تصور کیجیے ایک ایسے شخص کا، جس نے کبھی صبح کے رنگ نہ دیکھے ہوں؛ دوسرے کا، جو کبھی بول نہ سکا ہو؛ اور تیسرے کا، جس کا ذہن خیالات سے بھرا ہو، مگر فالج کے باعث بے حرکت جسم اسے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی اجازت نہ دیتا ہو۔ ان کے گرد زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ لوگ اکثر ان کی معذوری ہی دیکھتے ہیں، گویا قدرت نے انہیں زندگی کی عام خوشیوں سے بھی دور رکھا ہو۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کے اندر سوچوں، احساسات اور امکانات کی ایک دنیا آباد ہے، جو اظہار کا کوئی راستہ تلاش کر رہی ہے۔
جا خدا کان نه ٿي، جا نه امڪان ۾،
ڪالھ کان ڳالھ آھي سا انسان ۾
شیخ ایاز
(جو خدا کے دائرۂ امکان میں نہ تھا، کل سے وہ بات انسان میں ہے)
اب تصور کیجیے کہ کوئی تبدیلی آتی ہے۔ ہاتھ لگائے بغیر کمپیوٹر کی اسکرین پر کرسر حرکت کرنے لگتا ہے۔ کوئی پیغام نمودار ہوتا ہے۔ کوئی خیال لفظوں کا روپ دھار لیتا ہے۔ ایک روبوٹک بازو انسان کے اپنے حکم پر کھانا اس کے منہ تک پہنچاتا ہے۔ جس کام کے لیے پہلے کسی دوسرے کی مدد درکار تھی، وہ آہستہ آہستہ اس کے اپنے اختیار میں آنے لگتا ہے۔
ایسا لمحہ دیکھنے والے گھر والوں کو کسی معجزے سے کم محسوس نہیں ہوگا۔ مگر اس کے پیچھے اعصابی سائنس، انجینئرنگ، جراحی اور آزمائشوں میں حصہ لینے والے افراد کی برسوں کی محنت ہوتی ہے۔ نیورالنک (Neuralink) ان کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو ایسے لمحوں کو ممکن بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ فالج سے متاثر آزمائشی شرکا نے نیورالنک کے ذریعے کمپیوٹر اور معاون آلات چلائے ہیں۔ دوسری امیدیں، جن میں نابینا افراد کو بصری ادراک فراہم کرنے کا مقصد بھی شامل ہے، ابھی تحقیق اور ترقی کے مراحل میں ہیں۔ جو حاصل ہو چکا ہے اور جس کی ابھی امید ہے، ان کے درمیان کے سفر کو حیرت کے ساتھ احتیاط سے بھی سمجھنا چاہیے۔
2016 میں قائم ہونے والی نیورالنک انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطہ قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس کا فوری مقصد نہایت انسانی ہے: جب بیماری یا زخم جسم کے معمول کے پیغام رسانی کے راستوں کو مسدود کر دے تو انسان کو گفتگو، تخلیق اور عمل کی خودمختاری واپس دلانے میں مدد کرنا۔

اس کے شریک بانی ایلون مسک 28 جون 1971 کو جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں پیدا ہوئے۔ فوربز کے مطابق، 25 اکتوبر 2026 کو ان کی دولت کا تخمینہ 922.9 ارب امریکی ڈالر تھا۔ ان کے اہم کاروباری تعلقات میں ٹیسلا، اسپیس ایکس، اسٹارلنک، نیورالنک، دی بورنگ کمپنی، ایکس اے آئی اور ایکس شامل ہیں، جبکہ اس سے پہلے وہ زِپ ٹو، ایکس ڈاٹ کام اور پے پال، سولر سٹی اور اوپن اے آئی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
ان کی دولت اور شہرت نیورالنک کی طرف توجہ کھینچتی ہیں، لیکن کمپنی کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی مریضوں کے لیے محفوظ انداز میں کیا حاصل کر سکتی ہے۔
اس خیال کو سمجھنے کے لیے جسم کے اعصابی نظام کو پیغام رسانی کے ایک جال کی صورت میں دیکھیے۔ دماغ ارادی حرکت سے متعلق سگنل پیدا کرتا ہے، جبکہ نخاعِ شوکی، یعنی حرام مغز، اور اعصاب کے ذریعے یہ احکامات جسم تک پہنچتے ہیں۔ کوئی زخم اس راستے کو بند کر سکتا ہے، اگرچہ انسان کی سوچنے اور ارادہ کرنے کی صلاحیت برقرار ہو۔ نیورالنک کا مقصد ایک ایسا متبادل راستہ بنانا ہے، جس کے ذریعے دماغ کے مخصوص سگنلز کسی بیرونی آلے کو چلا سکیں۔
اس ٹیکنالوجی کو دماغ اور کمپیوٹر کا رابطہ، یعنی برین کمپیوٹر انٹرفیس (Brain-Computer Interface: BCI) کہا جاتا ہے۔ نیورالنک کا این ون (N1) امپلانٹ، یعنی جسم کے اندر نصب کیا جانے والا آلہ، 64 انتہائی باریک اور لچک دار دھاگوں پر موجود 1,024 الیکٹروڈز کے ذریعے اعصابی سرگرمی ریکارڈ کرتا ہے۔ ایک جراحی روبوٹ ان دھاگوں کو دماغ کے بافتوں میں داخل کرتا ہے۔ امپلانٹ یہ معلومات وائرلیس طریقے سے ایک بیرونی نظام تک پہنچاتا ہے، جہاں سافٹ ویئر اعصابی سرگرمی کے نمونوں کو سمجھ کر انہیں کرسر چلانے جیسے احکامات میں تبدیل کرتا ہے۔
انجینئرنگ کی زبان میں، یہ کسی خراب رابطے کی جگہ ایک متبادل گزرگاہ بنانے جیسا ہے۔ اس کے ذریعے ہاتھ کی معمول کی حرکت کے بغیر کمپیوٹر تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ البتہ، امپلانٹ سے کرسر چلانے کا مطلب یہ نہیں کہ نخاعِ شوکی کا زخم خودبخود ٹھیک ہو گیا یا انسان دوبارہ چلنے لگا۔
نیورالنک کا پہلا امپلانٹ جنوری 2024 میں ایک انسان میں نصب کیا گیا۔ وہ شخص نولینڈ آربا تھا، جو نخاعِ شوکی میں چوٹ لگنے کے بعد فالج کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ اس نے بعد میں اس رابطے کے ذریعے کمپیوٹر چلایا اور کمپنی کی اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ پیش کیا، جسے وہ ٹیلی پیتھی (Telepathy) کہتی ہے۔ نام کے باوجود، یہاں مراد دماغ کے مخصوص سگنلز کو آلات چلانے کے احکامات میں تبدیل کرنا ہے، نہ کہ کسی انسان کے ہر خیال کو بلاحد و قید پڑھ لینا۔

بعد میں سامنے آنے والی مثالوں نے بتایا کہ یہ رسائی ایک ابتدائی مظاہرے سے آگے کیا معنی رکھ سکتی ہے۔ 21 اگست 2024 کو جاری کردہ رپورٹ میں نیورالنک نے اپنے دوسرے آزمائشی شریک ایلیکس کے بارے میں بتایا کہ وہ کمپیوٹر کی مدد سے ڈیزائن بنانے والا سافٹ ویئر استعمال کر رہا تھا اور کاؤنٹر اسٹرائیک گیم بھی کھیل رہا تھا۔
گیم کے دوران اس کے پہلے سے موجود معاون کنٹرولر کے ساتھ امپلانٹ نے نشانہ لگانے میں مدد دی۔ یوں کمپیوٹر تک رسائی گفتگو کے ساتھ تخلیق اور مختلف سرگرمیوں میں شرکت کا ذریعہ بھی بننے لگی۔
28 جنوری 2026 کو نیورالنک نے بتایا کہ دنیا بھر میں اس کی آزمائشوں میں 21 افراد شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، سیباسٹین نامی 23 سالہ میڈیکل طالب علم پڑھائی کے لیے روزانہ 17 گھنٹے تک اپنا امپلانٹ استعمال کر رہا تھا۔ نِک نامی ایک دوسرے شریک نے معاون روبوٹک بازو کے ذریعے خود کھانا کھانے سمیت مختلف کام کیے۔
بریڈ، جو ایمیوٹروفک لیٹرل اسکلروسس (ALS) نامی اعصابی بیماری میں مبتلا ہے، گردن حرکت نہ دے سکنے کے باوجود وہیل چیئر پر نصب کیمرے کو کنٹرول کرکے اپنے اردگرد دیکھ سکا۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ انگلیوں کو حرکت دینے کے ذہنی تصور کے ذریعے ٹائپنگ کی رفتار فی منٹ 40 الفاظ تک پہنچ گئی۔ یہ کمپنی کے بیان کردہ آزمائشی تجربات تھے اور شرکا کی تعداد جنوری 2026 کی صورت حال ظاہر کرتی ہے۔
ان افراد کے لیے ان کامیابیوں کا مفہوم واضح اور انسانی ہے۔ کمپیوٹر ان کی درس گاہ، کام کی جگہ، تخلیقی مرکز یا گھر والوں سے رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ روبوٹک بازو روزمرہ کے کسی کام پر ان کا اپنا اختیار بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اصل فائدہ ان اختیارات کی واپسی میں ہے، جنہیں فالج نے محدود کر دیا تھا۔
اب اگلا چیلنج اس کنٹرول کو مزید قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 کی ایک انجینئرنگ رپورٹ میں نیورالنک نے بتایا کہ اعصابی سگنلز کو سمجھنے والے اپنے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 50 ہزار گھنٹوں سے زیادہ کی ریکارڈنگ استعمال کی گئی۔ کمپنی کے مطابق، سگنلز کی تشریح کرنے والا نظام دوبارہ کیلیبریشن، یعنی درست کارکردگی کے لیے ازسرنو ترتیب، کے بغیر کئی ہفتوں تک کارآمد رہا، جبکہ کرسر کنٹرول کی ایک آزمائش میں فی سیکنڈ 11.32 بِٹس کی شرح حاصل ہوئی۔
یہ عدد کسی مخصوص کام کی کارکردگی ناپتا ہے، ذہانت نہیں؛ تاہم یہ روزمرہ استعمال کو مزید آسان بنانے کی کوشش ضرور ظاہر کرتا ہے۔
رابطے کی صلاحیت بڑھانا تحقیق کا ایک اور اہم رخ ہے۔ نیورالنک کی وائس (VOICE) تحقیق کا مقصد دماغ کے ان حصوں سے سگنلز سمجھنا ہے، جو بولنے کے عمل میں حصہ لیتے ہیں، تاکہ بولنے میں شدید دشواری رکھنے والے افراد کی مدد کی جا سکے۔
جنوری 2026 میں کمپنی نے فی منٹ 140 الفاظ کی رفتار سے گفتگو ممکن بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ عدد ایک تحقیقی ہدف تھا، اس اعلان میں حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔
کمپنی بلائنڈ سائٹ (Blindsight) پر بھی کام کر رہی ہے، جس کا مقصد دماغ کے بصارت سے متعلق حصوں کو تحریک دے کر بصری ادراک پیدا کرنا ہے۔ اسے 17 ستمبر 2024 کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے بریک تھرو ڈیوائس کا درجہ ملا۔ یہ درجہ آلے کی تیاری اور جائزے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے، لیکن یہ عام فروخت کی منظوری یا معمول کی بینائی بحال ہو جانے کا ثبوت نہیں۔
یہ منصوبے ایک وسیع مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں: مخصوص جسمانی رکاوٹوں کو عبور کرنے والے متبادل راستوں کے ذریعے لوگوں کو گفتگو، معلومات تک رسائی اور اپنے گردوپیش کی دنیا سے تعلق قائم کرنے میں مدد دینا۔ ان کی کامیابی محفوظ جراحی، پائیدار امپلانٹس، قابلِ اعتماد سافٹ ویئر اور احتیاط سے کی گئی آزمائشوں کے شواہد پر منحصر ہوگی۔
مناسب قیمت، علاج اور نگہداشت کی مسلسل سہولت، اور دماغی سگنلز کے ڈیٹا کا تحفظ بھی طے کریں گے کہ یہ فوائد کتنی بڑی آبادی تک پہنچ سکتے ہیں۔
نیورالنک اب محض ایک خیال نہیں رہی؛ لوگوں کے کمپیوٹر اور معاون آلات چلانے کی عملی مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ مستقبل کے لیے اس کے عزائم کہیں بڑے ہیں، لیکن ہر نئی صلاحیت کی ترقی کے ساتھ اس کے وعدوں کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ اس کی پائیدار کامیابی ان زندگیوں میں نظر آئے گی، جن میں لوگ سیکھنے، تخلیق کرنے، گفتگو کرنے اور اپنی مرضی سے عمل کرنے کی آزادی دوبارہ حاصل کریں گے۔

