18 ستمبر 1954: میر مرتضیٰ بھٹو کا یومِ پیدائش اور آخری عید ملاقات

یہ 1996 کی آخری عیدالاضحیٰ تھی۔ لاڑکانہ کے بھٹو خاندان کی یہ پرانی روایت تھی کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں، لیکن عید کے دن لاڑکانہ، نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش بھٹو آکر اپنے آبائی مقامات پر عید مناتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی اس روایت کو محترمہ بے نظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو نے بھی برقرار رکھا۔

جب تک میر مرتضیٰ بھٹو جلاوطن رہے، محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو ہر عید پر المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ آکر رہتی تھیں۔ پھر نوڈیرو جاتیں اور بھٹو صاحب کی پہلی اہلیہ شیرین امیر بیگم اور نوڈیرو کے لوگوں سے ملتیں۔ 

اس کے علاوہ گڑھی خدا بخش بھٹو میں بھٹو خاندان کے خاندانی قبرستان پر جاکر قبروں پر فاتحہ پڑھتیں اور گاؤں کے لوگوں سے ملتیں۔ اس کے بعد آبائی زمینوں، گاؤں عزت کی وانڈ اور نصرت فارم پر ہاریوں سے بھی ملاقات کرتیں۔

لیکن میر مرتضیٰ بھٹو کی جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس پہنچنے اور جیل سے آزادی کے بعد اس روایت میں تھوڑی تبدیلی آئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو المرتضیٰ ہاؤس میں آکر رہتے تھے، جبکہ بے نظیر صاحبہ نوڈیرو منتقل ہوگئی تھیں اور وہیں رہتی تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو اپنے بیٹے میر مرتضیٰ کے ساتھ المرتضیٰ میں رہتی تھیں۔

لیکن وہ ایک ماں بھی تھیں۔ میر مرتضیٰ کے ساتھ رہنے کے ساتھ ساتھ وہ بے نظیر صاحبہ سے ملنے نوڈیرو بھی جاتی تھیں۔ بے نظیر صاحبہ کے پروگراموں میں بھی موجود ہوتی تھیں اور میر مرتضیٰ کے پروگراموں میں بھی بیٹھی ہوتی تھیں۔ البتہ بے نظیر صاحبہ اور میر صاحب ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے نہیں تھے۔

ان کی آخری ملاقات سات جولائی 1996 کو بے نظیر صاحبہ کی خواہش پر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی تھی، جس کا احوال کسی اور موقع پر لکھیں گے۔

باقی میر صاحب کے بچے ذوالفقار جونیئر اور فاطمہ المرتضیٰ ہاؤس میں ہی اپنے والد مرتضیٰ اور دادی نصرت بھٹو کے ساتھ ہوتے تھے۔ البتہ عید کے دن بے نظیر صاحبہ اپنے بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ کو تیار کرکے المرتضیٰ ہاؤس ماموں میر مرتضیٰ سے ملنے کے لیے بھیجتی تھیں۔

یہ قصہ آخری عیدالاضحیٰ کا ہے۔ میر مرتضیٰ اپنے بچوں سمیت لاڑکانہ پہنچے ہوئے تھے۔ ذوالفقار جونیئر چھوٹے تھے۔ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی، لیکن جونیئر کے ساتھ کھیلنے والا کوئی بچہ نہیں تھا۔ اس لیے ان کا بچکانہ مزاج اداس دکھائی دیتا تھا۔ ان کی یہ کیفیت میر مرتضیٰ بھٹو جیسے والد سے دیکھی نہیں گئی۔

میر صاحب نے اچانک مجھ سے پوچھا، ’ذوالفقار! تمہارے کتنے بچے ہیں؟‘

میں نے میر مرتضیٰ بھٹو کو جواب دیا، ’میر صاحب! میں نے تو ابھی شادی ہی نہیں کی۔‘

اس پر میر صاحب ہنس کر بولے، ’باقی زندگی کہاں گزاری ہے؟‘

میں نے کہا، ’سائیں، زندگی میں آوارہ کامریڈ رہے ہیں۔ جو بیچاریاں زندگی میں آئیں، انہوں نے آخر امید چھوڑ کر اپنے گھر بسا لیے۔‘

اس پر میر صاحب نے ہنس کر کہا، ’جونیئر بابا کے ساتھ کھیلنے والا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے اداس اداس رہتا ہے۔‘

میں نے میر صاحب سے کہا، ’سائیں، میرے بڑے بھائی شبیر حسین قادری کے چھوٹے بیٹے کی عمر ذوالفقار جونیئر کے برابر ہے۔ اگر آپ کہیں تو اسے لے آتا ہوں۔‘

اس پر میر صاحب نے کہا، ’ٹھیک ہے۔ جونیئر کے لیے لاڑکانہ میں اپنی عمر کے دوست ضروری ہیں۔‘

میر صاحب کی اجازت کے بعد میں اپنے بڑے بھائی کے چھوٹے بیٹے ذوالقرنین کو المرتضیٰ ہاؤس لے آیا۔

میرے بھتیجے کو دیکھ کر میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنے بیٹے ذوالفقار جونیئر کو بلایا اور میرے بھتیجے سے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا، ’یہ آج سے تمہارا دوست ہے۔‘

اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔ کیا معلوم تھا کہ یہ عید میر مرتضیٰ کی آخری عید ثابت ہوگی۔

تصویر میں ذوالفقار جونیئر اور میرا بھتیجا آپس میں دوستی کا ہاتھ ملا رہے ہیں۔ تصویر میں بڑے بھائی شبیر حسین قادری اور ان کے بچے میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اسی بارے میں: