بھارت میں ضبط شدہ بھٹو خاندان کی جائیدادیں: سر شاہنواز بھٹو کا تاریخی خط

شاہنواز بھٹو

تاریخ کے سینے میں بعض راز ایسے دفن ہوتے ہیں جن کی گرہیں برسوں بعد کسی پرانے خط، بوسیدہ دستاویز یا بھولی بسری تحریر کے ذریعے کھلتی ہیں۔ کاغذ کے چند زرد اوراق بسا اوقات پورے عہد کی کہانی بیان کر دیتے ہیں، ایسی کہانی جس میں سیاست کے نشیب و فراز، خاندانوں کے ذاتی دکھ، مالی حقوق کی کشمکش اور بدلتے ہوئے زمانے کی تلخ حقیقتیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں۔

 25 اپریل 1951 کو سر شاہنواز بھٹو کی جانب سے حکومت پاکستان کے سیکریٹری، وزارت خزانہ، کراچی کے نام لکھا گیا ایک خط بھی ایسی ہی تاریخی دستاویز ہے۔ اس خط میں بمبئی اور پونا میں بھٹو خاندان کی جائیدادوں، ہوٹلوں، فرنیچر، حصص اور ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی سیکیورٹیز کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

اس خط پر درج ’بے نظیر‘ کا نام بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سر شاہنواز بھٹو کی ایک بیٹی بے نظیر انتقال کر گئی تھیں اور اپنے بھائی ذوالفقار علی بھٹو کو بہت عزیز تھیں۔ اپنی مرحومہ بہن کی یاد میں ذوالفقار علی بھٹو نے بعد میں اپنی بیٹی کا نام بھی بے نظیر رکھا۔ یوں سر شاہنواز بھٹو نے اپنے گھر کا نام بھی ’بے نظیر‘ رکھا۔ یاد رہے کہ یہ خط محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیدائش سے دو سال پہلے لکھا گیا تھا۔

بی بی سی اردو میں صحافی اور محقق وقار مصطفیٰ کا 26 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والا مضمون، بعنوان ’ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی آزادی کے کئی سال بعد بھی خود کو انڈیا کا شہری ثابت کرنے کی کوشش کیوں کرتے رہے؟‘ اسی تاریخی سوال کو موضوع بناتا ہے۔

بی بی سی کے فراہم کردہ مضمون کے ابتدائی حصے کے مطابق، ذوالفقار علی بھٹو کی بمبئی میں واقع جائیداد کو بھارتی حکومت نے تقسیم کے بعد متروکہ جائیداد قرار دے کر اپنی تحویل میں لے لیا تھا، جب کہ بھٹو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک تھے۔ بی بی سی کے مطابق، انہوں نے اس جائیداد کے حصول کے لیے اگلے نو برس تک بھارتی شہریت سے متعلق مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالتی جنگ لڑی۔

مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اس قانونی جدوجہد کے دوران پاکستان میں کیا معاملات پیش آئے اور بعد کے برسوں میں ان کے سیاسی مخالفین نے بھارتی شہریت سے متعلق ان کے دعوے کو کس طرح سیاسی بحث کا حصہ بنایا۔

اس داستان کا ایک اہم دستاویزی پہلو سر شاہنواز بھٹو کا 25 اپریل 1951 کو حکومت پاکستان کی وزارت خزانہ کے سیکریٹری کے نام لکھا گیا خط ہے۔ اس خط میں سر شاہنواز بھٹو نے اپنے خاندان کی بمبئی اور پونا میں واقع جائیدادوں، کرایوں کی عدم ادائیگی، ضبط شدہ سیکیورٹیز اور دیگر مالی اثاثوں کی واپسی کے لیے مدد طلب کی تھی۔

یہ خط ذوالفقار علی بھٹو کی شہریت سے متعلق عدالتی مؤقف کا براہ راست ثبوت نہیں، لیکن اس تنازعے کے خاندانی، مالی اور تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

جوناگڑھ سے بمبئی تک: بھٹو خاندان کی جائیدادوں کا پس منظر

بی بی سی اردو کے فراہم کردہ مضمون میں وقار مصطفیٰ لکھتے ہیں کہ برطانوی ہندوستان کی تقسیم سے تقریباً سات آٹھ ماہ پہلے سر شاہنواز بھٹو اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ ریاست جوناگڑھ میں حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے گئے تھے، جب کہ ان کے نوجوان بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کو بمبئی میں تعلیم اور خاندان کی جائیدادوں کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑا گیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق، تقسیم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک تھے، جب بھارتی حکومت نے بمبئی میں ان کی جائیداد کو متروکہ قرار دے کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ مضمون کے مطابق، اسی فیصلے کے بعد جائیداد کی واپسی کے لیے ایک طویل قانونی تنازع شروع ہوا، جس میں شہریت کا سوال بنیادی اہمیت اختیار کر گیا۔

اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے سر شاہنواز بھٹو کے خط کا مطالعہ ضروری ہے، کیونکہ اس میں خاندان کی جائیدادوں کی ملکیت، ان کے کرایوں اور ضبطی کے حالات کے بارے میں خود سر شاہنواز بھٹو کا مؤقف درج ہے۔

سر شاہنواز بھٹو کا حکومت پاکستان کے نام خط

تاریخ: 25 اپریل 1951

سر شاہنواز بھٹو، بے نظیر، مینئل روڈ، کراچی۔

بخدمت جناب سیکریٹری صاحب، وزارت خزانہ، حکومت پاکستان، کراچی۔

جناب عالی!

ہندوستان کی تقسیم سے پہلے، جب ہندوستانی یونین اور ڈومینین آف پاکستان کے نام سے دو الگ ڈومینین قائم نہیں ہوئے تھے، میں نے بمبئی کی قانون ساز کونسل اور بمبئی کابینہ میں صوبہ سندھ کی نمائندگی کی۔ سندھ کی علیحدگی کے بعد، اپریل 1937 سے یکم جنوری 1947 تک میں نے مشترکہ پبلک سروس کمیشن میں صوبہ سندھ کی نمائندگی کی۔

اس پورے عرصے میں میرے خاندان کے افراد میرے ساتھ تھے اور جب میں صوبہ سندھ کے نمائندے کی حیثیت سے بمبئی میں خدمات انجام دے رہا تھا تو وہیں میرے ساتھ رہتے تھے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا، مسٹر ذوالفقار علی، اس وقت نابالغ تھا اور بمبئی ہائی کورٹ نے مجھے اس کا سرپرست مقرر کیا تھا۔

اس عرصے کے دوران ہم نے بمبئی اور پونا میں جائیدادیں حاصل کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق ہندوستانی یونین سے نہیں تھا اور 1921 سے 1947 تک اس طویل مدت کے دوران میں وہاں صوبہ سندھ کے نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا رہا۔

ہماری جائیدادوں میں بمبئی کا ایسٹوریا ہوٹل اور ’مائی نیسٹ‘ نامی جائیداد شامل تھیں، جو دونوں میرے بیٹے مسٹر ذوالفقار علی کی ملکیت تھیں۔ اس کے علاوہ پونا میں تین ایکڑ رقبے پر مشتمل فرنیچر سمیت ایک گھر بھی تھا، جسے بنگلہ نمبر 43، آندھ روڈ کہا جاتا تھا۔ یہ گھر میری اہلیہ، بیٹیوں، بیٹے اور میری مشترکہ ملکیت تھا۔

ان جائیدادوں کو بمبئی اور پونا کے کلکٹروں نے فوجی مقاصد کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

بمبئی کے علاقے فورٹ میں واقع ایسٹوریا ہوٹل کے لیے حکومت ہند تمام نرخوں، ٹیکسوں اور مرمت کے اخراجات سے الگ، ماہانہ 6,700 روپے خالص کرایہ ادا کرتی تھی۔ یہ شرط بھی طے تھی کہ جائیداد کو اپنی تحویل میں لینے کے وقت جس اصل حالت میں حاصل کیا گیا تھا، اسی حالت میں واپس کیا جائے گا۔

اسی طرح ’مائی نیسٹ‘ کے لیے حکومت ہند ماہانہ 550 روپے خالص کرایہ ادا کرتی تھی، اور اس پر بھی یہی شرط لاگو ہوتی تھی کہ جائیداد کو اصل حالت میں بحال رکھا جائے۔ پونا میں ہمارے گھر کے لیے ماہانہ 300 روپے کرایہ اور فرنیچر کے استعمال کے عوض 100 روپے ادا کیے جاتے تھے۔ اس طرح گھر اور فرنیچر کا مجموعی ماہانہ کرایہ 400 روپے بنتا تھا۔ اس جائیداد کے لیے بھی وہی شرائط مقرر تھیں۔

حکومت ہند نے تقریباً جولائی 1948 میں صرف ایسٹوریا ہوٹل کو اپنی تحویل سے واپس کیا۔ مسٹر شیلی نامی ایک شخص، جو حکومت ہند کی جانب سے ہوٹل چلا رہا تھا، نے انہی شرائط پر ہوٹل لیز پر لے لیا جن کے تحت یہ ہوٹل اور دیگر جائیدادیں 1942 میں اپنی تحویل میں لی گئی تھیں۔ تاہم، بمبئی میں واقع جائیداد نمبر 2، یعنی ’مائی نیسٹ‘، اور جائیداد نمبر 3، یعنی بنگلہ نمبر 43، آندھ روڈ، حکومت ہند کے قبضے میں رہیں۔

یکم جنوری 1949 سے ہوٹل کے لیز دار نے ماہانہ 6,700 روپے کرایہ ادا کرنا بند کر دیا۔ اسی طرح حکومت نے یکم اپریل 1948 سے جائیداد نمبر 2 اور 3 کا کرایہ ادا کرنا بھی بند کر دیا۔

