سارے عالم پہ ہوں میں چھایا ہوا، میر تقی میر کی برسی پر خصوصی تحریر

میر

میر صاحب کو ایسے ہی تو خدائے سخن نہیں کہتے، ان کا شعر کبھی کبھار تو سچ مچ الہام محسوس ہوتا ہے

حسرت موہانی نے کہا:

دیکھنا بھی تو اسے دور سے دیکھا کرنا

شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرتا

اسی مضمون کو جب میر نے اٹھایا تو شعر زمین سے اٹھا کر آسمان پر رکھ دیا

دور بیٹھا غبار میر اس سے

عشق بن یہ ادب نہیں آتا

میرنے عشق کے مضمون کو ہر رنگ میں باندھا ہے، ہرکیفیت، ہرعالم بیان کیا ہے۔ اور وہ بھی ایسے کہ: وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔

میرتقی میر جب محبوب کی گلی میں جاتے ہیں تو وہ گلی زندہ ہوجاتی ہے، کہتےہیں

تیرے کوچے میں ہمیں تو یونہی دن سے رات کا

کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

یوں پکارے ہیں مجھے کوچہ جاناں والے

ادھر آ بے ابے او چاک گریباں والے

میر جب محبوب کی محفل میں جاتے ہیں تو پاس ادب سے سانس تک نہیں لیتے

رات محفل میں تیری ہم بھی کھڑے تھے چپکے

جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ

کہتےہیں میر کے 72  نشتر مشہور ہیں، لیکن دیوان میر میں تو ایسے نہ جانے کتنے نشتر،کٹاریاں اور خنجر پنہاں ہیں جو سننے،پڑھنے والے کے دل میں ترازو ہوجاتے ہیں

میر کے شعر لتا منگیشکر نے گائے تو ایسا لگا جیسے کسی نے دل مٹھی میں لے لیا

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی

حقِ بندگی ہم ادا کر چلے

پرستش کی عادت کہ اے بُت تجھے

نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

میر کی شاعری میں ایسی سادگی ہے کہ جیسے کوئی سچا عاشق صادق بغیر کسی کوشش اور مشقت بس اپنےدل کی باتیں سامنے دھرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سادگی کسی الہام جیسی سادگی ہے کہ کوشش کے باوجود کوئی اور اس جیسا شعر کہہ ہی نہیں پاتا۔ اردو شاعری میں جسے دیکھیے میر کو خراج پیش کرتا ہے۔

میر کے ہم عصر سودا کہتے ہیں

سودا تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھ

ہونا ہے تجھ کو میر سے استاد کی طرف

مصحفی کہتے ہیں

اے مصحفی تو اور کہاں شعر کا دعویٰ

پھبتا ہے یہ انداز سخن میر کے منہ پر

امام بخش ناسخ نے کہا

شبہ ناسخ نہیں کچھ میر کی استادی کا

آپ بے بہرہ ہے جومعتقد میر نہیں

شیخ ابراھیم زوق کہتےہیں

نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب

ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

مرزا غالب یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں

میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب

جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں

حسرت فرماتے ہیں

شعر اپنے بھی ہیں پردرد ولیکن حسرت

میر کا شیوہ انداز کہاں سے لاؤں

اکبر الہ آبادی نےکہا

میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبر

ناسخ و زوق بھی جب چل نہ سکے میر کےساتھ

ابن انشا نے اعتراف کیا

اک بات کہیں گے انشا جی تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی

تم ایک جہاں کا علم پڑھے کوئی میر سا شعر کہا تم نے

حبیب جالب نے مشورہ دیا

اپنے انداز میں بات اپنی کہو

میر کا شعر تو میر کا شعر ہے

لیکن میر تو سب کی بات کرتے ہیں،عوام کی بات کرتے ہیں ۔ فرماتے ہیں

شعر ہیں گو میرے خواص پسند

پرمجھے گفتگو عوام سے ہے

میر نازک جذبات سادہ زبان میں بیان کرتے ہیں تو گویا عام انسان کے دل کا تار چھیڑ دیتےہیں

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

میر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

میر صرف عاشق ہی نہیں ہیں،دلی کے بانکے بھی ہیں، جب بانکپن دکھاتے ہیں تو فرماتے ہیں

میرے سنگ مزار پر فرہاد

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

میر کو اپنے کمال کا خود بھی احساس اور ادراک ہے۔

سارے عالم پہ ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

میر تقی میر 20 ستمبر 1810 کو لکھنؤ میں آسودہ خاک ہوئے،ان کی برسی پر کیا کچھ یاد نہیں آ رہا ۔ کچھ نشتر اور ملاحظہ فرمائیں

چلے نہ اٹھ کے وہیں چپکے چپکے پھر اے میر

ابھی تو اس کی گلی سے پکار لایا تھا

دور بہت بھاگے ہیں ہم سے سیکھ طریق غزالوں کا

وحشت کرنا عادت ہے ان اچھی آنکھوں والوں کا

میر نام اک جواں سنا ہوگا

اسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میر

کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

اسی بارے میں: