کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں دھماکا، 34 مزدور جان سے گئے

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورنگ کے علاقے میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 34 کان کن جاں بحق ہوگئے، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔

واقعے کے بعد ملک بھر میں کان کنوں کی حفاظت، کانوں میں حفاظتی انتظامات اور حکومتی نگرانی پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ روزنامہ ڈان کے مطابق سرکاری حکام کے تصدیق کی ہے کہ دھماکا ممکنہ طور پر کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے کے باعث ہوا، جس کے بعد کان کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا اور درجنوں مزدور اندر پھنس گئے۔

ریسکیو اہلکاروں، محکمہ معدنیات، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم زہریلی گیس، دھواں اور کان کے اندر خطرناک حالات کے باعث امدادی کام انتہائی مشکل ثابت ہوا۔

حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی لاشیں مرحلہ وار کان سے نکالی گئیں اور انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں قانونی کارروائی کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کی گئیں۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق صوبائی حکومت ضروری قانون کاروائی کے بعد مزدوروں کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقے شانگلا سوات روانہ کردی ہیں۔ تمام مزدوروں کا تعلق شانگلا سے ہے۔

حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر برائے معدنیات نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ اور زخمی ہونے والے کو تین لاکھ روپے دیے جائیں گے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن (پی سی ایم ایل ایف) کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان خان نے ساگا ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے 32 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کان کن مسلسل اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت ان کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہیں۔

انہوں نے کہا، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر چند ماہ بعد کانوں میں حادثات ہوتے ہیں اور مزدور اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں، مگر حفاظتی نظام بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ اگر حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے تو ایسے کئی حادثات روکے جا سکتے ہیں۔

لالہ سلطان خان نے مطالبہ کیا کہ تمام کوئلہ کانوں کا حفاظتی آڈٹ کرایا جائے، جدید گیس مانیٹرنگ نظام نصب کیا جائے، مزدوروں کو حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کان مالکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت کان کنوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزدوروں کی حفاظت سے متعلق ایک نیا قانون بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے اور اس وقت اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اس کا جائزہ لے رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق، جیسے ہی یہ قانون اسمبلی سے منظور ہوگا، حکومت کانوں میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کرے گی اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مزدور نمائندوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کوئلے کی بیشتر کانیں زیر زمین ہیں، جہاں مناسب ہوا کی آمدورفت، گیس کی نگرانی اور ہنگامی اخراج کے انتظامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میتھین گیس جمع ہونے کے بعد دھماکے اور دم گھٹنے کے واقعات بار بار پیش آتے ہیں۔

پاکستان میں خاص طور پر بلوچستان کے کان کن طویل عرصے سے شکایت کرتے آ رہے ہیں کہ انہیں انتہائی خطرناک حالات میں کم اجرت پر کام کرنا پڑتا ہے۔ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی کانوں میں حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل نہیں کیا جاتا اور متعلقہ اداروں کی نگرانی بھی مؤثر نہیں ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں اتنا بڑا حادثہ پیش آیا ہو۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھی میتھین گیس کے دھماکوں، کانیں بیٹھ جانے اور دیگر حادثات میں متعدد کان کن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس کے بعد ہر مرتبہ حفاظتی نظام بہتر بنانے کے وعدے کیے گئے، مگر مزدور تنظیموں کے مطابق زمینی سطح پر خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آئی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق 2025 کے دوران بلوچستان میں کان کنی کے مختلف حادثات میں 90 کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن (پی سی ایم ایل ایف) کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں، جنہیں ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ ’اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس اِن پاکستان 2025‘ میں شامل کیا گیا ہے۔

مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر جدید حفاظتی آلات، گیس کی بروقت نگرانی، باقاعدہ معائنہ اور سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے تو ایسے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

حادثے کے بعد بلوچستان سمیت ملک بھر کی مزدور تنظیموں نے جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کان کنوں کی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دیں، حفاظتی قوانین پر فوری عمل درآمد کرائیں اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

اسی بارے میں: