Tag: ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ پر بڑا پرائیویسی فیچر، اب موبائل نمبر کے بجائے یوزر نیم سے رابطہ ممکن ہوگا

    واٹس ایپ پر بڑا پرائیویسی فیچر، اب موبائل نمبر کے بجائے یوزر نیم سے رابطہ ممکن ہوگا

    دنیا کی مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی بہتر بنانے کے لیے ایک اہم فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مستقبل میں نئے لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیے موبائل نمبر شیئر کرنا ضروری نہیں رہے گا۔

    کمپنی نے دنیا بھر کے صارفین کے لیے یوزر نیم ریزرو کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ یہ فیچر رواں سال کے آخر تک مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔

    نئے فیچر کے تحت صارفین اپنی پسند کا ایک منفرد یوزر نیم منتخب کر سکیں گے۔ یہ یوزر نیم تین سے پینتیس حروف پر مشتمل ہوگا، جس میں انگریزی کے حروف، اعداد، فل اسٹاپ اور انڈر اسکور شامل کیے جا سکیں گے۔ ہر یوزر نیم منفرد ہوگا اور کسی دوسرے صارف کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔

    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کا بنیادی مقصد صارفین کی پرائیویسی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اگر صارف نے یوزر نیم فعال کر رکھا ہو تو کسی نئے فرد یا کاروبار سے پہلی مرتبہ رابطہ کرتے وقت اس کا موبائل نمبر ظاہر نہیں ہوگا، بلکہ صرف یوزر نیم نظر آئے گا۔

    اس کا مطلب ہے کہ واٹس ایپ گروپس، کمیونٹیز، ایونٹس یا کسی نئے کاروباری رابطے کے دوران ہر بار اپنا ذاتی فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    کمپنی نے واضح کیا ہے کہ واٹس ایپ کسی عوامی یوزر نیم ڈائریکٹری کا آغاز نہیں کر رہا۔ یعنی صارفین صرف سرچ کے ذریعے کسی کا یوزر نیم تلاش نہیں کر سکیں گے۔ رابطہ قائم کرنے کے لیے متعلقہ شخص کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا، تاکہ غیر ضروری پیغامات اور جعلی رابطوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

    واٹس ایپ ایک اضافی حفاظتی فیچر بھی متعارف کرا رہا ہے جسے ‘یوزر نیم کی’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارف یہ اختیار رکھے گا کہ صرف وہی افراد اسے پیغام بھیج سکیں جن کے پاس یہ مخصوص کلید موجود ہو۔

    کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کریئیٹرز، چھوٹے کاروبار اور مختلف ادارے اگر چاہیں تو فیس بک یا انسٹاگرام پر استعمال ہونے والا اپنا موجودہ یوزر نیم واٹس ایپ پر بھی حاصل کر سکیں گے، بشرطیکہ وہ دستیاب ہو۔ اس اقدام کا مقصد مختلف پلیٹ فارمز پر یکساں شناخت برقرار رکھنا اور جعل سازی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

    اسی طرح مشہور شخصیات، عوامی نمائندوں اور اہم اداروں کے بعض یوزر نیم پہلے ہی محفوظ کر دیے گئے ہیں تاکہ کوئی دوسرا ان کی شناخت استعمال نہ کر سکے۔

    تاہم واٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ اکاؤنٹ بنانے کے لیے موبائل نمبر بدستور لازمی رہے گا۔ یوزر نیم صرف نئے افراد سے رابطے کے دوران فون نمبر کو پوشیدہ رکھنے کے لیے استعمال ہوگا اور یہ موبائل نمبر کا متبادل نہیں ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق یہ فیچر صحافیوں، فری لانسرز، کاروباری افراد اور روزانہ نئے لوگوں سے رابطہ کرنے والے صارفین کے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ذاتی موبائل نمبر شیئر کیے بغیر محفوظ انداز میں رابطہ ممکن ہوگا۔

  • واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ، فون نمبر چھپانے کے لیے  ‘یوزر نیم’ فیچر متعارف، صارفین کو رازداری کا نیا تحفظ

    واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ، فون نمبر چھپانے کے لیے ‘یوزر نیم’ فیچر متعارف، صارفین کو رازداری کا نیا تحفظ

