Tag: میر مرتضیٰ بھٹو

  • 18 ستمبر 1954: میر مرتضیٰ بھٹو کا یومِ پیدائش اور آخری عید ملاقات

    18 ستمبر 1954: میر مرتضیٰ بھٹو کا یومِ پیدائش اور آخری عید ملاقات

    یہ 1996 کی آخری عیدالاضحیٰ تھی۔ لاڑکانہ کے بھٹو خاندان کی یہ پرانی روایت تھی کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں، لیکن عید کے دن لاڑکانہ، نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش بھٹو آکر اپنے آبائی مقامات پر عید مناتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی اس روایت کو محترمہ بے نظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو نے بھی برقرار رکھا۔

    جب تک میر مرتضیٰ بھٹو جلاوطن رہے، محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو ہر عید پر المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ آکر رہتی تھیں۔ پھر نوڈیرو جاتیں اور بھٹو صاحب کی پہلی اہلیہ شیرین امیر بیگم اور نوڈیرو کے لوگوں سے ملتیں۔ 

    اس کے علاوہ گڑھی خدا بخش بھٹو میں بھٹو خاندان کے خاندانی قبرستان پر جاکر قبروں پر فاتحہ پڑھتیں اور گاؤں کے لوگوں سے ملتیں۔ اس کے بعد آبائی زمینوں، گاؤں عزت کی وانڈ اور نصرت فارم پر ہاریوں سے بھی ملاقات کرتیں۔

    لیکن میر مرتضیٰ بھٹو کی جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس پہنچنے اور جیل سے آزادی کے بعد اس روایت میں تھوڑی تبدیلی آئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو المرتضیٰ ہاؤس میں آکر رہتے تھے، جبکہ بے نظیر صاحبہ نوڈیرو منتقل ہوگئی تھیں اور وہیں رہتی تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو اپنے بیٹے میر مرتضیٰ کے ساتھ المرتضیٰ میں رہتی تھیں۔

    لیکن وہ ایک ماں بھی تھیں۔ میر مرتضیٰ کے ساتھ رہنے کے ساتھ ساتھ وہ بے نظیر صاحبہ سے ملنے نوڈیرو بھی جاتی تھیں۔ بے نظیر صاحبہ کے پروگراموں میں بھی موجود ہوتی تھیں اور میر مرتضیٰ کے پروگراموں میں بھی بیٹھی ہوتی تھیں۔ البتہ بے نظیر صاحبہ اور میر صاحب ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے نہیں تھے۔

    ان کی آخری ملاقات سات جولائی 1996 کو بے نظیر صاحبہ کی خواہش پر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی تھی، جس کا احوال کسی اور موقع پر لکھیں گے۔

    باقی میر صاحب کے بچے ذوالفقار جونیئر اور فاطمہ المرتضیٰ ہاؤس میں ہی اپنے والد مرتضیٰ اور دادی نصرت بھٹو کے ساتھ ہوتے تھے۔ البتہ عید کے دن بے نظیر صاحبہ اپنے بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ کو تیار کرکے المرتضیٰ ہاؤس ماموں میر مرتضیٰ سے ملنے کے لیے بھیجتی تھیں۔

    یہ قصہ آخری عیدالاضحیٰ کا ہے۔ میر مرتضیٰ اپنے بچوں سمیت لاڑکانہ پہنچے ہوئے تھے۔ ذوالفقار جونیئر چھوٹے تھے۔ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی، لیکن جونیئر کے ساتھ کھیلنے والا کوئی بچہ نہیں تھا۔ اس لیے ان کا بچکانہ مزاج اداس دکھائی دیتا تھا۔ ان کی یہ کیفیت میر مرتضیٰ بھٹو جیسے والد سے دیکھی نہیں گئی۔

