تعلیم کے نام پر ملیر کی مٹی کا ماتم: ایجوکیشن سٹی، اجڑتے گوٹھ اور خاموش عوامی نمائندے

ملیر

ملیر کی مٹی آج رو رہی ہے۔ یہ وہی مٹی ہے جس نے صدیوں تک کراچی کو سبزیاں، پھل، کھجوریں، دودھ اور روزگار دیا۔ یہی وہ زمین ہے جس کے سینے پر بلوچ اور سندھی خاندانوں کی نسلیں پروان چڑھیں، جس کے باغوں میں بچوں کی ہنسی گونجتی رہی، جس کے کنوؤں سے پیاس بجھتی رہی اور جس کے قبرستانوں میں بزرگ نسلوں سے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ آج اسی مٹی سے ایک سوال پوچھا جا رہا ہے، تم آخر کس کی ہو؟

ترقی کے نام پر ملیر میں ایک منصوبہ موجود ہے جسے ایجوکیشن سٹی کہا جاتا ہے۔ تعلیم کا نام سن کر خوشی ہونی چاہیے، لیکن ملیر کے گوٹھوں کے رہنے والوں کی آنکھوں میں اس نام کے ساتھ خوشی کے بجائے خوف کیوں ہے؟ اگر یہاں واقعی تعلیم کا شہر بننا ہے تو پھر مقامی لوگوں کے گھر، باغات، زرعی زمینیں، روزگار، مسجدیں اور قدیم آبادیاں خطرے میں کیوں محسوس ہو رہی ہیں؟

یہ سوال اب صرف فقیر محمد بلوچ گوٹھ کا سوال نہیں رہا بلکہ ملیر کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔

ایجوکیشن سٹی کی اصل تاریخ کیا ہے؟

سب سے پہلے ایک اہم تاریخی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے۔ ایجوکیشن سٹی کا تصور 2024 میں پہلی مرتبہ وجود میں نہیں آیا۔ سندھ اسمبلی نے سندھ ایجوکیشن سٹی ایکٹ 2013 منظور کیا تھا، جس کے تحت دیہہ چوہڑ، ملیر میں ہزاروں ایکڑ زمین کو ایجوکیشن سٹی کے لیے مختص کرنے کا قانونی فریم ورک بنایا گیا۔

بعد ازاں مختلف ادوار میں اس منصوبے کے حوالے سے عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز، ہسپتالوں، رہائشی سہولیات، سڑکوں، پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے دعوے سامنے آتے رہے۔ 2024 میں اس منصوبے کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولیات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر حکومتی سطح پر پیش رفت سامنے آئی، جس کے بعد ملیر کے مقامی لوگوں کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ایجوکیشن سٹی کا نام کب رکھا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے برس گزرنے کے باوجود اس منصوبے نے ملیر کے عام لوگوں کی زندگی میں کیا حقیقی تبدیلی پیدا کی؟

تعلیم کا شہر یا زمین کا نیا باب؟

اگر ہزاروں ایکڑ زمین تعلیم کے لیے مختص کی گئی ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس زمین پر کتنے مکمل تعلیمی ادارے قائم ہوئے؟ کتنی یونیورسٹیاں مکمل طور پر فعال ہیں؟ کتنے تحقیقی مراکز قائم ہوئے؟ ملیر کے مقامی بچوں کے لیے کتنے تعلیمی مواقع پیدا ہوئے؟ کتنے مقامی نوجوانوں کو روزگار ملا؟

اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جو زمین تعلیم کے نام پر حاصل کی گئی، کیا اس کا ہر ایک ایکڑ آج بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟

اگر ان سوالات کے واضح اور شفاف جوابات عوام کے سامنے موجود ہیں تو انہیں منظرعام پر لایا جائے۔ کیونکہ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں تعلیم کے خوبصورت نام کے پیچھے زمین کے استعمال، جائیداد، تجارتی سرگرمیوں یا طاقتور مفادات کا کوئی نیا کھیل تو نہیں چل رہا۔

زمین تعلیم کے لیے ہے یا نئی جاگیرداری کے لیے؟

ملیر کے مقامی لوگوں کا سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ تعلیم کے نام پر ان کی زرعی زمینوں اور قدیم آبادیوں کو ایسے منصوبوں کے حصے میں تبدیل نہ کردیا جائے جن کا اصل فائدہ عام آدمی کے بجائے بااثر طبقات کو حاصل ہو۔

اگر کسی زمین پر تعلیمی ادارہ نہیں بنتا، لیکن اس کے گرد سڑکیں، زمین کی تقسیم، تجارتی سرگرمیاں اور زمین کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر سوال ضرور اٹھے گا کہ اصل مقصد تعلیم ہے یا زمین؟

یہی وجہ ہے کہ حکومت کو عوام کے سامنے مکمل تفصیلات رکھنی چاہئیں۔ کس کو کتنی زمین دی گئی؟ کس مقصد کے لیے دی گئی؟ کب دی گئی؟ اس پر کیا تعمیر ہونا تھی؟ کتنا کام مکمل ہوا؟ کتنی رقم خرچ ہوئی؟ اور اگر مقررہ مقصد پورا نہیں ہوا تو زمین واپس لینے کا قانونی طریقہ کیا ہے؟

یہ سوالات کسی مخالفت یا سیاست کے نہیں بلکہ عوامی شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے سوالات ہیں۔

گوٹھوں پر کارروائیاں، ترقی کا یہ کیسا چہرہ ہے؟

فقیر محمد بلوچ گوٹھ میں مبینہ کارروائی نے ملیر کے لوگوں کے زخم مزید گہرے کردیے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ایجوکیشن سٹی انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھروں، باغات، فارم ہاؤس اور ایک مقامی مسجد کو مبینہ طور پر مسمار کیا۔

اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف چند دیواروں اور چھتوں کا گرنا نہیں۔ ایک گھر گرتا ہے تو صرف اینٹیں نہیں گرتیں بلکہ ایک خاندان کی تاریخ مٹتی ہے۔ ایک باغ کٹتا ہے تو صرف درخت نہیں گرتا بلکہ ایک مزدور کا روزگار، ایک کسان کی امید اور آنے والی نسل کا حصہ ختم ہوتا ہے۔ ایک مسجد مسمار ہوتی ہے تو صرف ایک عمارت ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک آبادی کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم حصہ متاثر ہوتا ہے۔

مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ کارروائی ایسے وقت کی گئی جب لوگ رات گئے تک اپنے گھروں اور زمینوں کی حفاظت کے لیے جاگتے رہے اور تھکن کے باعث سو گئے۔

ان الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر انتظامیہ کے خلاف لگائے گئے الزامات درست نہیں تو انتظامیہ کو حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں، اور اگر الزامات درست ہیں تو ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔

ملیر کی زمین صرف زمین نہیں

کسی سرکاری نقشے میں ملیر کی زمین شاید صرف ایک عدد ہو، ہزاروں ایکڑ۔ لیکن ملیر کے کسان کے لیے یہ صرف عدد نہیں۔ ہر ایک ایکڑ کے پیچھے ایک خاندان کی داستان ہے۔

کسی جگہ بزرگوں کا لگایا ہوا آم کا باغ ہے۔ کسی جگہ کھجور کے درخت ہیں۔ کسی جگہ کنواں ہے۔ کسی جگہ مویشیوں کا باڑا ہے۔ کسی جگہ قبرستان ہے۔ اور کہیں ایک ایسا قدیم گوٹھ ہے جہاں ایک خاندان کی کئی نسلیں آباد ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب کسی مشین کا بلیڈ ایک گھر کی دیوار سے ٹکراتا ہے تو صرف دیوار نہیں ٹوٹتی بلکہ ایک پوری زندگی زخمی ہوتی ہے۔

ملیر کی سبز پٹی کا مستقبل

ملیر کراچی کی اہم زرعی پٹی رہی ہے۔ اگر زرعی زمین مسلسل ختم ہوتی رہی، باغات کاٹے گئے، قدرتی پانی کے راستے بند ہوئے اور زمین کنکریٹ میں تبدیل ہوتی گئی تو اس کا اثر صرف ملیر تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کا اثر پورے کراچی پر پڑے گا۔

آج کراچی کے بازاروں میں ملیر کی سبزیاں اور پھل پہنچتے ہیں۔ ہزاروں خاندان زراعت، باغبانی، مویشی پالنے اور اس سے وابستہ کاروبار سے اپنا روزگار کماتے ہیں۔

اگر یہ زمین ختم ہوگئی تو سوال یہ ہے کہ کراچی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے شہر کہاں جائے گا؟ اور اگر سبز زمین ختم ہوگئی تو کراچی کے پہلے ہی شدید ماحولیاتی مسائل مزید سنگین نہیں ہوں گے؟

یہی وجہ ہے کہ ملیر کے مسئلے کو صرف زمین کے تنازعے کے طور پر دیکھنا خطرناک ہوگا۔ یہ ماحول، خوراک، روزگار، ثقافت اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے۔

منتخب نمائندے خاموش کیوں ہیں؟

ملیر کے عوام ووٹ دیتے ہیں۔ وہ نمائندوں کو اس امید کے ساتھ منتخب کرتے ہیں کہ ان کے مسائل اسمبلیوں، بلدیاتی اداروں اور حکومت کے ایوانوں تک پہنچیں گے۔

وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے گھر محفوظ رہیں گے، ان کی زمینیں محفوظ رہیں گی، ان کے بچوں کو تعلیم ملے گی، انہیں پانی، بجلی، صحت اور روزگار کی سہولتیں حاصل ہوں گی۔ لیکن جب انہی لوگوں کی زمینیں اور گھر خطرے میں پڑ جائیں تو منتخب نمائندوں کی آواز کہاں ہے؟

یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ہر اس نمائندے سے ہے جو ملیر کے عوام کے ووٹ سے ایوانوں تک پہنچا ہے۔

اگر ایجوکیشن سٹی واقعی ملیر کے لیے ترقی کا منصوبہ ہے تو منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے درمیان آئیں، منصوبے کی تفصیلات بتائیں، نقشے عوام کے سامنے رکھیں، مقامی آبادی کے لیے تعلیم، روزگار اور دیگر سہولتوں کی ضمانتیں واضح کریں۔

اور اگر عوام کے خدشات غلط ہیں تو انہیں دور کرنے کی ذمہ داری بھی انہی نمائندوں کی ہے۔ خاموشی ہمیشہ سوالات کو ختم نہیں کرتی، بعض اوقات خاموشی سوالات کو مزید گہرا کردیتی ہے۔

اصل خطرہ آج نہیں، کل ہے

آج فقیر محمد بلوچ گوٹھ ہے، کل کوئی دوسرا گوٹھ ہوسکتا ہے۔ آج ایک باغ ہے، کل دوسرا باغ ہوسکتا ہے۔ آج ایک کسان اپنی زمین بچانے کے لیے کھڑا ہے، کل ہزاروں خاندان اپنی آبائی زمینوں کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر ہوسکتے ہیں۔

یہ مسئلہ اب کسی ایک خاندان، ایک گوٹھ یا ایک برادری کا نہیں رہا۔ یہ ملیر کے اجتماعی مستقبل کا مسئلہ ہے۔

اور اگر آج اس معاملے کو قانون، انصاف اور مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو کل صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

تعلیم کی مخالفت نہیں، ناانصافی کی مخالفت ہے

ملیر کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دشمنی نہیں۔ انہیں یونیورسٹیوں سے کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں تحقیقی مراکز سے کوئی مسئلہ نہیں۔ انہیں ترقی سے بھی کوئی اختلاف نہیں۔

ان کا سوال صرف یہ ہے کہ تعلیم ضرور بنائیں، لیکن لوگوں کے گھر اجاڑ کر نہیں۔ یونیورسٹیاں ضرور بنائیں، لیکن کسانوں کی زمین چھین کر نہیں۔ ترقی ضرور کریں، لیکن مقامی آبادی کو بے گھر کرکے نہیں۔

ایجوکیشن سٹی ضرور بنائیں، لیکن ملیر کو ایجوکیشن سٹی کی قیمت نہ بنائیں۔

ترقی وہ ہوتی ہے جس میں انسان مرکز میں ہو۔ ترقی وہ ہوتی ہے جس سے مقامی لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ تعلیم وہ ہوتی ہے جو انسان کو اپنے حقوق کا شعور دے، نہ کہ ایسی ترقی جو انسان سے اس کی زمین، گھر، روزگار اور شناخت چھین لے۔

حکومت کے سامنے چند بنیادی سوالات

اب وقت آگیا ہے کہ سندھ حکومت اور ایجوکیشن سٹی انتظامیہ عوام کے سامنے مکمل حقائق رکھیں۔

ایجوکیشن سٹی کے لیے مختص کل زمین کتنی ہے؟ اس میں سے کتنی زمین پر واقعی تعلیمی ادارے قائم ہیں؟ کتنی زمین خالی ہے؟ کتنی زمین مختلف اداروں یا افراد کو الاٹ کی گئی؟ الاٹمنٹ کی شرائط کیا ہیں؟ کیا تمام زمین مقررہ تعلیمی مقصد کے لیے استعمال ہورہی ہے؟

مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا طریقہ کار موجود ہے؟ قدیم گوٹھوں، قبرستانوں، مساجد، زرعی زمینوں اور باغات کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے؟ اور سب سے اہم، کیا ملیر کے مقامی لوگوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں شامل کیا گیا ہے؟

یہ سوالات آج جواب مانگ رہے ہیں۔

ملیر کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ملیر صرف کراچی کا ایک جغرافیائی حصہ نہیں۔ ملیر ایک تاریخ ہے۔ ملیر ایک تہذیب ہے۔ ملیر ایک سبز پٹی ہے۔ ملیر ہزاروں محنت کش خاندانوں کا روزگار ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، ملیر آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

اگر آج ہم اس امانت کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتا دیکھتے رہے تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے صرف ایک سوال کریں گی۔

جب ہمارے گوٹھ اجڑ رہے تھے، باغ کٹ رہے تھے، زمینیں ختم ہورہی تھیں اور لوگوں کے گھر مسمار کیے جارہے تھے، تب آپ کہاں تھے؟

ملیر کی مٹی آج یہی سوال پوچھ رہی ہے۔ اور اس سوال کا جواب صرف حکومت کو نہیں، ہم سب کو دینا ہوگا۔

اسی بارے میں: