سندھ میں بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے حکومت کا گرلز اسٹائپنڈ پروگرام ایک اہم تعلیمی اقدام ہے، جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد خاندانوں پر تعلیم کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا، بچیوں کو اسکول میں برقرار رکھنا اور خاص طور پر ان جماعتوں میں ڈراپ آؤٹ کم کرنا ہے جہاں پرائمری کے بعد ثانوی تعلیم کی طرف منتقلی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق یہ پروگرام 2006 سے سرکاری اسکولوں میں جاری ہے۔
یہ وظیفہ محض مالی امداد نہیں بلکہ بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک پالیسی اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق اس کے اہم مقاصد میں والدین پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ کم کرنا، بچیوں کو اسکول میں برقرار رکھنے کی ترغیب دینا، لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ کی شرح کم کرنا اور جماعت پنجم سے ششم اور جماعت دہم سے گیارہویں میں منتقلی کی شرح بہتر بنانا شامل ہے۔
ابتدائی طور پر یہ پروگرام سرکاری اسکولوں کی جماعت ششم سے دہم تک کی طالبات کے لیے بنایا گیا تھا۔ مختلف ادوار میں اس کے طریقہ کار اور اہلیت کے معیار میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ محکمہ تعلیم کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2013-14 میں 344,744 طالبات کو وظیفہ دیا گیا، جبکہ 2014-15 میں یہ تعداد 294,308 رہی۔ 2016-17 میں تقریباً 278,000 طالبات کے لیے وظیفے دیے گئے۔
2017 میں محکمہ تعلیم نے تقریباً 325,000 طالبات کو جماعت ششم سے دہم تک وظیفہ فراہم کرنے کے لیے تقسیم کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وقت کے ساتھ وظیفے کی ادائیگی کا نظام بھی تبدیل کیا گیا۔ ابتدا میں طالبات کو رقم پاکستان پوسٹ کے ذریعے منی آرڈر کی صورت میں دی جاتی تھی، لیکن ادائیگی میں تاخیر کی شکایات کے بعد محکمہ تعلیم نے برانچ لیس بینکنگ کی طرف منتقلی کی۔ مختلف ادوار میں ایس ایم ایس، بایومیٹرک تصدیق، اے ٹی ایم کارڈز اور پن میلرز جیسے طریقے بھی استعمال کیے گئے تاکہ رقم کی تقسیم زیادہ شفاف اور بروقت بنائی جاسکے۔
پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وقتاً فوقتاً اہلیت کے معیار کو تبدیل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر 2020-21 کے لیے محکمہ تعلیم نے جماعت ششم، نہم اور دہم کی طالبات کو اہل قرار دیا تھا اور کم از کم 35 فیصد حاضری کی شرط رکھی تھی۔ بعد کے برسوں میں بھی اہلیت کے معیار میں نظرثانی کی گئی۔
محکمہ تعلیم نے 11 مئی 2026 کو تعلیمی سال 2025-26 کے لیے گرلز اسٹائپنڈ کی اہلیت کے معیار سے متعلق نئی اطلاع جاری کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام کا طریقہ کار اب بھی وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ پروگرام اس لیے بھی اہم ہے کہ سندھ میں بچیوں کی تعلیم کے راستے میں صرف اسکول کی دستیابی ہی مسئلہ نہیں۔ غربت، سفری اخراجات، سماجی رکاوٹیں، سیلاب اور پرائمری کے بعد ثانوی اسکول تک رسائی جیسے عوامل بھی تعلیم جاری رکھنے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں محکمہ تعلیم کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق حکومت نے بچیوں کے ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کے لیے اسکولوں کی اپ گریڈیشن، داخلہ اور حاضری کی مہمات، بچیوں کے لیے سفری سہولت اور دیگر اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔
گرلز اسٹائپنڈ کی رقم بظاہر محدود محسوس ہوسکتی ہے، لیکن ایسے گھرانے جہاں یونیفارم، جوتے، کاپیاں، کتابیں اور روزانہ اسکول آنے جانے کے اخراجات بھی مشکل ہوں، وہاں سالانہ مالی معاونت بچی کی تعلیم جاری رکھنے میں عملی سہارا بن سکتی
ہے۔ خود محکمہ تعلیم کی ایک مثال میں ایک طالبہ نے بتایا کہ اسے ملنے والے وظیفے سے اس نے نئی یونیفارم خریدی اور اس رقم سے اس کے والدین پر تعلیم کے اخراجات کا بوجھ کم ہوا۔
سندھ حکومت کے لیے لڑکیوں کی تعلیم صرف وظیفے تک محدود نہیں۔ 2024 میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا تھا کہ حکومت اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے، بچیوں کے لیے اسکول تک رسائی بہتر بنانے اور انہیں ثانوی تعلیم مکمل کرنے میں مدد دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بچیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی کو بھی اہم قرار دیا تھا تاکہ دور دراز علاقوں کی طالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
سندھ اسمبلی میں وزیر تعلیم کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق گرلز اسٹائپنڈ کا بنیادی مقصد والدین پر بچیوں کی تعلیم کا مالی بوجھ کم کرنا، طالبات کو اسکول میں برقرار رکھنے کی ترغیب دینا اور ڈراپ آؤٹ کم کرنا ہے۔ اسی جواب میں بتایا گیا کہ 2022-23 میں وظیفہ وصول کرنے کی شرح 78.5 فیصد رہی۔
یوں دیکھا جائے تو گرلز اسٹائپنڈ پروگرام صرف چند ہزار روپے کی مالی امداد نہیں بلکہ سندھ میں بچیوں کی تعلیم کے تسلسل سے جڑا ہوا ایک وسیع تر پالیسی اقدام ہے۔ اس کی اصل کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاسکتی کہ کتنی طالبات کو رقم ملی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وظیفہ حاصل کرنے والی کتنی بچیاں اگلی جماعت میں داخل ہوئیں، کتنی نے اسکول مکمل کیا اور کتنی طالبات تعلیم چھوڑنے سے بچ گئیں۔
اگر مالی معاونت کو بہتر اسکولوں، محفوظ سفری سہولت، مناسب بنیادی سہولیات اور معیاری تعلیم کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ پروگرام سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
