آج کا سپر پاور امریکہ، ماضی میں کئی بحرانوں سے گزر چکا ہے۔ سنہ 1929 سے 1939 تک جاری رہنے والا معاشی بحران، جس نے امریکی معیشت، سیاست اور عام زندگی کی سمت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اس بحران کو ‘گریٹ ڈپریشن’ یا ‘شدید کساد بازاری’ سے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس بحران کے دوران چند برسوں میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی۔ فیکٹریاں بند ہوئیں، کھیت اجڑ گئے اور تعمیراتی کام رک گیا۔ لاکھوں خاندانوں کے پاس نہ آمدن رہی نہ بچت۔ شہروں میں روٹی کی قطاریں لگنے لگیں اور دیہی علاقوں میں لوگ اپنے کھیت چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
اس بحران کے دوران 1936 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پناہ گزینوں کی کیمپ میں بیٹھی ایک بے گھر سات بچوں کی بیواہ ماں کی کی لی گئی تصویر نے خاموش بھوک کو زبان دی اور اس تصویر نے نہ صرف ریاست کو شہریوں مشکل وقت میں مدد کرنے کے رجحان یو یکسر تبدیل کیا مگر صحافتی بنیادی اخلاقیات کے نئے اصولوں کی بنیاد رکھی۔
یہ انسانی تاریخ میں لی گئیں انتہائی طاقتور تصاویر میں ایک ہے۔ جس نے ماں، غربت اور ریاستی بے حسی کی پوری تاریخ ایک فریم میں سمیٹ لی۔
یہ تصویر ڈورتھیا لینگ نے لی، جو اس وقت امریکی حکومت کے ایک پروگرام کے تحت کام کر رہی تھیں۔ اس پروگرام کا مقصد ان بے گھر اور دربدر کسان خاندانوں کی زندگی کو دستاویزی شکل دینا تھا جو معاشی بحران کے باعث ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور تھے۔ اس دور میں لاکھوں لوگ روزگار، گھر اور تحفظ کھو چکے تھے۔
ڈورتھیا لینگ کئی ہفتوں سے کیلیفورنیا میں ان عارضی کیمپوں کی تصویریں بنا رہی تھیں جہاں نقل مکانی کرنے والے خاندان رہتے تھے۔ جب وہ نیپومو کے قریب سے گزریں تو پناہ گزینوں کی ایک کیمپ پر ‘مٹر چننے والوں کی کیمپ’ لکھا ہواتھا۔ اس تحریر نے ڈورتھیا لینگ کو گاڑی موڑنے پر مجبور کیا۔ بعد میں انہوں نے لکھا: ‘ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی آواز انہیں واپس بلا رہی ہو۔’
اس عارضی کیمپ میں، کپڑے اور ٹین کی چادروں سے بنے خیمے کے اندر، ایک عورت بیٹھی تھی۔ اس کے بچے اس سے لپٹے ہوئے تھے اور اس کی نظریں کیمرے سے ہٹی ہوئی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ چہرے پر تھا، جیسے وہ کسی آنے والے کل کے بارے میں سوچ رہی ہو۔
ڈورتھیا لینگ نے تیزی سے چھ تصویریں لیں۔ انہوں نے زیادہ سوال نہیں کیے کیونکہ ان کے بقول وہ اس عورت کی خودداری کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی تھیں۔ یہ لمحہ مختصر تھا مگر اس کا اثر دیرپا ثابت ہوا۔
آخری تصویر وہی بنی جسے دنیا آج جانتی ہے۔ دو بچے ماں کے کندھوں میں منہ چھپائے ہوئے، ایک بچہ اس کی گود میں اور ماں کہیں دور دیکھتی ہوئی۔ یہ ترتیب بنائی نہیں گئی تھی مگر احساس کے عین مطابق تھی۔ اس تصویر کا ‘پناہ گزین ماں’ نام دیا گیا۔
