شکارپور کے اعوان، فارسی سے سندھی تک

سندھی

انسان حالات، وسائل مواقع  اور موزوں حالات کی تلاش میں تقریباً اپنے تمام  ارتقائی ادوار میں ‘نقل مکانی’ کرتا رہا ہے پھر سماجیات و پیداواری امکانات نے کئی لوگوں کو چنے گئے خطوں کا باسی بھی کیا۔

کسی خطے کے ’ہوجانے’ کا عمل گو قدرتی طور پر ہوتا نظر اتا ہے مگر ذاتی خیال ہے کہ ہجرت کردہ گروہ یا خاندان کا ‏‏’اختیاری خطے‘ کے ساتھ گھل مل  جانے کا ادراک و احساس  ‘ایک فیصلے’ کے بعد تیزی پاتا ہے

مجھے  اپنی خاندانی کتھا تو اسی کا بتاتی ہے۔ کئی پیڑیوں سے سندھی بطور ماں بولی بولنے والے ہم ‘اعوان’ اس دھرتی پر کچھ زیادہ پرانے تو نہیں مگر اس دھرتی کے ‏ساتھ رشتہ جڑ جانے کے بعد اسی کے ہو گئے‎ ‎

ہمارے اجداد قندھار سے یہاں نادر شاہ کے ساتھ آئے۔ ایک حملہ آور کے ساتھ آئے خاندان نے شکار پور کو اپنا ‘گھر’ بنایا۔ شاید یہاں آباد ہوئے خاندان کی تیسری نسل میں ہمارے لکڑ دادا (دادا کے دادا) محمد عارف اعوان  صنعت (جن کا شعری ‏مجموعہ ’دیوان صنعت‘ کے نام سے موجود ہے، جس میں 200 غزلیں، 12 قصائد، رباعیاں اور قطعات شامل ہیں) کا یہ شعر ‏بتلاتا ہے کہ وہ خاندان اپنی تیسری نسل میں اس ‘مٹی کا مرید’ ہو چکا تھا‏

خوانند ہست جنت اکبر شکارپور

ورهست در بهشت نکو تر شکارپور

احرام طواف کعبہ کوی بتان شوخسند

‏ ما حاجیان حرم در شکارپور

ترجمہ: لوگ شکارپور کو جنتِ اکبر کہتے ہیں، اور یہ شہر واقعی بہشت سے بھی زیادہ خوبصورت اور بہتر ہے۔ یہاں کے ‏شوخ اور خوبصورت محبوبوں کی گلی کا طواف کرنا احرام باندھنے کی مانند ہے، گویا حرم کے حاجیوں کی سند اسی ‏شکارپور میں ہے۔

محبت و مٹی کی  ملکیت بن جانے کا عمل کلی اختیاری جاری رہا اور محمد عارف کے صاحبزادے عبدالخالق اعوان، حسن علی ‏آفندی کی سماجی و علمی کاموں میں ساتھ ہوئے

مٹی سے جڑنے کے ساتھ کا عمل آگے بڑھا، گو شکارپور کا یہ اعوان خاندان تعلیم کے لئے سندھ سے باہر گیا مگر مسکن ‏یہی دھرتی رکھی۔

عبدالخایق کا بیٹا ‘نوکری’ کے لئے بمبئی پریزیڈنسی کا ملازم  (ڈپٹی رجسٹرار، کوآپریٹو سوسائٹیز ) ہوتا ہے ۔ محمد اعظم اعوان ‏کی بیٹی سمیرا زریں سندھ کی جانی مانی افسانہ نگار کے طور جانی جاتی ہیں

ہم ‘مہاجر’ سے ‘سندھی’ اپنی بنیادی شناخت ختم کئے بغیر ہوئے اور تقریباً سب ‘بنیادی طور پر غیر مقامیوں’ کی یہی روداد ہے، مگر سندھ کو اپنی دھرتی مانا، سمجھا اور اسکی خوبیوں کا اپنایا بھی

ہر خطے کے کچھ بنیادی اوصاف وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ میری نظر میں سندھ کی مٹی میں انکساری و عاجزی ہمیشہ سے پائی جاتی ہے۔ دوسرا یہاں کا باطن  ‘روحانیت’  میں گوندھا ہوا لگتا ہے۔ تیسرا تشدد کی جگہ عدم تعاون کو مزاحمت کا راستے کے طور پر اپنانے کی ایک تاریخ ہے۔

مٹی کے ساتھ جڑنے کے عمل کی اہمیت ہمارے ‘اردو بولنے والے بھائیوں’ کو سمجھنا ہوگی۔

یہ (کبھی) ایک ‘فارسی بولنے والے’ خاندان کا وہ فرد کہہ رہا ہے جس کے گھر سندھی و اردو بولنے میں آج بھی کوئی بید بھاؤ نہیں۔

اسی بارے میں: