سندھ کے دیہی معاشرے میں لوہار کی بھٹی، ہتھوڑے کی آواز اور دہکتے ہوئے لوہے کو مختلف شکلوں میں ڈھالنے کا عمل آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ٹریکٹر، ہارویسٹر اور دوسری جدید زرعی مشینیں کھیتی باڑی کا حصہ بن چکی ہیں، لوہار کا روایتی پیشہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
سندھ کے بعض علاقوں میں ہنرمند آج بھی کسانوں کے لیے درانتیاں، کدالیں، کلہاڑیاں اور دوسرے زرعی اوزار بناتے یا ان کی مرمت کرتے ہیں۔
یہ پیشہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے باوجود بعض روایتی ہنر اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں۔ زرعی مشینیں بڑے پیمانے پر کام انجام دے سکتی ہیں، لیکن ہر چھوٹے کام کے لیے مشین کا استعمال ضروری نہیں ہوتا۔ فصل کے مخصوص حصوں کی کٹائی، گھاس صاف کرنے، چھوٹے رقبوں پر کام کرنے اور اوزاروں کی دھار درست رکھنے کے لیے ہاتھ سے استعمال ہونے والے آلات اب بھی کارآمد ہیں۔
درانتی: کسان کے ہاتھ میں فصل کاٹنے کا اوزار
درانتی لوہار کے بنائے جانے والے اہم زرعی اوزاروں میں شامل ہے۔ اس کا خم دار، دھار دار بلیڈ گھاس، چارہ اور فصل کے تنوں کو کاٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی شکل اور جسامت کام کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
گندم جیسی فصلوں کی کٹائی میں درانتی ہاتھ سے کام کرنے والے کسانوں کے لیے مفید ہے۔ چھوٹے کھیتوں، تنگ جگہوں اور ان مقامات پر جہاں بڑی مشین پہنچانا مشکل ہو، ہاتھ سے چلنے والے اوزار عملی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر علاقے میں فصلوں کی کٹائی کے لیے آج بھی درانتی ہی سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے، کیونکہ اس کا انحصار فصل، رقبے، مزدوری کی دستیابی اور مشینی زراعت کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔
درانتی کی افادیت صرف اسے بنانے تک محدود نہیں۔ مسلسل استعمال سے اس کی دھار کند ہو جاتی ہے، بلیڈ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور لکڑی کا دستہ ڈھیلا ہو سکتا ہے۔ لوہار ایسے اوزاروں کی دھار تیز کرنے، ان کی شکل درست کرنے اور ضرورت کے مطابق مرمت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یوں کسان کو ہر مرتبہ نیا اوزار خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
کدال، کلہاڑی اور دوسرے زرعی اوزار
لوہار کے ہنر کی اہمیت سمجھنے کے لیے ان اوزاروں کو دیکھنا ضروری ہے جو کھیتی باڑی کے مختلف مراحل میں استعمال ہوتے ہیں۔
کدال زمین کی سطح پر کام کرنے، جڑی بوٹیاں نکالنے اور بعض حالات میں مٹی کو ڈھیلا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مضبوط اور مناسب زاویے والا دھاتی حصہ کام کی سہولت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
کلہاڑی لکڑی کاٹنے، شاخیں تراشنے اور کھیتوں یا دیہی گھروں میں لکڑی سے متعلق کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی دھار اور دھاتی سرے کی مضبوطی اس کی کارکردگی کے لیے اہم ہیں۔
بیلچے اور پھاوڑے زمین کھودنے، مٹی اٹھانے اور کھیتوں میں مختلف کاموں کے لیے کارآمد ہیں۔ ان کے دھاتی حصوں کو نقصان پہنچنے پر مرمت کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
ہل کے بعض دھاتی حصے بھی روایتی لوہار کے ہنر سے وابستہ رہے ہیں۔ پاکستان میں زرعی آلات کی تیاری کے حوالے سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے کی ایک رپورٹ میں لوہار کی چھوٹی دکانوں کو زرعی اوزار بنانے والے شعبے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، ایسی دکانیں روایتی طور پر ہل کے پرزے اور دوسرے اوزار تیار کرتی رہی ہیں، جبکہ ان میں استعمال ہونے والے خام مال میں پرانا اور ناکارہ لوہا بھی شامل ہوتا ہے۔
لوہار کا کام صرف نیا اوزار بنانا نہیں
لوہار کے پیشے کا ایک کم معروف پہلو اوزاروں کی مرمت اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کا کام ہے۔ کسی اوزار کی دھار کند ہونے یا اس کا دھاتی حصہ خراب ہونے پر اسے درست کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ نقصان کی نوعیت اس کی مرمت کی اجازت دیتی ہو۔
روایتی طریقے میں کاریگر دھات کو بھٹی میں گرم کرتا ہے، پھر ہتھوڑے سے اس کی شکل بناتا یا درست کرتا ہے۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور دھار یا سطح کی تکمیل کی جاتی ہے۔ مختلف اقسام کی دھاتوں اور اوزاروں کے لیے گرم کرنے، ٹھنڈا کرنے اور دھار لگانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں؛ ہر اوزار کے لیے ایک ہی طریقہ مناسب نہیں ہوتا۔
اس کام میں تجربے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کاریگر کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ دھات کو کس حد تک گرم کرنا ہے، کہاں ضرب لگانی ہے اور بلیڈ کو کس شکل میں رکھنا ہے۔ اگر دھات کی ساخت اور حرارت کا مناسب خیال نہ رکھا جائے تو اوزار کی مضبوطی اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ ہنر محض جسمانی محنت نہیں، بلکہ عملی علم، مشاہدے اور مسلسل تجربے کا مجموعہ ہے۔
پرانے لوہے کا نیا استعمال
روایتی لوہار کے کام کا ایک اور اہم پہلو دھات کو دوبارہ استعمال کرنا ہے۔ بعض ورکشاپس میں پرانے لوہے اور گاڑیوں کے ناکارہ پرزوں سے نئے آلات تیار کیے جاتے ہیں۔
پرانے لوہے کو دوبارہ قابل استعمال بنانا بعض حالات میں خام مال کی لاگت کم کر سکتا ہے اور دھاتی اشیا کی عمر بڑھا سکتا ہے۔ البتہ اس عمل کے ماحولیاتی فوائد کا انحصار دھات کی نوعیت، اسے گرم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن، توانائی کے استعمال اور باقی ماندہ کچرے کے انتظام پر ہوتا ہے۔
سندھ میں لوہار اور دیہی معیشت کا تاریخی تعلق
سندھ کے زرعی معاشرے میں روایتی دستکاروں کا کردار صرف اشیا تیار کرنے تک محدود نہیں رہا۔ تاریخی طور پر دیہی آبادی کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف پیشہ ور افراد ایک دوسرے پر انحصار کرتے تھے۔ کسان کو زرعی اوزار درکار ہوتے تھے، بڑھئی لکڑی کے حصے تیار کرتا تھا اور دوسرے ہنرمند مختلف ضروریات پوری کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے اواخر کے سندھ کی دیہی معیشت پر مبنی تاریخی تحقیق میں لوہار اور بڑھئی جیسے کاریگروں کا ذکر موجود ہے، جو زراعت کے لیے ضروری اوزار تیار کرتے تھے۔ اس تحقیق میں فصل کی پیداوار کی تقسیم کے روایتی طریقوں کا بھی ذکر ملتا ہے، جن کے تحت بعض اوقات کھیتی باڑی ممکن بنانے میں مدد دینے والے افراد کو پیداوار کا حصہ دیا جاتا تھا۔ یہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روایتی دیہی معیشت میں دستکاروں کی خدمات کو زرعی سرگرمیوں سے الگ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، اس روایت کو سندھ کے ہر علاقے اور ہر دور میں یکساں رائج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس تاریخی تعلق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کسان اور لوہار کی ضروریات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ کسان کو ایسے اوزار درکار تھے جو اس کے کام کے مطابق ہوں، جبکہ لوہار کی آمدنی مقامی طلب اور کسانوں کی خریداری کی استطاعت سے متاثر ہوتی تھی۔ جدید زرعی نظام میں بھی مرمت اور مقامی سطح پر اوزار تیار کرنے کی ضرورت بعض علاقوں میں اس تعلق کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
لوہار کی نئی نسل کے سامنے چیلنج
روایتی ہنر کے برقرار رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے معاشی مشکلات کا سامنا نہیں۔ مشینی پیداوار، تیار شدہ زرعی آلات کی دستیابی، خام مال کی قیمت، بجلی اور ایندھن کے اخراجات اور کم منافع چھوٹی ورکشاپوں کے لیے اہم مسائل بن سکتے ہیں۔ تاہم، ان مسائل کی شدت جاننے کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع میں لوہاروں کی آمدنی، کام کے حجم، دکانوں کی تعداد اور نئی نسل کی پیشہ ورانہ ترجیحات پر تازہ تحقیق ضروری ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ ہر روایتی لوہار صرف ہاتھ سے کام نہیں کرتا۔ بعض ورکشاپس میں بجلی سے چلنے والی مشینیں، گرائنڈر، ویلڈنگ کے آلات اور دوسرے جدید ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس لیے روایتی لوہار اور جدید ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں۔ کئی کاموں میں مشین کاریگر کی محنت کم کر سکتی ہے، جبکہ اوزار کی آخری شکل، مرمت اور دھار درست کرنے کے لیے تجربہ کار ہاتھوں کی ضرورت برقرار رہ سکتی ہے۔
اگر یہ پیشہ نئی نسل تک منتقل کرنا ہے تو صرف اس کی ثقافتی اہمیت بیان کرنا کافی نہیں ہوگا۔ کاریگروں کو بہتر آلات، محفوظ کام کی جگہ، معیاری خام مال، فنی تربیت اور اپنی مصنوعات کی بہتر منڈی تک رسائی دینے جیسے اقدامات بھی اہم ہو سکتے ہیں۔
ایک زرعی اوزار سے آگے کی کہانی
سندھ کے لوہار کی کہانی دراصل اس ہنر کی کہانی ہے جو بدلتے ہوئے معاشرے میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ درانتی، کدال اور دوسرے اوزار بظاہر سادہ دھاتی اشیا ہیں، لیکن ان کی تیاری اور مرمت میں عملی علم، تجربہ اور محنت شامل ہے۔
اس پیشے کی اصل اہمیت شاید اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ہر زرعی ضرورت کا حل بڑی مشین نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کھیت میں کام کرنے والے کسان کے لیے ایک مناسب دھار والی درانتی، درست شکل کی کدال یا مرمت شدہ اوزار ہی سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اور اس ضرورت کو پورا کرنے والا لوہار آج بھی دیہی معیشت کے اس حصے سے جڑا ہوا ہے جسے صرف جدید مشینوں کی تعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
