سی ٹی ڈی کی پریس کانفرنس میں تین شدت پسندوں کی گرفتاری کا انکشاف۔

بارودی مواد

کراچی میں دہشت گردی کے ایک بڑے اور خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ یہ کامیابی کئی ہفتوں پر محیط ایک انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔

سینٹرل پولیس آفس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ معلومات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی۔

کارروائی کے دوران سیکیورٹی اداروں نے ایک موٹر سائیکل، 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، پانچ دھماکہ خیز سلنڈر، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار برآمد کی، جسے شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا۔ شواہد کے مطابق اس نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے۔ بھارتی پراکسی تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی رہی ہیں۔

شواہد سے دہشت گرد نیٹ ورک کے روابط بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں۔یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی میں استعمال کیا جانا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی مسلسل محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا۔گرفتار ملزم سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات حاصل ہوئیں، جن کی بنیاد پر گزشتہ رات دو مزید دہشت گرد بھی گرفتار کر لیے گئے۔

گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن کے باعث دہشت گردی کا یہ منصوبہ بے نقاب ہوا۔ اس برآمدگی کے نتیجے میں بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ ملزمان نے شہر سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر حاصل کر رکھا تھا، جہاں بارودی مواد ذخیرہ کیا گیا۔

انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی اور آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا۔ عوام میں خوف و ہراس سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی۔

کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ موقع سے 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں موجود بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈر بھی برآمد کیے گئے۔

حکام نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مقامی سہولت کار معمولی مالی فوائد کے عوض دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی اور مؤثر جانچ پر زور دیا گیا۔ یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف قوانین کے سخت نفاذ کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دہشت گرد منصوبے میں ملوث تمام عناصر کا تعاقب جاری ہے۔

 

اسی بارے میں: