مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔ ہفتے کے پہلے کاروباری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کی لپیٹ میں رہی اور کاروبار کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں مارکیٹ تاریخ کی بڑی گراوٹ کا شکار ہو گئی۔
خطے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت دیکھنے میں آئی۔
پیر کی صبح جیسے ہی کاروبار کا آغاز ہوا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک انڈیکس کے ایس ای-100 میں تیزی سے کمی شروع ہوگئی۔ ابتدائی اوقات میں ہی انڈیکس تقریباً 15 ہزار پوائنٹس تک گر گیا، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اچانک اور غیر معمولی گراوٹ کے باعث مارکیٹ میں بے چینی پھیل گئی اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے فوری طور پر شیئرز فروخت کرنا شروع کر دیے۔
مارکیٹ میں تیز رفتار مندی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ کو صبح 9 بج کر 22 منٹ پر خودکار حفاظتی نظام کے تحت کاروبار ایک گھنٹے کے لیے معطل کرنا پڑا۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب کے ایس ای-30 انڈیکس میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسٹاک ایکسچینج کے قواعد کے مطابق اگر مارکیٹ میں اچانک حد سے زیادہ گراوٹ آ جائے تو سرمایہ کاروں کو صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع دینے کے لیے ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی جاتی ہے تاکہ گھبراہٹ میں فروخت کا دباؤ مزید نہ بڑھے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے محقق جبران سرفراز نے اس صورتحال کو ایک دن میں ہونے والی غیر معمولی اور ریکارڈ منفی گراوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں ایک ہی روز کے دوران اتنی بڑی کمی کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی سیاسی حالات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ پر شدید دباؤ دیکھنے میں آیا۔
کاروبار ایک گھنٹے کی معطلی کے بعد صبح 10 بج کر 22 منٹ پر دوبارہ شروع ہوا۔ ٹریڈنگ بحال ہونے کے بعد ابتدائی طور پر مارکیٹ میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی اور انڈیکس نے چند ہزار پوائنٹس واپس حاصل کیے، تاہم سرمایہ کاروں کا اعتماد مکمل طور پر بحال نہ ہو سکا اور فروخت کا رجحان برقرار رہا۔ دن کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج 16 ہزار 89 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ 151,973 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی، جو مارکیٹ کے لیے ایک نہایت مشکل دن ثابت ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سینیئر ممبر عابد علی حبیب نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں زیادہ تر سرمایہ کاروں نے احتیاط کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق جب بھی خطے میں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسٹاک مارکیٹ متاثر ہوتی ہے کیونکہ سرمایہ کار خطرات مول لینے کے بجائے اپنا سرمایہ محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال سرمایہ کاری کے فیصلوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور غیر یقینی حالات میں مارکیٹ دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیاں بھی اس دوران دباؤ کا شکار رہیں۔ عابد علی حبیب کے مطابق ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے کاروبار کے آغاز میں شدید گھبراہٹ کا مظاہرہ کیا، تاہم بعد ازاں کچھ حد تک بہتری آئی۔ یورپی مارکیٹس جب کھلیں تو وہاں بھی تقریباً ایک فیصد تک کمی دیکھی گئی، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئل کمپنیوں کے حصص میں بہتری دیکھنے میں آئی، جس نے بعض مارکیٹس کو سہارا فراہم کیا۔
ابا علی حبیب سیکیورٹیز کے ماہر فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صرف چھوٹے سرمایہ کار ہی نہیں بلکہ بڑے مالیاتی اداروں، انسٹی ٹیوشنز اور مچوئل فنڈز نے بھی بڑے پیمانے پر شیئرز فروخت کیے۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت نے مارکیٹ پر اضافی دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں انڈیکس تیزی سے نیچے آیا۔
فیصل کے مطابق آئندہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ کی سمت کا انحصار بڑی حد تک علاقائی سیاسی صورتحال، عالمی مالیاتی رجحانات اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں کشیدگی میں کمی آتی ہے اور عالمی منڈیوں میں استحکام آتا ہے تو مقامی مارکیٹ بھی بتدریج سنبھل سکتی ہے۔
عابد علی حبیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریے مجموعی طور پر مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور متعدد بڑی کمپنیاں منافع بھی کما رہی ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں اس نوعیت کا اتار چڑھاؤ وقتی ہوتا ہے اور طویل مدت میں بنیادی معاشی عوامل ہی اصل اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو صرف منفی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ایک موقع کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے یہ مناسب وقت ہو سکتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور ماہرین کے مشورے سے مارکیٹ میں داخل ہوں، کیونکہ کم قیمت پر معیاری شیئرز خریدنے کا موقع مل رہا ہے۔ تاہم انہوں نے احتیاط کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری ہمیشہ معلومات اور تجزیے کی بنیاد پر کرنی چاہیے تاکہ غیر ضروری نقصان سے بچا جا سکے۔