    دنیا کی مقبول ترین پیغام رسانی کی ایپ واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے کئی برسوں بعد ایک اہم تبدیلی متعارف کرا رہی ہے، جس کے تحت اب صارفین اپنا ذاتی موبائل نمبر شیئر کیے بغیر بھی دوسروں سے رابطہ کر سکیں گے۔

    کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ‘یوزر نیم’ فیچر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرحلہ وار جاری کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ جولائی 2026 تک یہ زیادہ تر پاکستانی صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔

    یہ تبدیلی واٹس ایپ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ایپ کے آغاز سے اب تک ہر صارف کی شناخت صرف اس کے موبائل نمبر کے ذریعے ہوتی تھی۔

    نئے نظام کے تحت ہر صارف اپنا منفرد یوزر نیم بنا سکے گا، جس کے ذریعے دوسرے افراد اس سے رابطہ کر سکیں گے، جبکہ اس کا ذاتی موبائل نمبر پوشیدہ رہے گا۔

    ماہرین کے مطابق اس فیچر سے خاص طور پر ایسے افراد کو فائدہ ہوگا جو کاروباری سرگرمیوں، آن لائن خرید و فروخت، سماجی تنظیموں، تعلیمی گروپوں یا دیگر عوامی رابطوں کے دوران اپنا ذاتی نمبر شیئر نہیں کرنا چاہتے۔

    اس سے صارفین کی نجی معلومات کا تحفظ مزید مضبوط ہوگا اور غیر ضروری پیغامات اور کالز میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔

    واٹس ایپ کی نئی سہولت استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اپنی پروفائل کی سیٹنگز میں جا کر ‘یوزر نیم’ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ وہاں وہ تین سے پینتیس حروف پر مشتمل ایک منفرد نام منتخب کر سکیں گے۔ کمپنی نے جعلی شناخت اور دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے یوزر نیم بنانے کے چند اصول بھی مقرر کیے ہیں۔

    ان اصولوں کے مطابق یوزر نیم میں کم از کم ایک انگریزی حرف ہونا ضروری ہوگا۔ اس میں صرف چھوٹے انگریزی حروف، اعداد، انڈر اسکور اور فل اسٹاپ استعمال کیے جا سکیں گے۔

    یوزر نیم کا آغاز "www” سے نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ ".com”، ".net”، ".org” یا دیگر ویب سائٹ والے لاحقے بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    اسی طرح یوزر نیم کے آغاز یا اختتام پر فل اسٹاپ نہیں لگایا جا سکے گا اور مسلسل دو فل اسٹاپ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔

    ہر واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ایک وقت میں صرف ایک ہی یوزر نیم رکھا جا سکے گا، تاہم صارفین بعد میں اپنی ضرورت کے مطابق اسے تبدیل بھی کر سکیں گے۔

    یوزر نیم تبدیل کرنے سے چیٹ، گروپس یا دیگر معلومات متاثر نہیں ہوں گی، البتہ جن افراد کے ساتھ پہلے سے گفتگو جاری ہوگی انہیں اس تبدیلی کی اطلاع مل جائے گی۔

    اگرچہ یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا، لیکن موبائل نمبر مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ واٹس ایپ کے مطابق فون نمبر اب بھی اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنے، شناخت کی تصدیق اور اکاؤنٹ کی بحالی کے لیے استعمال ہوگا۔ تاہم جب کوئی شخص یوزر نیم کے ذریعے پہلی مرتبہ رابطہ کرے گا تو اسے صرف یوزر نیم نظر آئے گا، موبائل نمبر نہیں۔

    ڈیجیٹل حقوق کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے لاکھوں افراد طویل عرصے سے اس قسم کی سہولت کا انتظار کر رہے تھے۔

    اب تک کسی نئے شخص سے رابطہ کرنے کے لیے اپنا ذاتی نمبر دینا لازمی تھا، جس کے باعث کئی افراد رازداری کے مسائل کا شکار رہتے تھے۔

    ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹس کے مطابق اگر کوئی صارف اپنا یوزر نیم عوامی طور پر شیئر کرتا ہے تو اسے غیر ضروری پیغامات سے بچانے کے لیے واٹس ایپ نے ایک اضافی حفاظتی سہولت بھی شامل کی ہے۔

    اس کے تحت صارف چاہے تو چار ہندسوں پر مشتمل ایک خفیہ کوڈ بھی مقرر کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی نیا شخص اس وقت تک پیغام نہیں بھیج سکے گا جب تک اس کے پاس یوزر نیم کے ساتھ وہ چار ہندسوں والا کوڈ بھی موجود نہ ہو۔

    پاکستان میں یہ فیچر اس وقت مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے، اس لیے ابھی تمام صارفین کو دستیاب نہیں ہوا۔

    ابتدائی طور پر اسے واٹس ایپ کے آزمائشی یا بیٹا ورژن استعمال کرنے والے محدود صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق تمام صارفین تک اس کی فراہمی مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔

    اگر کوئی صارف جاننا چاہتا ہے کہ یہ سہولت اس کے فون پر دستیاب ہوئی ہے یا نہیں تو وہ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر اپنی پروفائل کھولے۔ اگر وہاں نام اور موبائل نمبر کے نیچے "‘یوزر نیم’ کا آپشن نظر آئے تو وہ فوراً اپنا پسندیدہ یوزر نیم منتخب کر سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیچر کو جلد حاصل کرنے کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، تاہم چند اقدامات سے نئے فیچرز جلد ملنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

    مثال کے طور پر اینڈرائیڈ صارفین واٹس ایپ کے بیٹا پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ آئی فون استعمال کرنے والے ٹیسٹ فلائٹ پروگرام کے ذریعے آزمائشی ورژن حاصل کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح واٹس ایپ کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھنا بھی ضروری ہے۔

    کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وی پی این استعمال کرنے یا کسی غیر سرکاری اے پی کے فائل کو انسٹال کرنے سے یہ فیچر حاصل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کی دستیابی کا فیصلہ واٹس ایپ کے سرورز کرتے ہیں۔

    کاروباری اداروں، آن لائن فروخت کرنے والوں، سماجی شخصیات اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے بھی یہ تبدیلی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اب وہ مختلف میٹا پلیٹ فارمز پر ایک ہی یوزر نیم استعمال کر سکیں گے، جس سے ان کی شناخت مضبوط ہوگی اور صارفین انہیں آسانی سے تلاش کر سکیں گے۔

    مستقبل میں صارفین کسی کمپنی یا ادارے کو اس کے یوزر نیم کے ذریعے بھی تلاش کر سکیں گے، جس کے لیے فون نمبر محفوظ کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

    میٹا کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا مقصد لوگوں کو نئے دوستوں، گروپوں اور کاروباری اداروں سے رابطہ کرنے میں آسانی فراہم کرنا ہے، جبکہ ان کی ذاتی معلومات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔

    کمپنی کے مطابق یوزر نیم کا استعمال مکمل طور پر اختیاری ہوگا۔ جو صارفین پہلے کی طرح صرف موبائل نمبر کے ذریعے واٹس ایپ استعمال کرنا چاہیں، وہ اسی طریقے سے ایپ استعمال کر سکیں گے۔

    واٹس ایپ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ چاہے گفتگو موبائل نمبر کے ذریعے شروع کی جائے یا یوزر نیم کے ذریعے، تمام پیغامات پہلے کی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے محفوظ رہیں گے اور کسی تیسرے فریق کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

    ڈیجیٹل ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے آن لائن رابطوں، کاروباری سرگرمیوں اور رازداری سے متعلق خدشات کے پیش نظر واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

    اس سے نہ صرف ذاتی معلومات کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ غیر ضروری پیغامات اور اسپام سے بچاؤ بھی ممکن ہوگا۔

    اسی لیے صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی واٹس ایپ ایپ کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر رکھیں تاکہ یہ سہولت دستیاب ہوتے ہی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

  • چہرے کا لائسنس: اب آپ کے اے آئی ورژن کے استعمال پر معاوضہ بھی مل سکے گا

    چہرے کا لائسنس: اب آپ کے اے آئی ورژن کے استعمال پر معاوضہ بھی مل سکے گا

    ترکیہ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک جدید ایپ متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے چہرے کا ڈیجیٹل لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد افراد کو یہ اختیار دینا ہے کہ ان کے چہرے کو مصنوعی ذہانت (AI) یا ڈیپ فیک مواد میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کیا جا سکے۔

    مثال کے طور پر اگر آپ کسی شعبے کی معروف شخصیت، انفلوئنسر یا پبلک فگر ہیں تو آپ کی تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کرکے جعلی اشتہارات، پروموشنل مواد یا گمراہ کن ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، چہرے کا باقاعدہ اے آئی لائسنس حاصل ہونے کی صورت میں آپ اپنے ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں اپنے اے آئی ورژن کے استعمال کے بدلے معاوضہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    لائسنس کیسے مل سکتا ہے؟

    یہ ایپ صارف کے چہرے کے مختلف زاویوں، تاثرات اور ویڈیو ریکارڈنگز کو محفوظ طریقے سے جمع کرتی ہے۔ بعد ازاں اس ڈیٹا کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس شناخت کی مدد سے صارف یہ طے کر سکتا ہے کہ کون فرد یا ادارہ اس کی تصویر، ویڈیو یا اے آئی سے تیار کردہ ورژن کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا اور کون نہیں۔

  • اے آئی کے ذریعے فلمیں کیسے بنائی جائیں گی؟ فلم بنانے کی لاگت کتنی کم ہوکر رہ گئی ہے؟

    اے آئی کے ذریعے فلمیں کیسے بنائی جائیں گی؟ فلم بنانے کی لاگت کتنی کم ہوکر رہ گئی ہے؟

    دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے جہاں دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے، وہاں دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت، بالی ووڈ، بھی ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے فلم بنانے کے طریقے، رفتار اور اخراجات سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک انڈیا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں فلمی صنعت کو سینما گھروں میں ناظرین کی کمی اور آن لائن اسٹریمنگ کے بڑھتے ہوئے اثر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

    تحقیقاتی ادارے اورمیکس میڈیا کے مطابق، دو ہزار انیس میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ تھی، جو دو ہزار پچیس میں کم ہوکر بیاسی کروڑ کے قریب رہ گئی ہے۔ ان حالات میں فلم ساز اب بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فلمیں نہ صرف تیزی سے بن رہی ہیں بلکہ ان کی لاگت بھی بہت کم ہو گئی ہے۔

    فلم انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، اے آئی کے استعمال سے کچھ فلموں کی تیاری کا خرچ پہلے کے مقابلے میں پانچواں حصہ رہ گیا ہے، جبکہ بنانے کا وقت بھی ایک چوتھائی ہو گیا ہے۔ بھارت میں بڑے فلمی ادارے اپنی پرانی فلموں کی لائبریری کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انہیں اے آئی کے ذریعے دوبارہ ریلیز کیا جا سکے، اور گوگل، مائیکروسافٹ اور اینویڈیا نے مقامی فلم سازوں کے ساتھ شراکت داری کر لی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کا استعمال فلم سازی کے مختلف مراحل میں کیا جا رہا ہے۔ اب مکمل فلمیں کمپیوٹر کے ذریعے بنائی جا رہی ہیں، پرانی فلموں کو نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، اور فلموں کو کئی زبانوں میں آسانی سے ڈب کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف آواز بلکہ چہرے کی حرکت بھی زبان کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے، جس سے ڈبنگ زیادہ قدرتی لگتی ہے۔

    خاص طور پر مذہبی اور تاریخی کہانیوں پر مبنی مواد کی مانگ بہت زیادہ ہے جسے جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس نئی ٹیکنالوجی کو ہر طرف سے مثبت ردعمل نہیں مل رہا۔ بہت سے ناظرین کی شکایت ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز غیر قدرتی لگتی ہیں اور اداکاروں کے چہرے کے تاثرات حقیقت کے قریب نہیں ہوتے۔ ایک مثال میں، پرانی فلم رانجھنا کا اختتام اے آئی کی مدد سے بدل دیا گیا، جس پر فلم کے اداکار دھنوش نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے فلم کی اصل روح متاثر ہوئی ہے۔

    دوسری جانب، ہالی ووڈ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زیادہ پابندیاں ہیں تاکہ فنکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ کچھ ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر کمپیوٹر خود فلمیں بنانے لگیں تو انسانی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ لوگ اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں کہ اس سے نئے فلم سازوں کو کم خرچ میں بڑے منصوبے بنانے کا موقع ملے گا۔

    مستقبل میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے، تاکہ فلمی صنعت ترقی بھی کرے اور اپنی اصل خوبصورتی بھی برقرار رکھ سکے۔