    میر صاحب نے اچانک مجھ سے پوچھا، ’ذوالفقار! تمہارے کتنے بچے ہیں؟‘

    میں نے میر مرتضیٰ بھٹو کو جواب دیا، ’میر صاحب! میں نے تو ابھی شادی ہی نہیں کی۔‘

    اس پر میر صاحب ہنس کر بولے، ’باقی زندگی کہاں گزاری ہے؟‘

    میں نے کہا، ’سائیں، زندگی میں آوارہ کامریڈ رہے ہیں۔ جو بیچاریاں زندگی میں آئیں، انہوں نے آخر امید چھوڑ کر اپنے گھر بسا لیے۔‘

    اس پر میر صاحب نے ہنس کر کہا، ’جونیئر بابا کے ساتھ کھیلنے والا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے اداس اداس رہتا ہے۔‘

    میں نے میر صاحب سے کہا، ’سائیں، میرے بڑے بھائی شبیر حسین قادری کے چھوٹے بیٹے کی عمر ذوالفقار جونیئر کے برابر ہے۔ اگر آپ کہیں تو اسے لے آتا ہوں۔‘

    اس پر میر صاحب نے کہا، ’ٹھیک ہے۔ جونیئر کے لیے لاڑکانہ میں اپنی عمر کے دوست ضروری ہیں۔‘

    میر صاحب کی اجازت کے بعد میں اپنے بڑے بھائی کے چھوٹے بیٹے ذوالقرنین کو المرتضیٰ ہاؤس لے آیا۔

    میرے بھتیجے کو دیکھ کر میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنے بیٹے ذوالفقار جونیئر کو بلایا اور میرے بھتیجے سے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا، ’یہ آج سے تمہارا دوست ہے۔‘

    اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔ کیا معلوم تھا کہ یہ عید میر مرتضیٰ کی آخری عید ثابت ہوگی۔

    تصویر میں ذوالفقار جونیئر اور میرا بھتیجا آپس میں دوستی کا ہاتھ ملا رہے ہیں۔ تصویر میں بڑے بھائی شبیر حسین قادری اور ان کے بچے میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • بے نظیر بھٹو  اور میر مرتضیٰ بھٹو  کی زندگی کی آخری ملاقات

    بے نظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کی زندگی کی آخری ملاقات

    بے نظیر بھٹو صاحبہ اور ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو اس سے پہلے 1989 میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ملے تھے۔ اس وقت بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد شام کے صدر حافظ الاسد کی دعوت پر سرکاری دورے پر گئی تھیں۔ دمشق میں حضرت بی بی زینبؑ کے روضے پر حاضری دینے کے بعد انہوں نے رات کا کھانا اپنے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ کھایا تھا۔

    1993 کے انتخابات میں لاڑکانہ شہر اور تحصیل کے حلقہ پی ایس 31 سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد جب میر مرتضیٰ بھٹو نے وطن واپس آنے کا اعلان کیا تو اس وقت بے نظیر بھٹو دوسری بار پاکستان کی وزیرِ اعظم بن چکی تھیں۔

    بے نظیر بھٹو پاکستان کے اس وقت کے حالات کے پیش نظر میر مرتضیٰ بھٹو کی وطن واپسی کے حق میں نہیں تھیں۔ جبکہ بیگم نصرت بھٹو کا مؤقف تھا کہ جب غلام مصطفیٰ جتوئی اور اجمل خٹک جیسے رہنما وطن واپس آ سکتے ہیں تو میر مرتضیٰ بھٹو کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک واپس آ کر ایک آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔

    تاہم بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ کو واضح طور پر کہا کہ اگر میر مرتضیٰ بھٹو اپنی ذمہ داری پر وطن واپس آنا چاہتے ہیں تو آ سکتے ہیں، لیکن ان کی واپسی میں وہ کوئی کردار ادا نہیں کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وطن واپسی کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو کو اپنے خلاف قائم مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کرنا ہوگا۔

    اس سلسلے میں بیگم نصرت بھٹو نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ جنرل وحید کاکڑ نے بھی انہیں واضح کیا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کو وطن واپسی پر اپنے خلاف مقدمات اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اگر عدالتیں میر مرتضیٰ بھٹو کو ریلیف دیتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود میر مرتضیٰ بھٹو نے تمام رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے 3 نومبر 1993 کو وطن واپسی کا حتمی فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ وہ کراچی ایئرپورٹ پہنچیں گے۔

    عوام کو ان کے استقبال سے روکنے کے لیے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سندھ عبداللہ شاہ کی حکومت نے بھرپور کوشش کی، لیکن تمام پابندیوں کے باوجود ہزاروں افراد کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئے اور میر مرتضیٰ بھٹو کا استقبال کیا۔

    میر مرتضیٰ بھٹو وطن واپس پہنچے، مگر کراچی ایئرپورٹ پر ہی پاکستانی حکام نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا اور سیدھا لانڈھی جیل کراچی منتقل کر دیا۔ جیل میں قید رہنے کے دوران انہوں نے سندھ اسمبلی جا کر رکنِ اسمبلی کے طور پر حلف بھی اٹھایا اور اپنے خلاف قائم مقدمات کا عدالتوں میں سامنا بھی کرتے رہے۔

    بیگم نصرت بھٹو اپنے بڑے بیٹے کی پیشیوں پر عدالت بھی جاتی رہیں اور جیل میں بھی ان سے ملاقات کرتی رہیں۔ ایک روز لانڈھی جیل میں ملاقات کے دوران انہوں نے میر مرتضیٰ کو بتایا کہ بے نظیر بھٹو ان سے ملنا چاہتی ہیں، لیکن وزیرِ اعظم ہونے کی وجہ سے وہ براہِ راست جیل نہیں آ سکتیں۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ سندھ حکومت کو کہیں گی کہ وزیرِ اعظم جیلوں کا دورہ کریں۔ پہلے کراچی سینٹرل جیل جائیں گی، پھر لانڈھی جیل پہنچیں گی اور اسی دوران میر مرتضیٰ کے وارڈ میں جا کر ان سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔

    میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی والدہ سے کہا کہ بے نظیر کو ان کے لیے ایسی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

    کچھ عرصے بعد عید قریب آئی تو بیگم نصرت بھٹو نے ایک اور تجویز دی۔ انہوں نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو چاہتی ہیں کہ میر مرتضیٰ کو پیرول پر رہا کر کے 70 کلفٹن بھیج دیا جائے تاکہ وہ عید کے دن خاندان کے ساتھ گزار سکیں۔ بے نظیر بھی وہاں آ جائیں گی اور اس طرح دونوں بہن بھائی کی ملاقات بھی ہو جائے گی۔ لیکن میر مرتضیٰ بھٹو نے حکومت کی اس رعایت کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

    آخرکار سندھ ہائی کورٹ نے ان کے خلاف تمام مقدمات میں ضمانت منظور کر لی اور انہیں لانڈھی جیل سے رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو نے ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم شروع کی۔ وہ چاروں صوبوں میں گئے، جہاں سولہ برس بعد ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے صاحبزادے کا لوگوں نے والہانہ استقبال کیا۔

    اس دوران انہوں نے بلوچ رہنماؤں نواب اکبر بگٹی، نواب خیر بخش مری اور سردار عطاء اللہ مینگل کے علاوہ صحافیوں، ادیبوں، دانشوروں، وکلا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافی کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی۔

    جولائی 1996 میں بیگم نصرت بھٹو نے میر مرتضیٰ بھٹو کو پیغام دیا کہ وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو ان سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔ اس پر میر مرتضیٰ نے کہا کہ بے نظیر بھی سیاست کر رہی ہیں اور وہ خود بھی سیاست کر رہے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان مال، دولت یا جائیداد کا کوئی تنازع نہیں، کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی زندگی میں ہی سب کچھ تقسیم کر چکے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ کسی طے شدہ ایجنڈے کے بغیر بے نظیر سے ملاقات کرتے ہیں تو حکومت میں موجود بعض لوگ یہ منفی تاثر دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے کسی ذاتی کام کے لیے آئے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہ تو ملاقات کا کوئی باقاعدہ ایجنڈا طے ہوا ہے اور نہ ہی انہیں تحریری دعوت موصول ہوئی ہے، اس لیے وہ ایسی ملاقات نہیں کر سکتے۔

    میر مرتضیٰ بھٹو کے اس مؤقف کے بعد بیگم نصرت بھٹو نے ساری بات بے نظیر بھٹو کو بتائی۔ اس پر بے نظیر بھٹو نے اپنے ہاتھ سے میر مرتضیٰ بھٹو کے نام ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ ملک کی سیاسی صورتحال پر ان سے تبادلۂ خیال کرنا چاہتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے یہ خط بیگم نصرت بھٹو کے حوالے کیا۔

    ان دنوں میر مرتضیٰ بھٹو پشاور کے دورے پر تھے، چنانچہ بیگم نصرت بھٹو نے یہ خط رخسانہ بنگش کے ذریعے انہیں بھجوایا۔

    رخسانہ بنگش نے یہ خط بھٹو خاندان کے قریبی خاندانی دوست نجیب ظفر کے حوالے کیا، جنہوں نے اسے پشاور جا کر میر مرتضیٰ بھٹو تک پہنچایا۔ بے نظیر بھٹو کا خط ملنے کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو نے ان سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ پشاور سے اسلام آباد روانہ ہوئے اور وزیرِ اعظم ہاؤس کو اپنی آمد کے وقت سے بھی آگاہ کر دیا۔

    سات برس بعد بہن بھائی کی یہ ملاقات 7 جولائی 1996 کو وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد جب میری میر مرتضیٰ بھٹو سے گفتگو ہوئی تو میں نے ان سے اس ملاقات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے بتایا:

    "مجھے پشاور میں بیگم نصرت بھٹو کا پیغام ملا کہ ادی بینظیر مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور پھر ملاقات کا فیصلہ کر لیا۔” (واضح رہے کہ میر مرتضیٰ بھٹو بے نظیر بھٹو کو اکثر "ادی بینظیر” کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔)

    انہوں نے بتایا، ‘میں پشاور سے اسلام آباد پہنچا، سندھ ہاؤس میں کچھ دیر آرام کیا اور پھر وزیرِ اعظم ہاؤس روانہ ہو گیا۔ میں نے پہلے ہی اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ جیسے ہی میری گاڑی وزیرِ اعظم ہاؤس کے دروازے پر پہنچی تو ادی بینظیر پہلے سے میرا انتظار کر رہی تھیں۔ ہم سات سال بعد مل رہے تھے۔’

    ‘میں گاڑی سے اترا تو ادی بینظیر نے بہت محبت اور گرمجوشی سے میرا استقبال کیا۔ وہ میری بڑی بہن تھیں۔ انہوں نے مجھے گلے لگایا، پیار کیا اور میرے گالوں پر بوسہ دیا۔ میں نے بھی احترام سے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور ان سے ملا۔’

    ‘ہم باتیں کرتے ہوئے اندر جا رہے تھے کہ ادی بینظیر نے کہا، ‘مرتضیٰ، جب ہم دمشق میں ملے تھے تو تم کافی صحت مند تھے، لیکن اب تم کافی کمزور لگ رہے ہو۔’ میں نے جواب دیا، ‘میں تو یہاں آ کر پہلے سے زیادہ وزنی ہو گیا ہوں۔ دمشق میں روزانہ واک اور جاگنگ کرتا تھا، اس لیے جسم متوازن رہتا تھا، لیکن یہاں سیاسی مصروفیات کی وجہ سے یہ معمول ختم ہو گیا ہے۔’

    ‘ہم اسی طرح باتیں کرتے ہوئے وزیرِ اعظم ہاؤس کے اندر پہنچ گئے۔ تھوڑی دیر بعد امی، بیگم نصرت بھٹو بھی آ گئیں۔ پھر ہم تینوں ہال میں بیٹھ گئے۔ ادی بینظیر بچپن کی یادیں تازہ کرنے لگیں۔ انہوں نے کہا، ‘مرتضیٰ، تمہیں یاد ہے جب ہم بچپن میں گاؤں جاتے تھے؟ عزت کی وانڈھ کی زمین سے ہوتے ہوئے نصرت فارم جاتے تھے۔ وہاں آم اور زیتون توڑتے تھے، پھر تالابوں سے مچھلیاں پکڑتے تھے۔ شاہنواز اور صنم میں ہمیشہ مقابلہ رہتا تھا۔ تم شاہنواز کا ساتھ دیتے تھے اور میں صنم کی حمایت کرتی تھی۔’

    اس کے بعد کھانا پیش کیا گیا۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے بتایا، "ادی بینظیر اپنے ہاتھوں سے میرے لیے کھانا نکال رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں، ‘مرتضیٰ، مجھے معلوم ہے تمہیں کون سے کھانے پسند ہیں، میں نے خاص طور پر وہی تیار کروائے ہیں۔’ میں نے تھوڑا سا کھانا کھایا تو انہوں نے کہا، ‘تم نے تو کچھ کھایا ہی نہیں۔’ میں نے جواب دیا، ‘آج میں پہلے ہی کافی کھانا کھا چکا ہوں۔’

    اس کے بعد سیاسی معاملات پر گفتگو شروع ہوئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے بتایا، ‘میں نے بے نظیر صاحبہ سے کہا کہ پارٹی عوام کی صحیح معنوں میں خدمت نہیں کر سکی۔ اس پر جاگیرداروں کے ایک مخصوص گروہ کا قبضہ ہو گیا ہے۔ ایسے لوگ بھی پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں جو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تھے اور جنہوں نے پارٹی کارکنوں کو سخت تکلیفیں پہنچائیں۔ جن کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں نے مارشل لا کے دور میں قربانیاں دیں، آج ان کی کوئی عزت نہیں۔ جن لوگوں نے اپنی زندگیاں قربان کر دیں، ہم نے انہیں کیا دیا؟’

    میر مرتضیٰ بھٹو کے مطابق بے نظیر بھٹو نے جواب دیا، ‘مرتضیٰ، ہم ان کارکنوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھلا سکتے، لیکن ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ ان کے خاندانوں کو ریلیف دیا جائے۔ میں نے شہید کارکنوں کے ورثا کو مالی معاوضہ، پلاٹ اور سرکاری نوکریاں دی ہیں۔’

    بے نظیر بھٹو نے کہا، ‘ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ قربانیاں دینے والے کارکنوں کے خاندانوں کو ریلیف دیا جائے۔ انہیں نوکریاں اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔’

    اس پر میر مرتضیٰ بھٹو نے جواب دیا، ‘کیا ان لوگوں کی زندگی اور قربانی کی قیمت صرف پلاٹ، پیسہ اور نوکری ہے؟’

    میر مرتضیٰ بھٹو نے بتایا کہ اس ملاقات میں کئی اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس ملاقات میں بے نظیر بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اور آپ کے ساتھ آصف علی زرداری بھی موجود تھے؟

    انہوں نے فوراً جواب دیا، ‘نہیں، آصف علی زرداری شروع میں موجود نہیں تھے۔ جب ادی بینظیر، امی اور میں کھانا کھا رہے تھے تو وہ وہاں نہیں تھے۔ کھانے کے بعد جب ہماری سیاسی گفتگو کا دوسرا دور شروع ہوا تو آصف زرداری آئے، سلام کیا اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔’

    میر مرتضیٰ بھٹو نے بتایا، ‘جب میں نے ادی بینظیر سے کہا کہ پارٹی جاگیرداروں کے اثر میں آ گئی ہے اور پارٹی و اس کی قیادت پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں تو اس موقع پر آصف علی زرداری بولے اور کہا، ‘مرتضیٰ، یہ سب صرف پروپیگنڈا ہے۔’

