[rank_math_breadcrumb]

سپریم کورٹ کے ریمارکس: بیوی کو منانے کے لیے اسلحہ لے کر جانا کون سی شرافت ہے؟

سپریم کورٹ میں ساس کے قتل سے متعلق ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ مگر سنجیدہ صورت حال پیدا ہو گئی جب عدالت عظمی نے ملزم کے مؤقف پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سزائے موت پانے والے داماد کی اپیل پر سماعت کے دوران ججز کے ریمارکس نے نہ صرف عدالت کا ماحول بدل دیا بلکہ کیس کی نوعیت کو بھی نمایاں کر دیا۔

تین رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا تھا۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکیل صفائی سے استفسار کیا کہ ملزم پر بنیادی الزام کیا ہے۔ وکیل نے تسلیم کیا کہ اس کے موکل پر اپنی ساس کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

وکیل صفائی نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم اپنی ناراض بیوی کو منانے کے لیے سسرال گیا تھا۔ اس بیان پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ‘کیا بیوی کو منانے کے لیے اسلحہ لے کر سسرال جانا شرافت ہے؟’ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے طرز عمل کو کسی بھی صورت صلح یا مفاہمت نہیں کہا جا سکتا۔

اسی دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ کوئی شخص صلح کے لیے مسلح ہو کر جائے۔ عدالت کے مطابق اسلحہ لے کر جانا خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیت مفاہمت کی نہیں بلکہ کسی اور سمت میں جا رہی تھی۔

عدالت کے سخت ریمارکس کے بعد وکیل صفائی نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ قتل دراصل ملزم نے نہیں بلکہ مقتولہ کے شوہر نے کیا اور الزام داماد پر ڈال دیا گیا۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ‘وکیل صاحب! آپ تو بہت ہی معصوم ہو!’ جس سے عدالت میں ایک لمحے کے لیے ہلکی سی فضا پیدا ہوئی، تاہم کیس کی سنگینی اپنی جگہ برقرار رہی۔

ابتدائی دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سزائے موت کے خلاف دائر اپیل کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ یہ کیس نہ صرف ایک سنگین فوجداری مقدمہ ہے بلکہ اس میں پیش کیے گئے دلائل اور عدالت کے ریمارکس معاشرتی رویوں اور قانونی منطق دونوں پر اہم سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔

اسی بارے میں: