بین الاقوامی پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی جاری کردہ رپورٹ میں امکشاف کیا گیاہے کہ عالمی سطح پر سیاست دانوں کو تشدد، دھمکیوں اور آن لائین ہراسانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے باعث پھیلنے والا یہ رجحان جمہوریت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرکے مطابق آئی پی یو کی یہ سروے کا بڑا حصہ 2025 میں کیا گیا تھا۔ جس میں 80 سے زائد ممالک کے پارلیمینٹیرینز سے سوالات کیے گئے۔
ارجنٹائن، بینن، اٹلی، ملائیشیا اور نیدرلینڈز کے 519 منتخب نمائندوں سے تفصیلی سوالنامے پُر کروائے گئے تاکہ عالمی سطح پریکساں صورت حال سامنے لائی جائے۔
دنیا بھر کی 183 قومی پارلیمان کی نمائندگی کرنے والی تنظیم انٹرپارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کے 71 فیصد ارکان نے عوام کی جانب سے تشدد یا ہراسانی خاص طور پر آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسے واقعات کی تصدیق کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین سیاست دان زیادہ نشانہ بن رہی ہیں، بالخصوص جنسی نوعیت کی ہراسانی کے معاملات میں ان کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل مارٹن چونگونگ نے کہا: ‘دنیا بھر میں قانون ساز اور پارلیمانی نمائندے بڑھتی ہوئی دھونس اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر اس رجحان کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ عالمی سطح پر جمہوریت کے لیے سنگین نتائج پیدا کرے گا۔’
کیمرون سے تعلق رکھنے والے چونگونگ نے کہا کہ امریکا میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ انہوں نے پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو، سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے شوہر پر حملے، اور کانگریس وومن الہان عمر کے خلاف واقعات کا حوالہ دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں اب صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں گولی ان کے کان کو چھو کر گزری تھی۔
چونگونگ کا کہنا تھا کہ بہت سے قانون ساز آن لائن ہراسانی اور جان کے خطرات کے باعث اب یہ سوچ کر بات کرتے یا لکھتے ہیں کہ کہیں ان کی ذاتی سلامتی کو نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے رویے سیاست دانوں کی عوامی سرگرمیوں کو محدود کر رہے ہیں۔’وقت کے ساتھ ساتھ یہ دھمکیاں نمائندگی کو محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔’
آئی پی یو کے مطابق سیاست دانوں پر حملوں کو نئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت مزید ہوا دے رہی ہیں، جبکہ زیادہ تر آن لائن نفرت اور اشتعال انگیزی گمنام اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتی ہے اور بعض اوقات اس میں ریاستی عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

