ڈملوٹی کے خاموش کنوئیں: جب کراچی اپنی پیاس بجھانے کے لیے ایندھن کا محتاج نہیں تھا

ہمارے یہاں تاریخ کو عموماً شاہی محلوں، جنگی معرکوں اور سیاسی جوڑ توڑ کی عینک سے دیکھنے کا رواج رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شہر کا حقیقی ارتقا اس کے پتھروں، گلیوں اور سب سے بڑھ کر اس کی پیاس بجھانے کے وسائل کا مرہون منت ہوتا ہے۔

کراچی، جو آج دو کروڑ سے زائد نفوس کی بوجھل آبادی، کینجھر جھیل اور حب ڈیم سے آنے والی پانی کی فراہمی اور واٹر ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہانپ رہا ہے، ہمیشہ سے ایسا بے بس اور پیاسا نہیں تھا۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب اس شہر نے ملاحوں اور مچھیروں کی ایک بکھری ہوئی بستی سے خطے کی ایک اہم بین الاقوامی بندرگاہ اور معاشی مرکز کا روپ دھارا، تو اس کے پیچھے آبی انجینئرنگ کا ایک ایسا شاہکار کارفرما تھا، جس نے قدرتی ماحولیات اور انسانی عقل کا نایاب توازن قائم کر دکھایا تھا۔

یہ کہانی ہے کراچی کے اسی ‘آبی معجزے’ کی، جس نے بے آب و گیاہ صحرا اور کھارے پانی کے ساحل پر ایک جدید، منظم اور سائنسی نظام آب رسانی کی بنیاد رکھی۔

کھارے پانی کا شہر اور نوآبادیاتی ضرورت

1843 میں برطانوی تسلط کے بعد جب کراچی کو تجارتی بندرگاہ اور عسکری چھاؤنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا، تو سب سے بڑی رکاوٹ یہاں پانی کا غیر معیاری ہونا تھا۔ شہر کے روایتی کنوؤں کا پانی کھارا اور کڑوا تھا، جبکہ نلکے اور منظم نکاسی آب نہ ہونے کے باعث ہیضے کی وبائیں آئے دن فوجیوں اور عام شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھیں۔

برطانوی سول انجینئروں نے جب اس خطے کا جغرافیائی جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ شہر سے تقریباً تیس تا پینتیس کلومیٹر دور ملیر اور تھڈو ندیوں کا ریتلا پیٹ میٹھے پانی اور آب نوشی کے لیے ایک قدرتی ذخیرہ ہے۔ ملیر ندی کا ریتلا پیٹ محض مٹی کا ڈھیر نہیں تھا، بلکہ فطرت کا بنایا ہوا ایک عظیم الشان قدرتی فلٹر اور اسفنج تھا، جو برسات کے پانی کو جذب کر کے اپنے اندر محفوظ کر لیتا تھا۔

ڈملوٹی واٹر ورکس: کشش ثقل کا معجزہ

1881 میں کراچی میونسپلٹی کے نامور برطانوی انجینئر جیمز اسٹریچن کی زیر نگرانی ملیر کے ڈملوٹی علاقے میں ایک تاریخی منصوبے کا آغاز ہوا۔ 1883 میں جب ڈملوٹی واٹر ورکس کا باقاعدہ افتتاح ہوا، تو اس نے ابتدائی طور پر شہر کو یومیہ پینتالیس لاکھ گیلن صاف اور میٹھا پانی فراہم کرنا شروع کیا۔

اس منصوبے کی اصل سائنسی خوبصورتی اس کا بغیر کسی ایندھن یا پمپ کے خودکار طریقے سے چلنا تھا۔

انفلٹریشن گیلریاں

ملیر ندی کی ریتلی تہہ کے نیچے انتہائی باریک، سوراخ دار پائپ اور نالیاں بچھائی گئیں، جو ندی کی ریت میں جذب ہونے والے پانی کو نچوڑ کر مرکزی کنوؤں تک لاتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہاں بارہ سے زائد گیلری کنوئیں تعمیر کیے گئے۔

پکا نالہ

ڈملوٹی چونکہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر واقع تھا، اس لیے وہاں سے شہر تک اٹھائیس کلومیٹر طویل ایک پکی ڈھلوانی نہر تعمیر کی گئی۔ پانی بغیر کسی پمپ یا ایندھن کی طاقت کے، محض کشش ثقل کے تحت خودبخود بہتا ہوا کراچی کے مرکزی ذخائر تک پہنچ جاتا تھا۔

دوہرا انتظامی نظام اور طبقاتی آبی ڈھانچہ

برطانوی دور کی شہری ساخت دو واضح حصوں میں تقسیم تھی، فوجی علاقہ یعنی کنٹونمنٹ اور عوامی علاقہ یعنی سول ڈسٹرکٹ۔ اسی تناظر میں پانی کی تقسیم کا انتظامی اور تکنیکی ڈھانچہ بھی دو مختلف دھاروں میں بٹا ہوا تھا۔

ہائی لیول ریزروائر، گارڈن ایریا

گارڈن روڈ پر واقع اس ذخیرہ گاہ کا انتظام کراچی میونسپلٹی کے پاس تھا۔ یہاں سے پانی قدرتی ڈھالان کی مدد سے صدر، اولڈ ٹاؤن، بندرگاہ، برنس روڈ اور نیپئر کوارٹر کے عوامی علاقوں کو سپلائی کیا جاتا تھا۔

سیڈن ہیم ریزروائر، جیکب لائنز

1912 میں بمبئی کے گورنر لارڈ سیڈن ہیم کے نام پر قائم ہونے والا یہ ریزروائر اور پمپنگ اسٹیشن ملٹری ورکس سروسز کے زیر انتظام تھا۔ چونکہ کنٹونمنٹ اور جیکب لائنز کے علاقے نسبتاً بلندی پر واقع تھے، اس لیے یہاں ڈملوٹی سے آنے والے پانی کو عمارتوں کی بالائی منزلوں اور فوجیوں کی بیرکوں تک پہنچانے کے لیے پہلے بھاپ سے چلنے والے پمپ اور بعد میں برقی پمپ نصب کیے گئے۔

اس دور کے نظام آب رسانی میں ایک واضح انتظامی اور طبقاتی فرق بھی پایا جاتا تھا۔ برطانوی فوجیوں کے حفظان صحت کے سخت قوانین کے تحت کنٹونمنٹ کو روزانہ فی کس پانی کا زیادہ کوٹہ میسر تھا، جبکہ عام شہریوں کے لیے گلیوں اور چوراہوں پر اجتماعی نلکے نصب کیے گئے تھے، جہاں سے لوگ میونسپل ٹیکس کے بدلے پانی حاصل کرتے تھے۔

فائر ہائیڈرینٹس سے پخالیوں تک پانی کی ترسیل

جن علاقوں تک زیر زمین بھاری لوہے کی پائپ لائنیں نہیں پہنچی تھیں، وہاں پانی کی ترسیل کا ذریعہ ایک مختلف انسانی اور ثقافتی نظام تھا۔

گارڈن اور جیکب لائنز کے مرکزی ہائیڈرینٹس سے پخالی اپنے چمڑے کی مشکوں میں پانی بھر کر اونٹوں اور گدھا گاڑیوں پر لادتے اور گلی محلوں میں گھر گھر پہنچاتے تھے۔ دوسری طرف انگریزوں نے شہر کو آتش زدگی سے بچانے کے لیے ایم اے جناح روڈ، صدر اور کسٹمز ہاؤس کے اطراف لوہے کے سرخ فائر ہائیڈرینٹس نصب کیے، جن کے زنگ آلود ڈھانچے آج بھی آئی آئی چندریگر روڈ اور صدر کے بعض حصوں میں خاموش تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

قدرتی اسفنج کی تباہی اور نوآبادیاتی ورثے کا سوگ

1947 میں قیام پاکستان کے وقت جب لاکھوں مہاجرین کی آمد سے کراچی راتوں رات ایک کثیر الثقافتی شہر بن گیا، تو ڈملوٹی اور اس کے جڑواں نظام نے اس اضافی بوجھ کو بھی کئی دہائیوں تک سنبھالے رکھا۔ لیکن 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں اس تاریخی نظام کو شدید نقصان پہنچا، جس کی بڑی وجوہات ہماری اپنی شہری بے حسی اور انتظامی کوتاہیاں تھیں۔

غیر قانونی ریت کی کھدائی

ملیر ندی کے پیٹ سے اندھا دھند ریت نکال کر کنکریٹ کا شہر تعمیر کیا گیا۔ نتیجتاً ندی کی پانی جذب کرنے کی قدرتی اسفنجی صلاحیت ختم ہو گئی اور زیر زمین پانی کی سطح سیکڑوں فٹ نیچے چلی گئی۔

غیر قانونی تجاوزات

ڈملوٹی کے آبی ذخائر سے متعلق قدرتی علاقوں پر فارم ہاؤسز اور بے ہنگم آبادیاں قائم کر کے قدرتی نالوں کے راستے مسدود کر دیے گئے۔

آج ڈملوٹی کے وہ زرد پتھروں والے تاریخی کنوئیں، خوبصورت گنبد اور جیکب لائنز کی سو سال پرانی عمارتیں زبوں حالی کا شکار ہیں۔

ایم اے جناح روڈ سے ملحقہ کسٹمز کالونی کے قریب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے احاطے میں آج بھی چوبیس اور تیس انچ کے قدیم لوہے کے پائپ، پمپنگ ہال اور بھاری بھرکم والو ہاؤسز موجود ہیں، جو ایک صدی گزرنے کے باوجود زنگ سے بڑی حد تک محفوظ اور تکنیکی لحاظ سے قابل شناخت حالت میں ہیں۔

ڈملوٹی اور جیکب لائنز کا یہ نظام آب رسانی محض ایک متروک پائپ لائن یا ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ اس بات کا سائنسی اور عملی ثبوت ہے کہ کسی شہر کی پیاس بجھانے کے لیے فطرت کو تباہ کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگی اور سائنسی تدبر قائم کرنا ہوتا ہے۔

تجاویز

اگر کراچی کے موجودہ پالیسی ساز ذرا سی بصیرت کا مظاہرہ کریں، تو جیکب لائنز اور ڈملوٹی کی ان سو سالہ قدیم تنصیبات اور والو ہاؤسز کو ایک ‘صنعتی ورثہ’ یا ‘واٹر ورکس میوزیم’ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ میوزیم آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لیے ضروری ہے کہ کراچی کبھی پانی کا کشکول لیے کھڑا رہنے والا شہر نہیں تھا، بلکہ اپنی سائنسی فراست، تجارتی بصیرت اور ماحولیاتی تدبر کے بل بوتے پر صحرا اور سمندر کے درمیان ایک خود کفیل اور آباد شہر تھا۔

اسی بارے میں: