تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے ریگزاروں سے بارود کی بو اٹھی ہے، اس کی تپش نے ہزاروں میل دور واقع کراچی کے ساحلوں اور اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں کو جھلسا کر رکھ دیا ہے۔
لیکن اس بار معاملہ محض پٹرول کی قیمتوں میں چند روپے کے اضافے یا بجلی کے بلوں پر لگنے والے عارضی جھٹکے کا نہیں ہے۔ اس بار آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی اور امریکہ و ایران کے درمیان بھڑکنے والی براہِ راست جنگ نے پاکستان کی نازک معیشت کے ماتھے پر ساختی اور مالیاتی زلزلے کی وہ لکیریں کھینچ دی ہیں، جن کے دوسرے سرے پر ‘ریاستی نادہندگی’ کا ہولناک گڑھا منہ کھولے کھڑا ہے۔
یہ ایک ایسا ‘نظامی جھٹکا’ ہے جس نے ہمارے پورے معاشی ڈھانچے کی قلعی کھول دی ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے عالمی مالیاتی فنڈ کے وینٹی لیٹر اور دوست ممالک کے وقتی سہارے پر سانس لے رہا تھا۔ اگر یہ ناکہ بندی ایک ماہ سے تجاوز کرتی ہے، تو یہ صرف اندھیرے اور مہنگائی کا بحران نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے پورے مالیاتی نظام کا بستر گول کر دینے والا المیہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کا پروگرام دھڑام سے گرنا: شرائط، ضوابط اور زمینی حقیقتیں
پاکستان کا موجودہ معاشی استحکام، جسے حکومت اپنی سب سے بڑی کامیابی گردانتی ہے، دراصل شیشے کے ایک ایسے محل کی مانند ہے جس کی بنیادیں عالمی مالیاتی فنڈ کی کڑی شرائط پر رکھی گئی ہیں۔ اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ کو دو سب سے بڑی یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ اول، مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے ‘بنیادی مالیاتی سرپلس’ کا حصول، اور دوم، بجلی و پٹرول پر کسی بھی قسم کی سبسڈی کا مکمل خاتمہ۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جب تک 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں، یہ جادوئی ہندسے کاغذوں پر درست دکھائی دیتے رہے، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈی میں تیل کو 120 ڈالر فی بیرل کی فرضی حد سے بھی اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس ایک جھٹکے نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو بارودی سرنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
مالیاتی خسارے کا طوفان
جب ملک کا درآمدی بل یکمشت ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر ماہانہ کے اضافی بوجھ تلے دب جائے گا، تو حکومت کا سارا بجٹ خسارہ بکھر جائے گا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جب آسمان کو چھوئیں گی، تو ان کی ملکی کھپت میں 30 سے 40 فیصد کی تاریخی کمی واقع ہوگی۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی اور عمومی فروختی ٹیکس کے ذریعے جو اربوں روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کر رکھا تھا، وہ بری طرح متاثر ہوگا۔
سبسڈی کا ناگزیر دباؤ اور عوامی ردعمل
عالمی مالیاتی فنڈ کا مؤقف یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے تو اس کا پورا بوجھ عوام تک منتقل کیا جائے۔ لیکن جب پٹرول ملکی تاریخ میں پہلی بار 500 روپے فی لیٹر کی حد عبور کرنے لگے اور بجلی کا فی یونٹ 100 روپے تک جا پہنچے، تو کوئی بھی حکومت، چاہے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، عوامی بغاوت اور امن و امان کی بدترین صورت حال کے خوف سے یہ بوجھ منتقل کرنے کی سکت نہیں رکھ پائے گی۔
حکومت کو مجبوراً پٹرولیم مصنوعات اور لائف لائن صارفین کے لیے بجلی پر عارضی سبسڈیز کا اعلان کرنا پڑے گا۔ یہی وہ مقام ہوگا جہاں عالمی مالیاتی فنڈ کا پروگرام فوری طور پر معطل ہو جائے گا، کیونکہ فنڈ اپنے بنیادی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا۔
بیرونی ادائیگیوں کا تعطل: جب ڈالر کی روانی خشک ہو جائے
عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی معطلی کا مطلب صرف ایک قسط کا رکنا نہیں ہوتا بلکہ یہ عالمی مالیاتی برادری کی طرف سے کسی ملک کو دیے جانے والے اعتماد کے سرٹیفکیٹ کی منسوخی بھی ہوتی ہے۔ جیسے ہی عالمی مالیاتی فنڈ کا اشارہ سرخ ہوگا، پاکستان کے لیے بیرونی مالی معاونت کے تمام متبادل راستے بیک وقت بند ہو جائیں گے۔
عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سے ملنے والے اربوں ڈالر کے منصوبے منجمد ہو جائیں گے۔ اس سے بھی بڑھ کر، ہمارے دوست ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین، جو ہر سال ہمارے پرانے قرضوں کو مزید مدت دیتے ہیں، عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی عدم موجودگی میں اپنے واجب الادا قرضوں کی واپسی کا تقاضا شروع کر سکتے ہیں یا مزید مہلت دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہماری معیشت کی سب سے بڑی شہ رگ یعنی ترسیلات زر شدید دباؤ میں آ جائیں گی۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں اگرچہ تیل مہنگا ہونے سے وقتی طور پر مضبوط دکھائی دیتی ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کی صورت میں پورا خلیج فارس جنگی پٹی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تنصیبات یا بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، تو وہاں کی معاشی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی، جس کا پہلا شکار وہاں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکن ہوں گے۔ ان کی ملازمتیں متاثر ہونے سے پاکستان آنے والے ڈالر کی آمد یکدم کم ہو سکتی ہے۔
جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرِ مبادلہ کے ذخائر محض چند ہفتوں کے درآمدی بل کے برابر رہ جائیں اور بیرونی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کا وقت آ جائے، تو ملک کے پاس بین الاقوامی مالیاتی قوانین کے تحت خود کو ‘تکنیکی نادہندہ’ قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ اس کے بعد ملک کی درآمدی ساکھ تقریباً ختم ہو جاتی ہے اور بین الاقوامی بینک پاکستان کے درآمدی قرض نامے قبول کرنا بند کر دیتے ہیں۔
بینکاری اور سرمایہ بازار: ملکی مالیاتی نظام کا اندرونی بکھراؤ
جب بیرونی محاذ پر نادہندگی کے بادل گرج رہے ہوں، تو ملکی مالیاتی منڈیاں اور بینکاری شعبہ بھی اس کی تپش سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ یہ مالیاتی بحران چند لمحوں میں پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
شرح سود کا تاریخی دھماکہ
جب جنگ اور رسد کے عالمی نظام کی تباہی کے باعث پٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل کی قیمتیں دوگنی ہوں گی، تو ملک میں پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی کا ایسا طوفان آئے گا جو ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 35 سے 40 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
اس بے لگام مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان مجبوراً شرح سود کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جائے گا۔ شرح سود میں یہ غیر معمولی اضافہ نجی شعبے اور صنعتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ فیکٹریوں کے لیے بینکوں سے کاروباری سرمایہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
پیداواری لاگت بڑھنے سے کمپنیاں اپنے قرضے واپس کرنے میں ناکام رہیں گی اور یوں کمرشل بینکوں کے قرضوں کے ذخیرے میں ناقابل وصول قرضوں کا ایک ایسا پہاڑ کھڑا ہو جائے گا جو پورے بینکاری نظام کو ہلا کر رکھ دے گا۔
اسٹاک مارکیٹ کا کریش اور روپے کی بے قدری
پاکستان اسٹاک ایکسچینج، جو معیشت کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے، اس نظامی جھٹکے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ توانائی، ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور آٹوموبائل جیسے بڑے شعبوں کے حصص کو خریدار نہیں ملیں گے۔ غیر ملکی اور مقامی بڑے سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال کر مارکیٹ سے نکل جائیں گے اور محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے یا اوپن مارکیٹ سے امریکی ڈالر خریدنے کی طرف رجوع کریں گے۔
روپے کی فراوانی اور ڈالر کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے باعث بینکوں اور اوپن مارکیٹ کے درمیان شرح مبادلہ کا فرق ختم ہو جائے گا اور روپیہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی قدر کھوتا چلا جائے گا، جس سے مہنگائی کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جائے گا۔
کیا پاکستان اس ٹائم بم کو ناکارہ بنا سکتا ہے؟
آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے نتیجے میں مالیاتی نادہندگی کا یہ خوفناک منظرنامہ کسی فلمی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک تلخ زمینی حقیقت ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم نے گزشتہ سات دہائیوں میں اپنی معیشت کو کس قدر کمزور چھوڑا ہے۔ صرف 14 سے 18 دن کا پٹرولیم ذخیرہ رکھنا اور اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے 85 فیصد درآمدی ایندھن پر انحصار کرنا کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اگر ہمیں اس ‘ٹائم بم’ کو ہمیشہ کے لیے ناکارہ بنانا ہے، تو جنگ کے اس ہنگامی ماحول میں سعودی عرب کے متبادل ‘ینبع روٹ’ کے لیے جارحانہ سفارت کاری کرنا ہوگی۔ تاہم طویل مدتی بقا کے لیے چند بنیادی ساختی فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
قومی تزویراتی ذخائر
گوادر اور مکران کے ساحل پر کم از کم 60 سے 90 دن کے قومی تزویراتی تیل اور گیس کے ذخائر ہنگامی بنیادوں پر قائم کیے جائیں، تاکہ بحری ناکہ بندی کی صورت میں معیشت کو کم از کم تین ماہ کا حفاظتی وقفہ مل سکے۔
توانائی کے ذرائع میں تبدیلی
درآمدی مائع قدرتی گیس اور فرنس آئل سے چلنے والے منصوبوں کو مرحلہ وار محدود کر کے تھر کے مقامی کوئلے، پن بجلی اور شمسی توانائی پر مکمل انحصار کی حکمت عملی اختیار کی جائے، تاکہ بجلی کے شعبے کا آبنائے ہرمز اور درآمدی بل پر انحصار مستقل طور پر ختم ہو سکے۔
زمینی تجارتی راہداری
افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی کے معاملات طے کر کے ‘تاپی’ گیس پائپ لائن اور وسطی ایشیا تک زمینی تجارتی راستوں کو مستقل فعال بنایا جائے، تاکہ بحری راستے بند ہونے کی صورت میں وسطی ایشیا سے گیس اور توانائی کی فراہمی کا زمینی متبادل ہر وقت دستیاب رہے۔
وقت تیزی سے ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں اٹھنے والی چنگاریاں اگر ایک بار آبنائے ہرمز تک پہنچ گئیں، تو پھر ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں رہے گا۔
پاکستان کو خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر خلیج میں امن قائم رکھنے کے لیے نہ صرف مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا بلکہ اپنے مالیاتی نظام کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے داخلی سطح پر بھی کڑے اور انقلابی فیصلے کرنا ہوں گے۔
ورنہ تاریخ ایسے معاشروں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اپنے دفاعی قلعے تو مضبوط بناتے ہیں لیکن اپنی معاشی فصیلوں کو کمزور چھوڑ دیتے ہیں۔