    میں نے ان سے کہا، ‘میں آپ سے بات کرنے نہیں آیا، میں اپنی بہن سے بات کرنے آیا ہوں، اس لیے آپ ہماری گفتگو میں مداخلت نہ کریں۔’ اس پر ادی بینظیر نے بھی آصف زرداری سے کہا، ‘آصف، آپ میرے اور مرتضیٰ کے درمیان گفتگو میں نہ بولیں۔’ اس کے بعد آصف زرداری خاموش ہو گئے اور کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔’

    میر مرتضیٰ بھٹو کے مطابق اس کے بعد دونوں بہن بھائی کے درمیان مزید کئی معاملات پر تفصیل سے بات ہوئی۔ آخر میں بے نظیر بھٹو نے کہا، ‘ہم نے ایک دوسرے کا سیاسی نقطۂ نظر سن لیا اور سمجھ لیا ہے۔’ رخصت ہوتے وقت انہوں نے کہا، ‘مرتضیٰ، اب ہم سیاسی معاملات پر ایک دوسرے سے ملتے رہیں گے۔’

    اس کے بعد دونوں اٹھے۔ بے نظیر بھٹو انہیں وزیرِ اعظم ہاؤس کے آخری دروازے تک چھوڑنے آئیں اور دونوں نے خوشگوار انداز میں ایک دوسرے سے رخصت لی۔

    یہ ملاقات 7 جولائی 1996 کو ہوئی تھی۔ شاید دونوں بہن بھائی کی یہ قربت کچھ طاقتور اور سازشی عناصر کو پسند نہ آئی۔ تقریباً تین ماہ بعد، 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو اپنی بہن کے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں اپنے گھر کے باہر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو گئے۔

    سندھ کے معروف صحافی اور شاعر منظور سولنگی نے انہی دنوں اپنا ایک رسالہ شائع کرنا شروع کیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ رسالے کے لیے میر مرتضیٰ بھٹو کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ پہنچے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے عملے سے رابطہ کیا۔ عملے نے میر مرتضیٰ بھٹو سے مشورہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کا شیڈول بہت مصروف ہے، اس لیے وہ اس وقت انٹرویو کے لیے وقت نہیں دے سکتے۔

    اتفاق سے اسی دوران میری ملاقات بھی المرتضیٰ ہاؤس میں منظور سولنگی سے ہو گئی۔ پرانی محبت اور احترام کے تعلق کی وجہ سے انہوں نے سارا واقعہ مجھے بتایا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں خود میر مرتضیٰ بھٹو سے بات کرتا ہوں۔

    میر مرتضیٰ بھٹو میری بات کا احترام کرتے تھے، اس لیے میں منظور سولنگی کو ساتھ لے کر ان سے ملا۔ میں نے کہا، ‘منظور سولنگی سندھی صحافت کا ایک اہم نام ہیں۔ وہ بڑی امید کے ساتھ لاڑکانہ آئے ہیں، انہیں خالی ہاتھ واپس بھیجنا مناسب نہیں ہوگا۔’

    اس پر میر مرتضیٰ بھٹو نے منظور سولنگی سے کہا، ‘انٹرویو کا راستہ نکالتے ہیں۔ میرے کئی دورے طے ہیں۔ آپ میری گاڑی میں میرے ساتھ چلیں، سفر کے دوران گفتگو بھی ہوتی رہے گی اور میرے دورے بھی مکمل ہوتے رہیں گے۔’

    اس طرح منظور سولنگی میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوئے اور مختلف مقامات کے دوروں کے دوران ہی ان کا تفصیلی انٹرویو مکمل ہوا۔

    یہ کسی رسالے کے لیے میر مرتضیٰ بھٹو کا آخری انٹرویو ثابت ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد وہ جاں بحق ہو گئے۔ وہ انٹرویو آج بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ ممکن ہے اس رسالے کی کاپیاں اب بھی منظور سولنگی کے پاس محفوظ ہوں۔