روزانہ بلیک کافی پینے والوں میں موت کے خطرات کم، نئی امریکی تحقیق

بلیک کافی

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک بڑی سائنسی تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ جو لوگ روزانہ بلیک کافی پیتے ہیں، ان میں مجموعی طور پر موت کے خطرات کم دیکھے گئے ہیں۔ یہ تحقیق امریکی ماہرین غذائیت اور صحت نے کی، جسے نیوٹریشن اور عوامی صحت کے شعبے سے وابستہ محققین نے مشترکہ طور پر مکمل کیا۔

یہ مطالعہ امریکا میں کیے جانے والے ایک طویل المدتی قومی صحت اور غذائی سروے کے ڈیٹا پر مبنی تھا۔ اس تحقیق میں 46 ہزار سے زائد بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جن کی عمریں مختلف تھیں اور جن کا تعلق امریکا کے مختلف سماجی اور معاشی طبقات سے تھا۔ ان افراد کی صحت، خوراک اور روزمرہ عادات کا ریکارڈ سنہ 1999 سے سنہ 2018 تک یعنی تقریباً 19  برس تک جمع کیا گیا۔

تحقیق کے دوران شرکا سے یہ تفصیل لی گئی کہ وہ روزانہ کتنی مقدار میں کافی پیتے ہیں اور آیا وہ کافی میں چینی، کریم یا دودھ شامل کرتے ہیں یا نہیں۔ بعد ازاں ان افراد کے صحت سے متعلق نتائج کو قومی ڈیٹا کے ساتھ جوڑا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وقت کے ساتھ ان کی صحت اور اموات کی شرح میں کیا فرق آیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ ایک کپ بلیک کافی پیتے تھے، ان میں مجموعی طور پر موت کے خطرے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ کمی تقریباً سولہ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ جو لوگ روزانہ دو سے تین کپ بلیک کافی پیتے تھے، ان میں یہ فائدہ مزید بڑھ کر سترہ فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم چار یا اس سے زیادہ کپ پینے والوں میں اضافی فائدہ نمایاں نہیں رہا۔

دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ یہ مثبت اثرات صرف ان افراد میں دیکھے گئے جو بلیک کافی بغیر چینی اور بغیر کریم کے پیتے تھے۔ جیسے ہی کافی میں چینی یا زیادہ چکنائی شامل کی گئی، اس کے صحت پر پڑنے والے فوائد ختم ہو گئے۔ محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اضافی شوگر اور سیر شدہ چکنائی جسم میں سوزش اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ بلیک کافی پینے والوں میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات نسبتاً کم تھیں۔ ماہرین کے مطابق بلیک کافی میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس اور کیفین جسم کے میٹابولزم اور دل کے افعال پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلیک کافی کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے کم خطرے، دماغی چستی اور توجہ میں اضافے سے بھی جوڑا گیا ہے۔

تاہم محققین نے یہ وضاحت بھی کی کہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کافی پینے اور بہتر صحت کے درمیان تعلق تو دکھایا گیا ہے، لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ صرف بلیک کافی ہی صحت بہتر ہونے کی واحد وجہ ہے۔ ممکن ہے کہ بلیک کافی پینے والے افراد مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی اپناتے ہوں، جیسے بہتر غذا، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے پرہیز۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بلیک کافی اعتدال میں پینا زیادہ تر صحت مند افراد کے لیے محفوظ ہے، لیکن بہت زیادہ کیفین بے خوابی، گھبراہٹ، تیز دل کی دھڑکن اور معدے کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو دل، معدے یا نیند کے مسائل کا شکار ہوں، انہیں کافی کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

اس تحقیق کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ اگر بلیک کافی کو چینی اور کریم کے بغیر اور اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ صحت پر منفی اثر ڈالنے کے بجائے بعض صورتوں میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جسمانی حالت اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اپنی روزمرہ عادات کا فیصلہ کرے۔

 

اسی بارے میں: