شاہ حسن جزیرہ: سندھ کے تاریخی ورثے، مقامی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کا ایک اہم سوال

شاہ حسن

سندھ کی سرزمین صدیوں سے تہذیب، ثقافت، روحانیت اور قدرتی حسن کی امین رہی ہے۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے لے کر بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلے ہوئے جزائر نہ صرف جغرافیائی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ ان کا تعلق مقامی آبادیوں کی تاریخ، مذہبی وابستگی، روزگار اور ثقافتی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

انہی جزائر میں ضلع ملیر کے ساحلی علاقے کے قریب واقع شاہ حسن جزیرہ بھی شامل ہے، جو تقریباً 350 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایک تاریخی، مذہبی اور ماحولیاتی اہمیت کا حامل مقام ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ کے ساحلی جزائر، خصوصاً ڈنگی اور بھنڈار جزائر، وفاق اور صوبے کے درمیان اختیارات اور ملکیت کے تنازع کا موضوع رہے ہیں۔ ان جزائر پر وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نام پر پیش رفت کی کوششوں کو سندھ کے سیاسی، سماجی اور قوم پرست حلقوں نے سخت مزاحمت کا سامنا کیا۔

سندھ کے عوام کا مؤقف رہا ہے کہ آئین اور ملکی قوانین کے مطابق سندھ کے ساحلی جزائر صوبہ سندھ کی ملکیت ہیں، لہٰذا ان سے متعلق کسی بھی منصوبے میں صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔

اب ایک مرتبہ پھر شاہ حسن جزیرہ قومی سطح پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وفاقی وزارتِ بحری امور کی جانب سے اس جزیرے کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کے اعلان اور بعد ازاں پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے درختوں اور جنگلی جھاڑیوں کی صفائی کے لیے این او سی جاری کیے جانے کے بعد مقامی آبادی، سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس اور درگاہ کے متولیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

شاہ حسن جزیرہ محض ایک غیر آباد زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں تقریباً آٹھ سو برس سے ایک بزرگ ہستی، حضرت شاہ حسنؒ کی درگاہ قائم ہے۔ اس درگاہ کے ساتھ ایک وسیع اور قدیم قبرستان بھی موجود ہے، جہاں سینکڑوں افراد مدفون ہیں۔ مقامی روایات اور خاندانوں کے مطابق اس درگاہ اور قبرستان کا تعلق ملیر کے علاقے رزاق آباد میں آباد سید محمود شاہ کے خاندان سے ہے، جو نسل در نسل اس مذہبی ورثے کی دیکھ بھال کرتے آئے ہیں۔

یہ جزیرہ مقامی لوگوں کے لیے صرف ایک جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ ان کی تاریخ، عقیدت اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ ہر سال سندھ کے مختلف اضلاع سے سینکڑوں زائرین یہاں حاضری دینے آتے ہیں۔ سمندر کے بیچ واقع یہ درگاہ کئی نسلوں سے لوگوں کے لیے روحانی سکون اور عقیدت کا مرکز رہی ہے۔ ایسے میں اگر کسی ترقیاتی منصوبے کے نتیجے میں اس مقام کی ہیئت، ماحول یا تاریخی شناخت متاثر ہوتی ہے تو یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ ثقافتی اور مذہبی حقوق کا معاملہ بھی بن جاتا ہے۔

پورٹ قاسم اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ حساس صنعتی علاقوں اور واٹر چینل سے ملحقہ مقامات پر آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر جنگلی جھاڑیوں اور کیکر کے درختوں کی صفائی ضروری ہے۔ اتھارٹی کے مطابق جاری کردہ این او سی صرف غیر ضروری جھاڑیوں کی صفائی تک محدود ہے اور اس کا مقصد صنعتی سرگرمیوں اور ماحول کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

مزید برآں، نوٹیفکیشن میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ محفوظ، آرائشی یا ماحولیاتی اہمیت کے حامل درختوں کی کٹائی کی اجازت نہیں دی گئی۔

تاہم، مقامی آبادی اور سماجی تنظیموں کے تحفظات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں، روزگار اور وسائل سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق پورٹ قاسم، پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم انڈسٹریل زون، ملیر انڈسٹریل پارک، ایجوکیشن سٹی، بحریہ ٹاؤن اور دیگر منصوبوں کے دوران مقامی افراد کو نہ تو مناسب روزگار ملا اور نہ ہی ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ یہ اعتراض صرف جذباتی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے تاریخی تجربات بھی موجود ہیں۔

سندھ کے ساحلی علاقوں میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی صنعتی اور رہائشی توسیع نے مقامی آبادیوں کے سماجی ڈھانچے، ماہی گیری، زرعی زمینوں اور قدرتی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ حسن جزیرے کے معاملے میں مقامی لوگ کسی بھی سرکاری اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی نقطۂ نظر سے بھی یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

شاہ حسن جزیرے پر موجود تمر، دیوی اور دیگر مقامی درخت سمندری ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ یہ درخت نہ صرف سمندری طوفانوں اور مدوجزر کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ساحلی کٹاؤ کو روکنے اور مقامی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ساحلی علاقوں میں درختوں کی بے دریغ کٹائی مستقبل میں ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ دنیا بھر میں قدیم مزارات، قبرستانوں اور مذہبی مقامات کو قومی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ اگر شاہ حسن کی درگاہ واقعی آٹھ سو برس قدیم ہے تو اس کی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی بنیاد پر تحقیق، دستاویز بندی اور قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں کئی تاریخی مقامات عدم توجہی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث اپنی اصل شناخت کھو چکے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کا ماڈل کیا ہو؟ کیا ترقی کا مطلب مقامی آبادی کو نظر انداز کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے؟ کیا سیاحت کے فروغ کے نام پر تاریخی مقامات کی اصل روح کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا کسی بھی منصوبے سے قبل متعلقہ فریقین، ماہرین آثارِ قدیمہ، ماہرین ماحولیات اور مقامی نمائندوں سے مشاورت نہیں ہونی چاہیے؟

ایک ذمہ دار حکومت کا کردار یہی ہونا چاہیے کہ وہ تنازعات کو جنم دینے کے بجائے اعتماد سازی کو فروغ دے۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ شاہ حسن جزیرے کی ملکیت، تاریخی حیثیت اور قانونی پوزیشن کو واضح کرے۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور پورٹ قاسم اتھارٹی پر بھی لازم ہے کہ وہ تمام متعلقہ دستاویزات اور منصوبہ بندی کو عوام کے سامنے لائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی ترقیاتی سرگرمی سے درگاہ، قبرستان، قدرتی ماحول اور مقامی آبادی کے مفادات متاثر نہ ہوں۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ شاہ حسن جزیرے کو ایک متنازع منصوبے کے بجائے ایک مشترکہ ورثے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر یہاں سیاحت کو فروغ دینا مقصود ہے تو اس کے لیے دنیا کے کامیاب ماڈلز کو اختیار کیا جا سکتا ہے، جہاں مقامی آبادی کو شراکت دار بنایا جاتا ہے، تاریخی مقامات کو اصل حالت میں محفوظ رکھا جاتا ہے اور ماحولیات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔

شاہ حسن جزیرہ آج صرف ایک جزیرے کا نام نہیں، بلکہ یہ سندھ کے تاریخی ورثے، مقامی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور وفاق و صوبے کے تعلقات کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ صرف ایک منصوبے کے مستقبل کا تعین نہیں کرے گا بلکہ اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ ہم اپنی تاریخ، اپنے بزرگوں کے آثار اور آنے والی نسلوں کے حق میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

اگر اس مسئلے کو دانشمندی، شفافیت اور مقامی شمولیت کے اصولوں کے تحت حل کیا گیا تو شاہ حسن جزیرہ سندھ کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ماضی کی طرح مقامی آوازوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ تنازع نہ صرف شدت اختیار کر سکتا ہے بلکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان میں مزید اضافہ بھی کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں: