[rank_math_breadcrumb]

دو ماہ میں سرکاری اسکول کی نمایاں تبدیلی، اسکول اسپیسفک بجٹ سے کلیان آڈوانی اسکول کا نیا روپ

حیدرآباد کے قاسم آباد کی اولڈ وحدت کالونی میں واقع کلیان آڈوانی گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں صرف دو ماہ کے دوران نمایاں تبدیلیاں کی گئیں، جن سے اسکول کے داخلی راستے، ماحول اور بنیادی سہولیات کی شکل بدل گئی۔
یہ سرکاری اسکول سندھ کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور معلم کلیان آڈوانی کے نام سے منسوب ہے۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کو مرتب کرنا ان کے اہم علمی کاموں میں شمار ہوتا ہے۔
اسکول میں ہونے والی تبدیلی کے لیے اسکول اسپیسفک بجٹ استعمال کیا گیا۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد سرکاری اسکولوں کو ان کی مقامی اور فوری ضروریات کے مطابق وسائل فراہم کرنا ہے، تاکہ اسکول انتظامیہ مرمت، بنیادی سہولیات، فرنیچر، صفائی، شجرکاری اور دیگر ضروری کام اپنی ترجیحات کے مطابق مکمل کرسکے۔
کلیان آڈوانی گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر احمد آریسر نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل آخری دو ماہ کے دوران دستیاب بجٹ کو اسکول کی بہتری کے لیے استعمال کیا۔
اس دوران اسکول کے داخلی حصے کو نئی شکل دی گئی، نیا گیٹ نصب کیا گیا، ٹوٹی پھوٹی دیواروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی گئی، فرش کو بہتر بنایا گیا، پودے لگائے گئے اور اسکول کا نیا نمایاں سائن بورڈ نصب کیا گیا۔
اسکول کے ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ اور طالبات کے لیے تعلیمی جگہ کو الگ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا۔ طالبات کے لیے نئی عمارت کا انتظام ہونے کے بعد اولڈ وحدت کالونی کیمپس میں طلبہ کے لیے دستیاب جگہ اور سہولیات کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔
اس تبدیلی کی خاص بات یہ ہے کہ دستیاب وسائل کو اسکول کی فوری اور مقامی ضروریات کے مطابق استعمال کیا گیا۔ اسکول اسپیسفک بجٹ کا تصور بھی اسی اصول پر مبنی ہے کہ ہر اسکول کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کہیں عمارت کی مرمت ضروری ہوتی ہے، کہیں واش رومز، کہیں فرنیچر اور کہیں طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
کلیان آڈوانی گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول، اولڈ وحدت کالونی کیمپس میں ہونے والی یہ تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ اگر اسکول کی سطح پر دستیاب وسائل کو مقامی ضروریات اور واضح ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے تو ایک پرانے سرکاری اسکول کے ماحول اور بنیادی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