حکومت سندھ کے محکمہ خوراک نے ضلع سانگھڑ میں سرکاری گندم کے ذخائر میں مبینہ خردبرد، بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد نقصان پہنچانے کے الزام میں گریڈ 12 کے فوڈ انسپکٹر محمد عباس میمن کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
صوبائی سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ کی جانب سے جاری کیے گئے تفصیلی حکم نامے میں نہ صرف برطرفی کا حکم دیا گیا ہے بلکہ ایک ارب پانچ کروڑ 56 لاکھ 30 ہزار 808 روپے کی وصولی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے فوجداری تحقیقات، بورڈ آف ریونیو کے ذریعے ریکوری اور تیس روز کے اندر سول مقدمہ دائر کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے کے مطابق محمد عباس میمن سانگھڑ، کھپرو، نوآباد اور شہید بینظیرآباد فوڈ ریجن کے مختلف پروکیورمنٹ ریلیز سینٹرز (پی آر سیز) میں انچارج کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ محکمانہ کارروائی کے دوران مختلف مراکز میں ہزاروں میٹرک ٹن سرکاری گندم کی کمی ثابت ہونے کے بعد ان پر مجموعی طور پر ایک ارب پانچ کروڑ 56 لاکھ 30 ہزار 808 روپے واجب الادا قرار دیے گئے۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق مجموعی نقصان میں اصل رقم 79 کروڑ 11 لاکھ 10 ہزار 273 روپے شامل ہے، جبکہ اس پر 26 کروڑ 45 لاکھ 20 ہزار 535 روپے مارک اپ بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی رقم ایک ارب پانچ کروڑ 56 لاکھ 30 ہزار 808 روپے بنتی ہے، جو متعلقہ افسر سے وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نوآباد پی آر سی میں 2019-20 کے فصل کے دوران 797.773 میٹرک ٹن سرکاری گندم کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی کی اصل مالیت تین کروڑ 52 لاکھ 29 ہزار 656 روپے مقرر کی گئی جبکہ تین کروڑ آٹھ لاکھ 37 ہزار 541 روپے مارک اپ شامل کیا گیا۔ اس طرح نوآباد مرکز میں مجموعی واجب الادا رقم چھ کروڑ 60 لاکھ 67 ہزار 197 روپے قرار دی گئی۔
اسی طرح پی آر سی کھپرو کمپلیکس میں 2023-24 کے فصل کے دوران 2661.360 میٹرک ٹن گندم کی کمی ظاہر کی گئی۔ محکمہ خوراک نے اس کی اصل مالیت 36 کروڑ 61 لاکھ 49 ہزار 909 روپے اور مارک اپ 11 کروڑ 74 لاکھ 51 ہزار 963 روپے مقرر کیا، جس کے بعد مجموعی رقم 48 کروڑ 36 لاکھ ایک ہزار 872 روپے بنی۔
حکم نامے میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی آر سی کھپرو (پرانا) میں2023-24 کے فصل کے دوران 359.981 میٹرک ٹن گندم کی کمی سامنے آئی۔ اس کی اصل مالیت چار کروڑ 95 لاکھ 26 ہزار 186 روپے جبکہ مارک اپ 71 لاکھ ایک ہزار 716 روپے مقرر کیا گیا۔ اس مرکز کے لیے مجموعی واجب الادا رقم پانچ کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 902 روپے قرار دی گئی۔
پی آر سی سانگھڑ میں بھی 2023-24 کے فصل کے دوران 2472.776 میٹرک ٹن سرکاری گندم کی کمی ظاہر کی گئی۔ محکمہ خوراک کے مطابق اس کی اصل مالیت 34 کروڑ دو لاکھ چار ہزار 522 روپے جبکہ مارک اپ 10 کروڑ 91 لاکھ 29 ہزار 315 روپے مقرر کیا گیا، جس کے بعد اس مرکز کی مجموعی واجب الادا رقم 44 کروڑ 93 لاکھ 33 ہزار 837 روپے بنتی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ محکمانہ انکوائری کے دوران یہ ثابت ہوا کہ متعلقہ افسر نے مبینہ طور پر سرکاری گندم کے ذخائر میں خردبرد کی، گندم کو گھن لگنے اور خراب ہونے دیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا بلکہ عوام کو رعایتی آٹے کی فراہمی کے حکومتی پروگرام اور غذائی تحفظ کے مقاصد بھی متاثر ہوئے۔

سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1973 کے تحت الزامات ثابت ہونے پر محمد عباس میمن کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کیا جاتا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری گندم کے ذخائر میں کمی، باقی ماندہ گندم کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے اور سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کے شواہد میں کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایک ارب پانچ کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کے لیے معاملہ بورڈ آف ریونیو سندھ کو بھیجا جائے تاکہ سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کی فوجداری تحقیقات اور ریکوری کے لیے کیس اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے سپرد کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر تیس روز کے اندر مجاز عدالت میں دیوانی مقدمہ دائر کریں تاکہ سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی قانونی طریقے سے وصولی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایک ارب پانچ کروڑ روپے سے زائد کی رقم کے علاوہ گندم کو پہنچنے والے دیگر نقصانات کی وصولی بھی متعلقہ افسر سے کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق محمد عباس میمن کے خلاف ماضی میں بھی نوآباد مرکز میں ہزاروں بوریاں گندم کم ہونے کے معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) میں کیس زیر سماعت رہا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کے باوجود انہیں دوبارہ مختلف مراکز کا چارج دیا گیا، جس کے بعد محکمہ خوراک کو مزید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم اس دعوے کا سرکاری حکم نامے میں کوئی ذکر موجود نہیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ خوراک نے کارروائی سے قبل متعلقہ افسر کو متعدد شوکاز نوٹس جاری کیے اور ذاتی سماعت کے مواقع بھی فراہم کیے، تاہم وہ الزامات کا مؤثر جواب دینے اور سماعت میں پیش ہونے میں ناکام رہے، جس کے بعد محکمانہ قواعد کے تحت ان کے خلاف حتمی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ سانگھڑ میں سرکاری گندم کے ذخائر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف یہ محکمہ خوراک کی حالیہ برسوں کی اہم ترین انتظامی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ حکام کے مطابق اینٹی کرپشن، بورڈ آف ریونیو اور عدالت میں ہونے والی آئندہ کارروائی کے بعد اس معاملے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