جائیداد نمبر 2، ’مائی نیسٹ‘، نومبر 1948 میں بمبئی ہائی کورٹ کی منظوری سے مسز ملک کو فروخت کر دی گئی۔ اس کی فروخت کی قیمت ایک لاکھ چالیس ہزار روپے تھی، جو بمبئی ہائی کورٹ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کے پاس جمع کرا دی گئی۔ یہ رقم حکومت ہند کی چار فیصد شرح منافع والی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی تھی۔

فروخت کی منظوری اس شرط پر دی گئی تھی کہ رقم کو ان شرائط کے مطابق محفوظ رکھا جائے گا، یہاں تک کہ ذوالفقار علی بالغ ہو جائیں۔ وہ پانچ جنوری 1949 کو بالغ ہوئے۔

میرا بیٹا ذوالفقار علی 1947 میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاس اینجلس گیا تھا، جہاں اس نے سیاسیات کا مضمون اختیار کیا۔ اس مقصد کے لیے 1945 سے کوششیں جاری تھیں۔ اس نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے اعزاز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔

اب وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرائسٹ چرچ کالج میں قانون کے مضمون میں اعزازی بیچلر آف آرٹس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور بیک وقت بیرسٹر بننے کے لیے لنکنز اِن میں بھی داخل ہے۔

ہمیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر اور کسی وضاحت کے لیے بلائے بغیر، مجھے، میرے بیٹے ذوالفقار علی، میری اہلیہ اور میری بیٹیوں کو ’ایویکیوز‘ یعنی اپنے سابقہ مقام سے منتقل ہونے والے افراد قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد بمبئی اور پونا میں ہماری تمام جائیدادیں وہاں کے ڈپٹی کسٹوڈینز نے ضبط کر لیں۔

بعدازاں بمبئی کے ڈپٹی کسٹوڈین نے بمبئی ہائی کورٹ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کے پاس موجود میرے بیٹے ذوالفقار علی کی ایک لاکھ 40 ہزار روپے مالیت کی سیکیورٹیز بھی اپنی تحویل میں لے لیں۔

گزشتہ سال دونوں ڈومینینز کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ منقولہ جائیدادوں کو آزاد کیا جائے گا اور دونوں ڈومینینز میں مالکان کو اپنی منقولہ جائیدادوں کا قبضہ واپس لینے کی اجازت ہوگی۔

ہم نے بارہا ڈپٹی کسٹوڈین سے رابطہ کیا کہ مسٹر ذوالفقار علی کی سیکیورٹیز واپس کی جائیں اور ہمیں بنگلہ نمبر 43، آندھ روڈ سے اپنا فرنیچر نکالنے کی اجازت دی جائے، لیکن ہمیں کسی قسم کا جواب نہیں ملا۔ اس کے علاوہ، کرایوں کی مد میں بھی ایک بڑی رقم جمع ہو چکی ہوگی، جو بمبئی اور پونا کے ڈپٹی کسٹوڈینز کے قبضے میں ہے۔

ہم میں سے کسی نے بھی پاکستان میں چھوڑ دی گئی ایویکیوز کی جائیداد میں سے ایک روپے کی مالیت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔

میری اہلیہ کے کچھ حصص بھی ہیں، لیکن ان سے متعلق کاغذات جوناگڑھ میں رہ گئے تھے، اس لیے ہمارے پاس ان کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

لہٰذا، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم ہماری مدد فرمائیں تاکہ کم از کم ہماری منقولہ جائیداد، فرنیچر، سیکیورٹیز اور حصص ہمیں واپس مل سکیں، تاوقتیکہ غیر منقولہ جائیدادوں کے معاملے میں دونوں ڈومینینز کے درمیان کوئی سمجھوتا طے پا جائے۔

آپ کا نہایت فرمانبردار خادم

دستخط شدہ: ایس۔ ایم۔ بھٹو

سر شاہنواز مرتضیٰ بھٹو

سر شاہنواز بھٹو کا خط یہ ثابت کرتا ہے کہ 1951 تک خاندان کی جائیدادوں اور مالی اثاثوں کی واپسی کا تنازع موجود تھا اور انہوں نے حکومت پاکستان سے مدد طلب کی تھی۔ تاہم، خط میں ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے بھارتی شہریت کا دعویٰ کرنے، عدالتوں میں ان کی قانونی حکمت عملی یا اس کے نتیجے کی تفصیل موجود نہیں۔ ان پہلوؤں کے لیے بی بی سی کی رپورٹ اور متعلقہ عدالتی دستاویزات الگ ماخذ ہیں۔

اسی طرح، خط میں جائیدادوں کی ضبطی کو جوناگڑھ کے معاملے سے براہ راست نہیں جوڑا گیا۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے کہ آیا اس تنازعے کے پیچھے کوئی مخصوص سیاسی محرک تھا۔

اسی بارے میں: