Tag: محکمہ تعلیم سندھ

  • محکمہ تعلیم سندھ کا جونیئر سائنس ٹیچرز کی بھرتی، 55 نمبر لینے والے امیدواروں کو موقع ملے گا

    محکمہ تعلیم سندھ کا جونیئر سائنس ٹیچرز کی بھرتی، 55 نمبر لینے والے امیدواروں کو موقع ملے گا

    سندھ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں سائنس کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے جونیئر سائنس ٹیچرز کی بھرتی کا عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جونیئر سائنس ٹیچر، گریڈ 14 کی آسامیوں کے لیے ہونے والے تحریری ٹیسٹ میں کم از کم 55 نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو بھرتی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔

    جونیئر سائنس ٹیچرز کی یہ بھرتی کسی نئے بھرتی پروگرام کے بجائے پہلے سے جاری عمل کا حصہ ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے مئی 2025ء میں سندھ کے تمام اضلاع کے لیے جونیئر سائنس ٹیچر کی 1,237 آسامیوں کا اشتہار جاری کیا تھا۔

    ان آسامیوں کے لیے امیدوار کا سائنس گریجویٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا تھا، جبکہ کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی تھی۔ امیدواروں کے لیے عمر کی حد 21 سے 28 سال مقرر کی گئی تھی۔

    بھرتی کے سلسلے میں تحریری امتحان سکھر آئی بی اے کی ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے منعقد کیا گیا۔ جونیئر سائنس ٹیچر کا کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل تحریری ٹیسٹ 10 سے 12 اپریل 2026 کے دوران لیا گیا۔

    ٹیسٹ کے بعد امیدواروں کے لیے جوابی کلیدیں اور نتائج جاری کیے گئے، جبکہ اعتراضات اور نظرثانی کے عمل کے بعد حتمی نظرثانی شدہ نتیجہ بھی جاری کیا گیا۔

    جونیئر سائنس ٹیچرز کی بھرتی کے معاملے پر سندھ اسمبلی کی اساتذہ کی بھرتی اور انتظار کی فہرستوں سے متعلق خصوصی کمیٹی نے بھی غور کیا۔ 10 جولائی 2026 کو ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ تعلیم کے حکام نے جونیئر سائنس ٹیچرز کے تحریری ٹیسٹ کے نتائج اور بھرتی کے عمل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

    اجلاس میں ٹیسٹ کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ تحریری امتحان میں کم از کم 55 نمبر حاصل کرنے والے تمام امیدواروں کو بھرتی کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد کامیاب امیدواروں کی تقرری کے لیے متعلقہ محکمانہ کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

    حکومت سندھ کا مؤقف ہے کہ جونیئر سائنس ٹیچرز کی بھرتی کا مقصد سرکاری اسکولوں میں سائنس کے مضامین کے لیے اہل اساتذہ کی دستیابی بہتر بنانا اور طلبہ کو سائنس کی معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔

    سندھ کے سرکاری اسکولوں میں سائنس کے مضامین کی تدریس کے لیے اہل اساتذہ کی موجودگی کو اہم قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ سائنس کی بنیادی تعلیم طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، طب اور دیگر سائنسی شعبوں کی جانب آگے بڑھنے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔

    وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ کے مطابق جونیئر سائنس ٹیچرز کی بھرتی کا موجودہ مرحلہ پہلے سے جاری بھرتی کے عمل، امیدواروں کے تحریری ٹیسٹ اور اس کے جاری کردہ نتائج کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

    اب اگلا مرحلہ ان امیدواروں کی محکمانہ جانچ پڑتال اور تقرری سے متعلق کارروائی مکمل کرنا ہے جو مقررہ معیار کے مطابق ٹیسٹ میں 55 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرچکے ہیں۔

    یوں مئی 2025 میں 1,237 گریڈ 14 جونیئر سائنس ٹیچر کی آسامیوں سے شروع ہونے والا بھرتی کا عمل تحریری امتحان، نتائج اور نظرثانی کے مراحل سے گزرنے کے بعد اب تقرری کے مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد سندھ کے سرکاری اسکولوں میں سائنس کی تدریس کے لیے اہل افرادی قوت فراہم کرنا ہے۔

  • محکمہ تعلیم سندھ کا گرلز اسٹائپنڈ پروگرام: بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اہم اقتدام

    محکمہ تعلیم سندھ کا گرلز اسٹائپنڈ پروگرام: بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اہم اقتدام

    سندھ میں بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے حکومت کا گرلز اسٹائپنڈ پروگرام ایک اہم تعلیمی اقدام ہے، جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

    اس پروگرام کا بنیادی مقصد خاندانوں پر تعلیم کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا، بچیوں کو اسکول میں برقرار رکھنا اور خاص طور پر ان جماعتوں میں ڈراپ آؤٹ کم کرنا ہے جہاں پرائمری کے بعد ثانوی تعلیم کی طرف منتقلی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق یہ پروگرام 2006 سے سرکاری اسکولوں میں جاری ہے۔

    یہ وظیفہ محض مالی امداد نہیں بلکہ بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک پالیسی اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق اس کے اہم مقاصد میں والدین پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ کم کرنا، بچیوں کو اسکول میں برقرار رکھنے کی ترغیب دینا، لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ کی شرح کم کرنا اور جماعت پنجم سے ششم اور جماعت دہم سے گیارہویں میں منتقلی کی شرح بہتر بنانا شامل ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ پروگرام سرکاری اسکولوں کی جماعت ششم سے دہم تک کی طالبات کے لیے بنایا گیا تھا۔ مختلف ادوار میں اس کے طریقہ کار اور اہلیت کے معیار میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ محکمہ تعلیم کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2013-14 میں 344,744 طالبات کو وظیفہ دیا گیا، جبکہ 2014-15 میں یہ تعداد 294,308 رہی۔ 2016-17 میں تقریباً 278,000 طالبات کے لیے وظیفے دیے گئے۔

    2017 میں محکمہ تعلیم نے تقریباً 325,000 طالبات کو جماعت ششم سے دہم تک وظیفہ فراہم کرنے کے لیے تقسیم کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    وقت کے ساتھ وظیفے کی ادائیگی کا نظام بھی تبدیل کیا گیا۔ ابتدا میں طالبات کو رقم پاکستان پوسٹ کے ذریعے منی آرڈر کی صورت میں دی جاتی تھی، لیکن ادائیگی میں تاخیر کی شکایات کے بعد محکمہ تعلیم نے برانچ لیس بینکنگ کی طرف منتقلی کی۔ مختلف ادوار میں ایس ایم ایس، بایومیٹرک تصدیق، اے ٹی ایم کارڈز اور پن میلرز جیسے طریقے بھی استعمال کیے گئے تاکہ رقم کی تقسیم زیادہ شفاف اور بروقت بنائی جاسکے۔

    پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وقتاً فوقتاً اہلیت کے معیار کو تبدیل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر 2020-21 کے لیے محکمہ تعلیم نے جماعت ششم، نہم اور دہم کی طالبات کو اہل قرار دیا تھا اور کم از کم 35 فیصد حاضری کی شرط رکھی تھی۔ بعد کے برسوں میں بھی اہلیت کے معیار میں نظرثانی کی گئی۔

    محکمہ تعلیم نے 11 مئی 2026 کو تعلیمی سال 2025-26 کے لیے گرلز اسٹائپنڈ کی اہلیت کے معیار سے متعلق نئی اطلاع جاری کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام کا طریقہ کار اب بھی وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

    یہ پروگرام اس لیے بھی اہم ہے کہ سندھ میں بچیوں کی تعلیم کے راستے میں صرف اسکول کی دستیابی ہی مسئلہ نہیں۔ غربت، سفری اخراجات، سماجی رکاوٹیں، سیلاب اور پرائمری کے بعد ثانوی اسکول تک رسائی جیسے عوامل بھی تعلیم جاری رکھنے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں محکمہ تعلیم کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق حکومت نے بچیوں کے ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کے لیے اسکولوں کی اپ گریڈیشن، داخلہ اور حاضری کی مہمات، بچیوں کے لیے سفری سہولت اور دیگر اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔

    گرلز اسٹائپنڈ کی رقم بظاہر محدود محسوس ہوسکتی ہے، لیکن ایسے گھرانے جہاں یونیفارم، جوتے، کاپیاں، کتابیں اور روزانہ اسکول آنے جانے کے اخراجات بھی مشکل ہوں، وہاں سالانہ مالی معاونت بچی کی تعلیم جاری رکھنے میں عملی سہارا بن سکتی

    ہے۔ خود محکمہ تعلیم کی ایک مثال میں ایک طالبہ نے بتایا کہ اسے ملنے والے وظیفے سے اس نے نئی یونیفارم خریدی اور اس رقم سے اس کے والدین پر تعلیم کے اخراجات کا بوجھ کم ہوا۔

    سندھ حکومت کے لیے لڑکیوں کی تعلیم صرف وظیفے تک محدود نہیں۔ 2024 میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا تھا کہ حکومت اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے، بچیوں کے لیے اسکول تک رسائی بہتر بنانے اور انہیں ثانوی تعلیم مکمل کرنے میں مدد دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بچیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی کو بھی اہم قرار دیا تھا تاکہ دور دراز علاقوں کی طالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

    سندھ اسمبلی میں وزیر تعلیم کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق گرلز اسٹائپنڈ کا بنیادی مقصد والدین پر بچیوں کی تعلیم کا مالی بوجھ کم کرنا، طالبات کو اسکول میں برقرار رکھنے کی ترغیب دینا اور ڈراپ آؤٹ کم کرنا ہے۔ اسی جواب میں بتایا گیا کہ 2022-23 میں وظیفہ وصول کرنے کی شرح 78.5 فیصد رہی۔

    یوں دیکھا جائے تو گرلز اسٹائپنڈ پروگرام صرف چند ہزار روپے کی مالی امداد نہیں بلکہ سندھ میں بچیوں کی تعلیم کے تسلسل سے جڑا ہوا ایک وسیع تر پالیسی اقدام ہے۔ اس کی اصل کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاسکتی کہ کتنی طالبات کو رقم ملی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وظیفہ حاصل کرنے والی کتنی بچیاں اگلی جماعت میں داخل ہوئیں، کتنی نے اسکول مکمل کیا اور کتنی طالبات تعلیم چھوڑنے سے بچ گئیں۔

    اگر مالی معاونت کو بہتر اسکولوں، محفوظ سفری سہولت، مناسب بنیادی سہولیات اور معیاری تعلیم کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ پروگرام سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

  • سندھ کے سرکاری اسکولز کے ہیڈ ماسٹرز کے لیے مکمل گائیڈ، اسکول اسپیسیفک بجٹ کہاں اور کیسے خرچ کریں؟ کس مد میں کیا خرید سکتے ہیں اور کیا نہیں؟ آسان وضاحت

    سندھ کے سرکاری اسکولز کے ہیڈ ماسٹرز کے لیے مکمل گائیڈ، اسکول اسپیسیفک بجٹ کہاں اور کیسے خرچ کریں؟ کس مد میں کیا خرید سکتے ہیں اور کیا نہیں؟ آسان وضاحت

    یہ ایک عام ہدایت نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری کی کہانی ہے۔ ایک سرکاری اسکول، اس کے ہیڈ ماسٹر، اور ایک ایسا نظام جس کے ذریعے ایک اسکول بدل بھی سکتا ہے اور بگڑ بھی سکتا ہے۔ فرق صرف اس بات کا

    ہے کہ بجٹ کو سمجھ کر استعمال کیا جائے یا بغیر اصول کے۔

    بحیثیت ہیڈ ماسٹر، آپ صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کے نگہبان ہیں۔ حکومت سندھ نے آپ کو اسکول اسپیسیفک بجٹ دیا ہے تاکہ آپ اپنے اسکول کے ماحول، سہولیات اور معیار تعلیم کو بہتر بنا

    سکیں۔ مگر یہ بجٹ صرف خرچ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ درست جگہ اور درست مد میں خرچ کرنے کے لیے ہے۔ ہر خرچ ایک اصول کے تحت ہوتا ہے، اور ہر اصول کی خلاف ورزی آڈٹ اعتراض بن سکتی ہے۔

    اس گائیڈ میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ بجٹ کن مدوں میں تقسیم ہے، ہر مد میں کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں کیا جا سکتا، اور سب سے اہم یہ کہ اس پورے عمل کو آپ ایپ کے ذریعے کیسے مکمل کریں گے۔ یہ صرف معلومات نہیں بلکہ ایک مکمل طریقہ کار ہے جو آپ کے ہر قدم کو واضح کرے گا۔

    مد A13370 عمارت کی دیکھ بھال اور مرمت

    اگر آپ کے اسکول کی دیواروں پر رنگ اتر چکا ہے، چھت سے پانی ٹپک رہا ہے، واش روم خراب حالت میں ہے، یا پنکھے اور بلب کام نہیں کر رہے، تو یہ تمام کام اسی مد کے تحت آئیں گے۔ اسی طرح باؤنڈری وال کی مرمت، اسکول کے گیٹ کی درستگی یا اسکول کے نام کے بورڈ کی مرمت بھی اسی مد سے کی جائے گی۔ یہاں ایک اہم اصول یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ مد صرف موجودہ ڈھانچے کی مرمت کے لیے ہے۔ اگر آپ کوئی نئی تعمیرات کرانا چاہتے ہیں تو وہ اس مد میں نہیں آئے گا۔

    مد A03901 : اسٹیشنری، چھوٹی الیکٹرانک اشیا کی خریداری

    یہ وہ مد ہے جو روزمرہ تدریسی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے ضروری ہے۔ اس میں امتحانی کاپیاں، رجسٹر، کاغذ، فائلیں، فولڈر، رپورٹ کارڈ، ڈرائنگ شیٹس، قلم، پینسل، چاک اور وائٹ بورڈ مارکر شامل ہیں۔ یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ چھوٹی الیکٹرانک اشیا جیسے یو ایس بی ڈرائیو اس مد میں آ سکتی ہیں، مگر ٹونر اور کارٹریج اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے خریداری سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ چیز کس مد میں آتی ہے تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔

    مد A09701 : نئے فرنیچر کی خریداری

    اگر آپ کے اسکول میں نئے ڈیسک، کرسیاں، بینچ، میزیں، الماریاں، بک شیلف یا نوٹس بورڈ کی ضرورت ہے تو یہ سب اسی مد کے تحت خریدا جائے گا۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر خریدی گئی چیز کو فوراً اثاثہ رجسٹر میں درج کرنا ضروری ہے۔ یہ صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ قانونی تقاضا ہے۔ اگر کوئی چیز پہلے سے موجود ہے اور صرف اس کی مرمت کی ضرورت ہے، تو اسے اس مد میں شامل کرنا غلط ہوگا۔

    مد A13201: فرنیچر کی مرمت

    اگر کسی ڈیسک کا فریم ٹوٹ گیا ہے، کسی بینچ کی لکڑی خراب ہو گئی ہے، کسی الماری کا دروازہ درست نہیں، یا کسی میز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، تو یہ سب اسی مد میں آئے گا۔ اس میں ویلڈنگ، لیمینیشن، پالش، قبضے کی تبدیلی اور دیگر مرمتی کام شامل ہیں۔ یہاں اصول بہت سادہ ہے۔ اگر چیز پہلے سے موجود ہے تو مرمت اسی مد میں ہوگی۔ اگر وہ ناقابل استعمال ہو چکی ہے تو اسے باقاعدہ طریقہ کار کے ذریعے ختم کریں اور پھر نئی خریداری A09701 کے تحت کریں۔ ان دونوں مدوں کو آپس میں ملانا ایک بڑی غلطی ہے اور آڈٹ اعتراض کا سبب بن سکتی ہے۔

    مد A03942 : لیب، کھیل، صحت اور صفائی کے سامان کی خریداری

    اگر آپ سائنس لیب کے لیے سامان خریدنا چاہتے ہیں، کھیلوں کے لیے کرکٹ بیٹ یا دیگر اشیا لینی ہیں، فرسٹ ایڈ کِٹ یا ادویات خریدنی ہیں، یا صفائی کے لیے جھاڑو، پوچا اور دیگر سامان لینا ہے، تو یہ سب اسی مد میں آئے گا۔ اسی طرح پرنٹر کارٹریج بھی اسی میں شامل ہے۔ مگر ایک واضح حد ہے کہ بڑی مشینری جیسے کمپیوٹر، پروجیکٹر یا جنریٹر اس مد میں نہیں خریدے جا سکتے۔

    مد A03970: متفرق اخراجات کے لیے

    یہ ایک خاص مد ہے اور اسے ہمیشہ آخری حل کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی خرچ واقعی کسی اور مد میں نہیں آتا، تب ہی اسے یہاں شامل کریں۔ اس میں سالانہ تقریبات، انعامات کی تقسیم، والدین و اساتذہ اجلاس، قومی دنوں کی تقریبات، سرکاری میٹنگز کے دوران چائے اور ریفریشمنٹ، اور اخبارات یا تعلیمی جرائد کی سبسکرپشن شامل ہو سکتی ہیں۔ مگر اس مد کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ ہر خرچ کے ساتھ تحریری جواز دینا لازمی ہے۔ آپ کو واضح طور پر لکھنا ہوگا کہ یہ خرچ کسی اور مد میں کیوں

    تمام مدوں کا استعمال کیسے کریں؟

    اب سوال یہ ہے کہ ان مدوں کو استعمال کیسے کیا جائے۔ یہاں آتا ہے سات مراحل پر مشتمل طریقہ کار، جو ہر خرچ کے ساتھ لازم ہے۔ سب سے پہلے ضرورت کی نشاندہی کریں۔ یہ طے کریں کہ اسکول کو کیا درکار ہے اور کون سی مد اس پر لاگو ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر کام مرمت یا بہتری سے متعلق ہے تو کام شروع کرنے سے پہلے موجودہ حالت کی تصویر لیں۔ یہ تصویر آپ کے ریکارڈ کا حصہ ہوگی اور ثبوت کے طور پر استعمال ہوگی۔

    پھر بجٹ کی دستیابی چیک کریں۔ یہ دیکھیں کہ متعلقہ مد میں کتنی رقم باقی ہے۔ اس کے بعد اگر خریداری ایک خاص حد سے زیادہ ہے تو کم از کم تین اقتباسات حاصل کریں۔ یہ مرحلہ اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے مگر یہی سب سے اہم ہے۔ اس کے بغیر خریداری کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔

    پھر خریداری کریں اور سامان کی مکمل جانچ کریں۔ جب تک آپ مطمئن نہ ہوں، ڈیلیوری رسید پر دستخط نہ کریں۔ اس کے بعد کام مکمل ہونے پر یا سامان اپنی جگہ پر رکھے جانے کے بعد ایک اور تصویر لیں۔ یہ تصویر اس بات کا ثبوت ہے کہ کام مکمل ہو چکا ہے۔

    آخر میں سب سے اہم مرحلہ آتا ہے، اور وہ ہے اسکول اسپیسیفک بجٹ موبائل ایپ میں اندراج۔ آپ کو تمام اخراجات درج کرنے ہیں، پہلے اور بعد کی تصاویر اپلوڈ کرنی ہیں، اور اپنی یوٹیلائزیشن جمع کرانی ہے۔ یاد رکھیں، جو خرچ ایپ میں جمع نہیں کیا جاتا، وہ سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

    یہ پورا نظام اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے، اور ہر خرچ ریکارڈ میں ہو۔ اگر کسی بھی مرحلے میں شک ہو، تو خرچ کرنے سے پہلے اپنے ضلعی تعلیمی افسر سے مشورہ کریں۔ بعد میں وضاحت دینا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔

    یہ صرف بجٹ استعمال کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے جو آپ کے اسکول، آپ کے طلبہ اور آپ کے اپنے کردار سے جڑی ہوئی ہے۔ درست فیصلے نہ صرف اسکول کو بہتر بناتے ہیں بلکہ ایک مثال بھی قائم کرتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی معلوماتی اور رہنمائی پر مبنی مواد آپ تک پہنچاتا رہے گا تاکہ ہر ذمہ دار فرد اپنے کردار کو بہتر انداز میں نبھا سکے۔