پاکستان میں توانائی کے بحران، بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کے طویل ادوار نے متبادل توانائی کے ذرائع کو عام آدمی کی ضرورت بنا دیا ہے۔ انہی حالات میں سولر پینل تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سولر پینل کی مقبولیت کی بڑی وجہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ٹیرف میں وقتاً فوقتاً اضافے اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز نے صارفین کے ماہانہ بلوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ حکومت پاکستان نے نیٹ میٹرنگ پالیسی متعارف کروائی جس کے تحت صارفین اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کر سکتے ہیں۔
اس سہولت نے متوسط طبقے کو سولر نظام لگانے کی طرف راغب کیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے فنانسنگ اسکیمیں بھی متعارف کروائیں، جس سے گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر سسٹمز کی تنصیب میں اضافہ ہوا۔

انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کی صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور درآمد شدہ سولر پینلز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بہتر کارکردگی کے لیے سول پینل کی صفائی کتتی ضروری ہے اور کب کی جائے؟
سولر نظام کی مؤثر کارکردگی کے لیے ایک اہم پہلو جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ صفائی اور دیکھ بھال ہے۔ اگر سولر پینل کی باقاعدہ صفائی نہ کی جائے تو اس کی کارکردگی نمایاں طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی تحقیقی اداروں جیسے نیشنل رینیوایبل انرجی لیبارٹری، امریکہ اور انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق گرد و غبار، مٹی، پرندوں کی بیٹ اور صنعتی آلودگی سولر پینل کی سطح پر جمع ہو کر روشنی کے جذب ہونے میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں عموماً پانچ سے 25 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جب کہ صحرائی یا زیادہ گرد آلود علاقوں میں یہ کمی 30 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں کئی شہروں میں فضائی آلودگی اور گرد کا تناسب زیادہ ہے، باقاعدہ صفائی نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی پیداوار میں واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے۔
سولر پینل فوٹو وولٹائیک سیلز پر مشتمل ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی کو براہ راست بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ جب ان سیلز تک روشنی مکمل طور پر نہیں پہنچتی تو وولٹیج اور کرنٹ کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف یومیہ یونٹس کم بنتے ہیں بلکہ نظام کی مجموعی افادیت اور سرمایہ کاری پر منافع بھی کم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں جیسے سندھ اور جنوبی پنجاب میں گرد آلود ہوائیں عام ہیں، جبکہ شہری علاقوں مثلاً کراچی اور لاہور میں فضائی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس لیے وہاں صفائی کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ کم از کم ہر ایک سے تین ماہ میں صفائی کی جائے، جبکہ زیادہ گرد والے علاقوں میں ماہانہ صفائی بہتر نتائج دیتی ہے۔
سولر پینل کی صفائی کے دوران کرنٹ سے کیسے بچا جائے؟
جہاں تک صفائی کے دوران کرنٹ لگنے کے خطرے کا تعلق ہے تو عام تصور یہ ہے کہ اگر مین سوئچ بند ہو تو خطرہ نہیں رہتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سولر پینل سورج کی روشنی میں مسلسل ڈی سی کرنٹ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ گرڈ یا انورٹر بند ہونے کے باوجود پینل کی تاروں میں وولٹیج موجود ہو سکتا ہے۔
اگر صفائی کے دوران ننگی تاروں، کنیکٹرز یا خراب انسولیشن کو ہاتھ لگ جائے تو جھٹکا لگنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ خاص طور پر اگر پانی استعمال کیا جا رہا ہو تو گیلا ماحول کرنٹ کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔
الیکٹریکل سیفٹی کے بین الاقوامی معیارات، جیسے کہ انٹرنیشنل الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن کی گائیڈ لائنز، تجویز کرتی ہیں کہ صفائی سے پہلے انورٹر بند کیا جائے، ڈی سی آئسولیٹر آف کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو صبح یا شام کے وقت صفائی کی جائے جب دھوپ کم ہو اور پیداوار کم سے کم ہو۔

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ صفائی کے دوران نرم برش یا مائیکرو فائبر کپڑا استعمال کیا جائے اور سخت کیمیکل یا کھردری چیزوں سے گریز کیا جائے تاکہ پینل کی سطح کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر چھت پر نظام نصب ہے تو پھسلنے سے بچنے کے لیے ربڑ سول والے جوتے پہننا ضروری ہے۔ بڑے کمرشل پلانٹس میں تربیت یافتہ عملہ حفاظتی دستانے اور موصل آلات استعمال کرتا ہے۔
پاکستان میں چند حادثات کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جن میں غیر تربیت یافتہ افراد کو صفائی کے دوران جھٹکا لگا، اس لیے بہتر ہے کہ اگر سسٹم بڑا ہو یا وائرنگ پیچیدہ ہو تو مستند ٹیکنیشن کی خدمات حاصل کی جائیں۔
مجموعی طور پر سولر پینل کی باقاعدہ صفائی نہ صرف بجلی کی پیداوار کو 10 سے 30 فیصد تک بہتر بنا سکتی ہے بلکہ نظام کی عمر بھی بڑھاتی ہے۔ پاکستان میں توانائی کے بدلتے منظرنامے کے تحت سولر ٹیکنالوجی ایک اہم حل کے طور پر ابھر رہی ہے، مگر اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تکنیکی احتیاط، باقاعدہ دیکھ بھال اور حفاظتی اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

