جب روشنیوں کا شہر تعمیر ہو رہا تھا: قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کی بلدیات اور اس کے درخشاں قائدین

کراچی

آج کا کراچی جتنا بے ہنگم، وسیع اور پیچیدہ نظر آتا ہے، سو سال قبل یہ برطانوی ہند کا سب سے بہترین منصوبہ بند، صاف ستھرا اور جدید ترین ساحلی شہر بننے کی شاہراہ پر گامزن تھا۔

سندھی (لاسی اور کچھی) ملاحوں اور ماہی گیروں کے ایک چھوٹے سے بندرگاہی قصبے سے دنیا کی بہترین بین الاقوامی بندرگاہ اور جدید بلدیاتی ماڈل میں ڈھالنے کا سہرا اس کی تاریخی میونسپلٹی اور ان کثیرالمذاہب قائدین کے سر ہے جنہوں نے سیاست سے بالاتر ہو کر صرف ‘شہر کی خدمت’ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔

کراچی کی بلدیاتی تاریخ محض دفتری ریکارڈ کا نام نہیں، بلکہ یہ پارسی، ہندو، مسلم اور کرسچن قیادت کے اس اشتراکِ عمل کی داستان ہے جس نے ایک ریگستانی خطے کو ‘مشرق کا ملکہ’ بنا دیا۔

میونسپل کمیٹی سے کارپوریشن تک کا تاریخی سفر

کراچی میں بلدیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا۔ جنوری 1885 میں کراچی میونسپل کمیٹی قائم کی گئی، جس کی بنیادی ذمہ داری شہر کے روزمرہ انتظامی امور، صفائی، سڑکوں کی دیکھ بھال، مالیاتی آمدنی جمع کرنا اور نجی املاک کے مالکان پر ہاؤس ٹیکس عائد کرنا تھی۔

بلدیاتی ادارے کے ڈھانچے میں اہم موڑ سن 1910 میں آیا جب ممتاز برطانوی عہدیدار سر چارلس میولس سال 1910 تا 1911 کے لیے کراچی میونسپل کمیٹی کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ ان کے بعد مقامی ہندوستانی قیادت نے باگ ڈور سنبھالی اور غلام علی چھاگلہ میونسپلٹی کے صدر بنے۔ یاد رہے کہ یہ وہی تاریخی شخصیت ہیں جن کے لائق فرزند احمد غلام علی چھاگلہ نے 1950 میں پاکستان کے قومی ترانے کی شہرہ آفاق دھن ترتیب دی تھی۔

نومبر 1933 میں بمبئی پریذیڈنسی کے تحت ‘کراچی میونسپل ایکٹ’ منظور ہوا اور میونسپل کمیٹی کو باقاعدہ ‘کراچی میونسپل کارپوریشن’ کا درجہ دے دیا گیا۔ صدارت کا عہدہ ‘میئر’ میں تبدیل ہو گیا اور انتظام کی باگ ڈور 57 کونسلرز، ایک میئر اور ایک ڈپٹی میئر کے سپرد کر دی گئی۔

  • قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کے میئرز (1933 تا 1947)
  • جمشید نسروانجی مہتا (1933 تا 1934) بانی میئر اور اسکاؤٹنگ کے بانی
  • ٹیکم داس ودھومل (1934 تا 1935) پہلی ہندو قیادت
  • قاضی خدا بخش (1935 تا 1936) پہلے مسلم میئر اور ماہرِ تعلیم
  • خان بہادر اردشیر ماما (1936 تا 1937) پارسی مخیر شخصیت
  • درگا داس اڈوانی (1937 تا 1938) ممتاز ہندو تاجر
  • حاتم علوی (1938 تا 1939) مسلم لیگی رہنما اور عوامی شخصیت
  • آر کے سدھوا (1939 تا 1940) پارسی قانون دان
  • لالجی ملہوترا (1940 تا 1941) تحریکِ عدم تعاون کے سرخیل
  • محمد ہاشم گزدر (1941 تا 1942) تحریکِ پاکستان کے قدآور رہنما
  • سہراب کے ایچ کٹرک (1942 تا 1943) پارسی مورخ اور مصنف
  • شمبوناتھ ملراج (1942 تا 1943) ہندو سماجی رہنما
  • یوسف عبداللہ ہارون (1943 تا 1944) نوجوان مسلم لیگی رہنما
  • مینوئل مسکیٹا (1945 تا 1946) واحد گوون کیتھولک میئر
  • وشرام داس دیوان داس (1946 تا 1947) قیامِ پاکستان سے قبل آخری میئر

جمشید نسروانجی مہتا، ‘معمارِ کراچی’ اور صفائی کا ماڈل

کراچی کی بلدیاتی تاریخ پر سب سے گہرا اور مثبت اثر ایک پارسی کاروباری شخصیت اور انسان دوست رہنما جمشید نسروانجی مہتا (1886 تا 1952) کا ہے۔ وہ 20 سال تک میونسپلٹی کے منتخب صدر رہے اور جب نومبر 1933 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا تو وہ کراچی کے پہلے منتخب میئر بنے (نومبر 1933 تا اگست 1934)۔

سندھ میں بوائے اسکاؤٹنگ کے بانی جمشید نسروانجی کا نظریۂ بلدیات محض ٹیکس جمع کرنا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے کراچی کو ‘ہندوستان کا سب سے صاف ستھرا شہر’ بنا دیا۔

انہوں نے حکم دیا کہ کراچی کی مرکزی سڑکوں کو روزانہ سمندری یا میٹھے پانی سے دھویا جائے۔

انہوں نے منگھوپیر کے قریب جذام (کوڑھ) کے مریضوں کے لیے ہسپتال کی بنیاد رکھی اور جدید بس ٹرمینلز، وسیع سڑکیں اور پارکس قائم کیے۔

کثیرالمذاہب قیادت اور جمہوریت کا گلدستہ

جمشید نسروانجی کے بعد کراچی کے میئر کے عہدے پر رواداری، سماجی خدمت اور سیاسی و مذہبی تنوع کی ایک بے نظیر مثال قائم ہوئی۔ ہر سال مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شہریوں کو اس شہر کی خدمت کا موقع ملا۔

ٹیکم داس ودھومل (اگست 1934 تا مئی 1935) جمشید نسروانجی کے بعد شہر کے دوسرے میئر بنے اور بلدیاتی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھا۔

قاضی خدا بخش (مئی 1935 تا مئی 1936): کراچی کے پہلے مسلم میئر بنے۔ وہ کراچی چلڈرن سوسائٹی کے سرپرست اور سندھ مسلم کالج کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عظیم ماہرِ تعلیم تھے۔

خان بہادر اردشیر ماما (مئی 1936 تا مئی 1937): ممتاز پارسی مخیر اور کاروباری شخصیت، جنہوں نے تعلیم اور صحت کے میدان میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔

درگا داس اڈوانی (مئی 1937 تا مئی 1938): شہر کے ممتاز ہندو تاجر رہنما، جنہوں نے تجارتی حلقوں کو بلدیات سے جوڑا۔

حاتم علوی (مئی 1938 تا مئی 1939): مقبول عوامی شخصیت، مسلم لیگ کے متحرک رکن اور معروف علوی خاندان کے چشم و چراغ۔

آر کے سدھوا (مئی 1939 تا مئی 1940): نامور پارسی رہنما اور مشہور عالمی ناول نگار بپسی سدھوا کے والد نسبتی۔

لالجی ملہوترا (مئی 1940 تا مئی 1941): قابلِ احترام انسان دوست، ماہرِ تعلیم اور مہاتما گاندھی کی تاریخی ‘تحریکِ عدم تعاون’ کے سندھ میں اہم کردار ادا کرنے والے۔

محمد ہاشم گزدر (مئی 1941 تا مئی 1942): بمبئی قانون ساز کونسل کے رکن، سندھ اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور تحریکِ پاکستان کے قدآور رہنما، جنہوں نے انجینئرنگ اور سیاسی تدبر سے شہر کی خدمت کی۔

سہراب کے ایچ کٹرک (مئی 1942 تا مئی 1943): پارسی مورخ، نامور مصنف اور کراچی کی گلیوں کی تاریخی دستاویز نگاری کے بانی۔

شمبوناتھ ملراج (مئی 1942 تا مئی 1943): سماجی کارکن اور تاجر رہنما، جنہوں نے جنگِ عظیم دوم کے دشوار ایام میں شہری سپلائی کو بحال رکھا۔

یوسف عبداللہ ہارون (مئی 1943 تا مئی 1944): حاجی سر عبداللہ ہارون کے فرزند، سندھ کے نامور سیاست دان اور سماجی کارکن، جنہوں نے نو عمری میں شہر کی باگ ڈور سنبھالی۔

مینوئل مسکیٹا (مئی 1945 تا مئی 1946): کراچی کے واحد گوون کیتھولک میئر اور سماجی و کھیلوں کے کلب ‘دی گوا پرتگالی ایسوسی ایشن’ کے صدر، جنہوں نے کراچی کی گوون کرسچن برادری کی نمائندگی کی۔

وشرام داس دیوان داس (مئی 1946 تا مئی 1947): قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کے آخری میئر، جنہوں نے تقسیمِ ہند کے نازک اور تلاطم خیز دور میں شہر کے امن و امان اور بلدیاتی نظم و ضبط کو قائم رکھا۔

قیامِ پاکستان سے قبل کی کراچی بلدیات کی یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک شہر صرف کنکریٹ اور سڑکوں سے نہیں بنتا، بلکہ اس کے پیچھے شہر کی ملکیت کا احساس، غیر متعصبانہ قیادت اور بصیرت کارفرما ہوتی ہے۔ مسلمان، پارسی، ہندو اور کرسچن میئرز کا یہ خوبصورت تسلسل کراچی کا وہ اصلی چہرہ ہے جس نے اسے ایک صحرائی ساحل سے برصغیر کا سب سے مہذب اور روشن شہر بنا دیا تھا۔

اسی بارے میں: