انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز کوارٹر فائنل میں ناروے کو اضافی وقت کے بعد 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
میامی میں کھیلے گئے اس مقابلے کے ہیرو نوجوان مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم رہے، جنہوں نے اپنی ٹیم کے دونوں گول اسکور کیے اور فتح میں مرکزی کردار ادا کیا۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق میچ کے آغاز سے ہی دونوں ٹیموں نے محتاط انداز اپنایا۔ شدید گرمی کے باعث کھیل کی رفتار نسبتاً سست رہی، تاہم ناروے نے بہتر مواقع پیدا کیے۔
36ویں منٹ میں اینڈریاس شیلڈروپ نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ اس گول کے بعد انگلینڈ دباؤ میں آ گیا، لیکن پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں جوڈ بیلنگھم نے دفاعی کھلاڑیوں کو چکمہ دیتے ہوئے گیند جال میں پہنچا دی اور مقابلہ ایک، ایک گول سے برابر کر دیا۔
دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے کئی حملے کیے، مگر کوئی بھی فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکا۔ انگلینڈ کے بوکایو ساکا نے چند خطرناک حملے ترتیب دیے جبکہ ناروے نے بھی جوابی حملوں کے ذریعے دفاع کو پریشان کیے رکھا۔ مقررہ 90 منٹ کے اختتام پر مقابلہ ایک، ایک گول سے برابر رہا، جس کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوگیا۔
اضافی وقت کے آغاز کے صرف چند منٹ بعد انگلینڈ نے فیصلہ کن وار کیا۔ مورگن راجرز کے طاقتور شاٹ کو ناروے کے گول کیپر مکمل طور پر قابو میں نہ رکھ سکے اور ری باؤنڈ پر موجود جوڈ بیلنگھم نے گیند کو جال میں پہنچا کر انگلینڈ کو 1-2 کی برتری دلا دی۔ یہی گول بعد میں میچ کا فیصلہ کن گول ثابت ہوا۔
اس فتح کے ساتھ انگلینڈ گزشتہ پانچ بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں چوتھی مرتبہ سیمی فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ اب اس کا مقابلہ ارجنٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان ہونے والے کوارٹر فائنل کے فاتح سے ہوگا۔ انگلش ٹیم کی نظریں 1966 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے پر مرکوز ہیں۔
اگرچہ ناروے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ٹیم نے پورے میچ میں شاندار کھیل پیش کیا۔ ناروے نے تقریباً 28 برس بعد ورلڈ کپ میں شرکت کی اور اپنے کھیل سے دنیا بھر کے شائقین کو متاثر کیا۔
ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ اس بار گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ مسلسل 16 بین الاقوامی میچوں کے بعد پہلا موقع تھا جب وہ گول اسکور نہ کر سکے۔ ایک موقع پر ناروے کا ایک اور گول ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کی جانچ کے بعد مسترد بھی کر دیا گیا، جس سے ٹیم کے حوصلوں کو دھچکا پہنچا۔
میچ کے بعد انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل نے اپنی ٹیم کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مکمل اطمینان ظاہر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ نے کئی مواقع پر غیر ضروری غلطیاں کیں اور اگر سیمی فائنل میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو کھیل کے معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف انفرادی صلاحیتوں کے سہارے ہر میچ جیتنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب ناروے کے کپتان مارٹن اوڈیگارڈ نے شکست کے باوجود اپنی ٹیم کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے پوری جان لڑا دی اور دنیا کو دکھا دیا کہ ناروے اب عالمی فٹبال میں کسی بھی مضبوط ٹیم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ شکست تکلیف دہ ہے، لیکن ٹیم کے مستقبل کے لیے یہ ورلڈ کپ بہت اہم ثابت ہوگا۔
جوڈ بیلنگھم ایک بار پھر انگلینڈ کے لیے نجات دہندہ ثابت ہوئے۔ اس سے قبل بھی وہ ناک آؤٹ مرحلے میں اہم مواقع پر فیصلہ کن گول کر چکے ہیں۔ فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری کے باوجود بیلنگھم بڑے مقابلوں میں غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہی خوبی انہیں موجودہ دور کے بہترین مڈفیلڈرز میں شامل کرتی ہے۔
سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ایک اور سخت امتحان درپیش ہوگا۔ اگر وہ اپنی موجودہ فارم برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو 60 برس بعد ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے کا خواب حقیقت میں بدل سکتا ہے، تاہم کوچ تھامس ٹوخل اور ان کے کھلاڑی جانتے ہیں کہ آئندہ مرحلے میں معمولی غلطی بھی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

