نَسلہ ٹاور کیس: وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے مسماری احکامات واپس لے لیے

وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے نَسلہ ٹاور کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کو جاری کیے گئے احکامات اور ان کے تحت کی گئی کارروائیاں واپس لے لی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا بنیادی اختیار صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کے پاس ہے، عدلیہ کا کردار قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مقدمات کا فیصلہ کرنا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں اور ایسے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں جو زیر سماعت مقدمے کا حصہ نہ ہوں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں زیر سماعت تنازع سے آگے بڑھ کر وسیع نوعیت کے احکامات جاری کیے تھے، جو آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی عمارت کو گرانے سے پہلے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر بھی اس وقت تک مسماری کے احکامات نہیں دیے جا سکتے جب تک قانون میں مقرر تمام تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہر مقدمے میں منصفانہ قانونی کارروائی، جسے "ڈیو پروسیس” کہا جاتا ہے، آئین کا لازمی تقاضا ہے۔ کسی بھی شہری یا فریق کو سنے بغیر یا قانونی طریقہ کار مکمل کیے بغیر سخت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کرنا نہیں ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت صرف یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ہر کارروائی قانون اور آئین کے مطابق ہو اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے مؤثر قانونی نظام اور مختلف ادارے موجود ہیں۔ ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کریں اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے آئینی اور قانونی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی کریں، خلاف ورزیوں کے خلاف بروقت کارروائی کریں اور عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنائیں۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی اختیارات اور انتظامی اختیارات میں واضح فرق برقرار رہنا چاہیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا بنیادی طور پر انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ عدالتوں کا کام قانونی تنازعات کا فیصلہ کرنا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی کارروائیوں کو واپس لینے کا حکم دیا۔

اس مقدمے میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے ایک اضافی نوٹ بھی تحریر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل سمندر اور دیگر عوامی مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور ان کی اصل حیثیت میں تبدیلی سے ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات شہریوں کی مشترکہ ملکیت ہوتے ہیں اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ ان کا تحفظ کرے تاکہ عوام کو بہتر ماحول اور بنیادی سہولتیں میسر رہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مستقبل میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق مقدمات میں قانونی طریقہ کار، متعلقہ اداروں کے اختیارات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ ان کے مطابق عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ قانون کی عملداری ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ آئین میں دیے گئے منصفانہ قانونی عمل کے اصولوں پر بھی مکمل طور پر عمل ہونا چاہیے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل پر مسلسل بحث جاری ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن ہر قدم آئین، قانون اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اٹھایا جانا ضروری ہے۔