سنہ 1936 میں لی گئی بے گھر ماں کی تصویر دنیا کی طاقتور ترین تصویروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کسی واقعے کی نہیں بلکہ ایک لمحے کی گواہ ہے۔ ایسا لمحہ جب انسان کے پاس رونے کا وقت نہیں ہوتا اور صرف سوچنے کی گنجائش رہ جاتی ہے۔
کئی دہائیوں تک اس عورت کا نام کسی کو معلوم نہیں تھا۔ بعد میں اس کی شناخت فلورنس اوونز تھامسن کے طور پر ہوئی، جو اس تصویر کے وقت 32 سال کی تھیں۔ وہ سات بچوں کی ماں تھیں، چروکی نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔

فلورنس کا خاندان کھیتوں میں مزدوری کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا تھا۔ مٹر، کپاس اور سبزیاں چننا ہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔ جس دن یہ تصویر لی گئی، ان کی گاڑی خراب ہو چکی تھی، کام ختم ہو گیا تھا اور کھانے کو بہت کم تھا۔
فلورنس مکمل بھوک سے مر نہیں رہی تھیں مگر بقا کی حد پر ضرور کھڑی تھیں، جہاں ایک دن کا تعطل سب کچھ بدل سکتا تھا۔
جب یہ تصویر اخبارات میں شائع ہوئی تو عوامی ردعمل فوری تھا۔ غصہ، شرمندگی اور دباؤ نے ریاستی اداروں کو حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔ حکومت نے نیپومو کے کیمپ کے لیے 20000 پاؤنڈ خوراک بھیجنے کا حکم دیا۔
مگر تصویر کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ جب امداد پہنچی تو فلورنس اور اس کا خاندان وہاں سے جا چکا تھا۔ وہ اس مدد سے کبھی فائدہ نہ اٹھا سکے جو انہی کے چہرے نے ممکن بنائی تھی۔
ابتدا میں امریکی حکومت نے بحران کو عارضی سمجھا۔ مگر جب حالات بہتر نہ ہوئے تو ریاست کو مداخلت کرنا پڑی۔ سنہ 1933 میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اقتدار میں آئے اور نیو ڈیل پروگرام کا آغاز کیا۔ جس میں اس تصویر کا بڑا کردار تھا۔
رضامندی کے بغیر شہرت
یہ تصویر راتوں رات مشہور ہو گئی مگر فلورنس کو اس کا علم تک نہ تھا۔ انہوں نے کسی اجازت نامے پر دستخط نہیں کیے اور انہیں ایک ڈالر بھی نہیں ملا۔ ان کی زندگی ویسی ہی سخت رہی جیسی تصویر سے پہلے تھی۔
کئی برس بعد انہوں نے کہا کہ وہ تصویر لیے جانے پر خوش نہیں تھیں۔ ان کا احساس تھا کہ ان کی مجبوری کو علامت بنا دیا گیا مگر ان کی حقیقت نہیں بدلی گئی۔
اخلاقی سوالات
بے گھر ماں کی تصویر نے صحافتی دنیا میں ایسے سوالات اٹھائے جو آج بھی زندہ ہیں۔ کیا دکھ کی تصویر لینا درست ہے، کیا آگاہی کافی ہے، اور کیا دستاویز بنانا مدد ہے یا استحصال۔ خود ڈورتھیا لینگ نے بعد میں اعتراف کیا کہ یہ تصویر انہیں عمر بھر یاد رہی اور انہیں پریشان کرتی رہی۔
یہ تصویر آج کیوں اہم؟
بے گھر ماں صرف شدید معاشی کساد بازاری کی کہانی نہیں۔ یہ تصویر ہر اس دور میں دوبارہ سامنے آئی جب دنیا معاشی بحران، پناہ گزینی یا بھوک جیسے مسائل سے دوچار ہوئی۔ فلورنس کے چہرے کے تاثرات کسی ایک ملک یا وقت تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک عالمی زبان بن گئے۔
فلورنس سنہ 1983 تک زندہ رہیں۔ زندگی کے آخری دنوں میں جب انہیں طبی علاج کی ضرورت پڑی تو لوگوں نے چندہ جمع کیا۔ یہ واحد موقع تھا جب تصویر نے انہیں کچھ واپس لوٹایا۔

