17 فروری 1843 برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی دن چارلس جیمز نیپیئر کی قیادت میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے سندھ پر قبضہ کر لیا اور مقامی حکمرانوں کی خودمختاری ختم ہو گئی۔ آج 2026 میں اس واقعے کو 183 سال گزر چکے ہیں، مگر اس کی بازگشت تاریخ میں اب بھی سنائی دیتی ہے۔
انیسویں صدی کے آغاز میں سندھ پر تالپور خاندان کی حکومت تھی۔ تالپور حکمرانوں کو ’امراءِ سندھ‘ کہا جاتا تھا اور وہ مختلف حصوں پر نیم خودمختار انداز میں اقتدار سنبھالے ہوئے تھے۔
اسی زمانے میں برطانوی حکومت کو یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں روسی سلطنت وسطی ایشیا کے راستے ہندوستان تک نہ پہنچ جائے۔ اس خدشے نے سندھ کی جغرافیائی اہمیت کو غیر معمولی بنا دیا۔ دریائے سندھ صرف دریا نہیں رہا، وہ تجارت، فوجی نقل و حرکت اور طاقت کی علامت بن گیا۔
برطانویوں نے ابتدا میں تجارت اور سفارتی معاہدوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا۔ مگر جلد ہی وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے لگے۔ کئی معاہدے ایسے تھے جو تالپور حکمرانوں پر دباؤ ڈال کر کروائے گئے، اور یوں خودمختاری بتدریج کمزور ہوتی گئی۔
سترہ فروری 1843 کو جنگِ میانی حیدرآباد سندھ کے قریب لڑی گئی۔ برطانوی فوج تعداد اور جدید ہتھیاروں کے لحاظ سے مضبوط تھی۔ تالپور فوج نے بہادری سے مقابلہ کیا، مگر تنظیم اور اسلحے کی کمی نمایاں تھی۔ شدید لڑائی کے بعد برطانوی فوج کو فتح حاصل ہوئی اور سندھ کا بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں آ گیا۔
مگر مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔ چوبیس مارچ 1843 کو جنگِ دوبہ لڑی گئی۔ اس معرکے میں تالپور حکمرانوں کو دوبارہ شکست ہوئی، اور سندھ مکمل طور پر برطانوی اقتدار میں چلا گیا۔
اس قبضے کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما تھے۔ تجارتی مفادات، دریائے سندھ برطانوی تجارت اور فوجی نقل و حمل کے لیے نہایت اہم تھا اور اس کے علاوہ دفاعی حکمت عملی کے تحت برطانیہ روسی پیش قدمی کے خدشے کے باعث شمال مغربی سرحد کو محفوظ بنانا چاہتا تھا۔ اور توسیع پسندانہ پالیسی، کیوں کہ اس دور میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر کے مزید علاقوں پر قبضہ کر رہی تھی۔
نتیجہ واضح تھا۔ سندھ کی آزاد حیثیت ختم ہو گئی اور اسے برطانوی ہندوستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ مقامی سیاسی نظام تبدیل ہوا اور نوآبادیاتی انتظامیہ قائم ہوئی۔ بعد میں جدید انتظامی ڈھانچہ، ریلوے اور نہری نظام متعارف ہوا، مگر مقامی خودمختاری محدود ہو گئی۔
کہا جاتا ہے کہ فتح کے بعد نیپیئر نے ایک مختصر پیغام بھیجا ’پیکاوی‘۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’میں نے گناہ کیا‘۔ اسے ’میں نے سندھ حاصل کر لیا‘ کے جملے پر ایک طنزیہ لفظی کھیل سمجھا جاتا ہے، جو آج تک تاریخ میں زیرِ بحث ہے۔
183 سال بعد بھی یہ واقعہ صرف ایک تاریخ نہیں، ایک سبق ہے۔ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خودمختاری کی قیمت ہمیشہ بڑی ہوتی ہے۔

