[rank_math_breadcrumb]

کراچی کی گرمی میں 36 سالہ کسووری، پاکستان کے نایاب پرندوں میں سے ایک ک چڑیاگھر انتظامیہ کیسے خیال رکھتی ہے؟

پاکستان میں موجود کسووریوں کی تعداد صرف دو بتائی جاتی ہے، ایک کراچی چڑیا گھر میں اور دوسری لاہور چڑیا گھر میں۔ لیکن کراچی میں موجود یہ کسووری محض ایک نایاب پرندہ نہیں، بلکہ شہر کی کئی نسلوں کے سامنے پلنے والی ایک زندہ تاریخ ہے۔

کراچی چڑیا گھر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہاں موجود کسووری کی عمر 36 سال ہے اور اسے چڑیا گھر کا قدیم ترین مقیم جانور قرار دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ پرندہ تقریباً 32 سال قبل کراچی چڑیا گھر لایا گیا تھا، جبکہ اس کی قید میں عمر 40 سال تک پہنچ سکتی ہے۔

کسووری دنیا کے بڑے اڑ نہ سکنے والے پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے سر پر ہیلمٹ نما سخت ساخت ہوتی ہے جسے کیسک کہا جاتا ہے، جبکہ اس کی نیلی اور سرخ گردن، سیاہ پروں اور طاقتور ٹانگیں اسے دنیا کے منفرد ترین پرندوں میں شامل کرتی ہیں۔

یہ پرندہ اڑ نہیں سکتا، لیکن اس کی طاقتور ٹانگوں پر موجود تیز پنجے اسے انتہائی خطرناک بنا سکتے ہیں۔ کسووری بنیادی طور پر پھل خور پرندہ ہے اور جنگلات میں پورا پھل نگلنے کے بعد بیجوں کو دور تک پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے اسے جنگلات کے اہم ترین بیج پھیلانے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

کسووری کا قدرتی مسکن نیو گنی کے گھنے بارانی جنگلات اور شمال مشرقی آسٹریلیا کے علاقے ہیں۔ ایسے ماحول سے تعلق رکھنے والے پرندے کا کراچی جیسے گرم، خشک اور گنجان آباد شہر میں 36 سال تک زندہ رہنا یقیناً حیران کن ہے۔

اس سوال کا جواب مسلسل دیکھ بھال میں پوشیدہ ہے۔ کراچی چڑیا گھر کی سرکاری معلومات کے مطابق جانوروں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹر، زولوجسٹ، پیرا ویٹ اور تربیت یافتہ زو کیپرز سمیت فنی عملہ خدمات انجام دیتا ہے۔ کسووری کی خوراک میں چقندر، کھیرہ، سیب، کیلا اور دیگر غذائیں شامل ہیں۔

کسووری جیسے نایاب اور حساس پرندے کے لیے صرف خوراک کافی نہیں ہوتی۔ محفوظ ماحول، مناسب جگہ، متوازن غذا، صحت کی مسلسل نگرانی اور تربیت یافتہ عملہ اس کی طویل بقا میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

کسووری کراچی چڑیا گھر میں پہلی بار کب آیا، اس حوالے سے دستیاب ریکارڈز میں معمولی فرق ملتا ہے، تاہم چڑیا گھر کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ اسے تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہاں موجود بتاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کی کئی نسلیں اس منفرد پرندے کو ایک ہی جگہ دیکھتی چلی آرہی ہیں۔

کراچی کی تپتی گرمی، لاکھوں کی آبادی اور مسلسل شور کے درمیان یہ 36 سالہ کسووری ایک زندہ یادگار کی طرح موجود ہے۔ یہ پرندہ صرف ایک نایاب جانور کی موجودگی کی علامت نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ تحفظ، ماہر نگہداشت اور مناسب انتظام کے ذریعے غیر معمولی جنگلی حیات کو قدرتی مسکن سے دور بھی طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اور شاید یہی اس کسووری کی سب سے بڑی کہانی ہے، ایک ایسا پرندہ جو اڑ نہیں سکتا، مگر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کراچی کے آسمان تلے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں: