے مزید محفوظ اور متبادل راستوں کی ضرورت برقرار رہے گی۔

آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے تک ہر نئی ایل این جی کھیپ کی محفوظ آمد ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی۔

پاکستان اور ایران کے درمیان ایل این جی جہاز کے محفوظ گزرنے کے لیے ہونے والا رابطہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود توانائی اور علاقائی سلامتی سے متعلق عملی معاملات پر رابطے میں ہیں۔

پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کے علاوہ خلیج سے آنے والی توانائی کی سپلائی بھی اہمیت رکھتی ہے۔

تازہ کھیپ کی پاکستان آمد سے ملک میں گیس اور بجلی کی فراہمی پر فوری دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم توانائی کے شعبے میں موجود وسیع تر بحران ختم نہیں ہوا۔

عالمی منڈی میں قیمتوں، خلیج فارس کی صورتحال اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پاکستان کی آئندہ ایل این جی سپلائی کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