دنیا کی مقبول ترین پیغام رسانی کی ایپ واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے کئی برسوں بعد ایک اہم تبدیلی متعارف کرا رہی ہے، جس کے تحت اب صارفین اپنا ذاتی موبائل نمبر شیئر کیے بغیر بھی دوسروں سے رابطہ کر سکیں گے۔
کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ‘یوزر نیم’ فیچر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرحلہ وار جاری کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ جولائی 2026 تک یہ زیادہ تر پاکستانی صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔
یہ تبدیلی واٹس ایپ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ایپ کے آغاز سے اب تک ہر صارف کی شناخت صرف اس کے موبائل نمبر کے ذریعے ہوتی تھی۔
نئے نظام کے تحت ہر صارف اپنا منفرد یوزر نیم بنا سکے گا، جس کے ذریعے دوسرے افراد اس سے رابطہ کر سکیں گے، جبکہ اس کا ذاتی موبائل نمبر پوشیدہ رہے گا۔
ماہرین کے مطابق اس فیچر سے خاص طور پر ایسے افراد کو فائدہ ہوگا جو کاروباری سرگرمیوں، آن لائن خرید و فروخت، سماجی تنظیموں، تعلیمی گروپوں یا دیگر عوامی رابطوں کے دوران اپنا ذاتی نمبر شیئر نہیں کرنا چاہتے۔
اس سے صارفین کی نجی معلومات کا تحفظ مزید مضبوط ہوگا اور غیر ضروری پیغامات اور کالز میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔
واٹس ایپ کی نئی سہولت استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اپنی پروفائل کی سیٹنگز میں جا کر ‘یوزر نیم’ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ وہاں وہ تین سے پینتیس حروف پر مشتمل ایک منفرد نام منتخب کر سکیں گے۔ کمپنی نے جعلی شناخت اور دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے یوزر نیم بنانے کے چند اصول بھی مقرر کیے ہیں۔
ان اصولوں کے مطابق یوزر نیم میں کم از کم ایک انگریزی حرف ہونا ضروری ہوگا۔ اس میں صرف چھوٹے انگریزی حروف، اعداد، انڈر اسکور اور فل اسٹاپ استعمال کیے جا سکیں گے۔
یوزر نیم کا آغاز "www” سے نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ ".com”، ".net”، ".org” یا دیگر ویب سائٹ والے لاحقے بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی طرح یوزر نیم کے آغاز یا اختتام پر فل اسٹاپ نہیں لگایا جا سکے گا اور مسلسل دو فل اسٹاپ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔
ہر واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ایک وقت میں صرف ایک ہی یوزر نیم رکھا جا سکے گا، تاہم صارفین بعد میں اپنی ضرورت کے مطابق اسے تبدیل بھی کر سکیں گے۔
یوزر نیم تبدیل کرنے سے چیٹ، گروپس یا دیگر معلومات متاثر نہیں ہوں گی، البتہ جن افراد کے ساتھ پہلے سے گفتگو جاری ہوگی انہیں اس تبدیلی کی اطلاع مل جائے گی۔
اگرچہ یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا، لیکن موبائل نمبر مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ واٹس ایپ کے مطابق فون نمبر اب بھی اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنے، شناخت کی تصدیق اور اکاؤنٹ کی بحالی کے لیے استعمال ہوگا۔ تاہم جب کوئی شخص یوزر نیم کے ذریعے پہلی مرتبہ رابطہ کرے گا تو اسے صرف یوزر نیم نظر آئے گا، موبائل نمبر نہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے لاکھوں افراد طویل عرصے سے اس قسم کی سہولت کا انتظار کر رہے تھے۔
اب تک کسی نئے شخص سے رابطہ کرنے کے لیے اپنا ذاتی نمبر دینا لازمی تھا، جس کے باعث کئی افراد رازداری کے مسائل کا شکار رہتے تھے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹس کے مطابق اگر کوئی صارف اپنا یوزر نیم عوامی طور پر شیئر کرتا ہے تو اسے غیر ضروری پیغامات سے بچانے کے لیے واٹس ایپ نے ایک اضافی حفاظتی سہولت بھی شامل کی ہے۔
اس کے تحت صارف چاہے تو چار ہندسوں پر مشتمل ایک خفیہ کوڈ بھی مقرر کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی نیا شخص اس وقت تک پیغام نہیں بھیج سکے گا جب تک اس کے پاس یوزر نیم کے ساتھ وہ چار ہندسوں والا کوڈ بھی موجود نہ ہو۔
پاکستان میں یہ فیچر اس وقت مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے، اس لیے ابھی تمام صارفین کو دستیاب نہیں ہوا۔
ابتدائی طور پر اسے واٹس ایپ کے آزمائشی یا بیٹا ورژن استعمال کرنے والے محدود صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق تمام صارفین تک اس کی فراہمی مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔
اگر کوئی صارف جاننا چاہتا ہے کہ یہ سہولت اس کے فون پر دستیاب ہوئی ہے یا نہیں تو وہ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر اپنی پروفائل کھولے۔ اگر وہاں نام اور موبائل نمبر کے نیچے "‘یوزر نیم’ کا آپشن نظر آئے تو وہ فوراً اپنا پسندیدہ یوزر نیم منتخب کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیچر کو جلد حاصل کرنے کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، تاہم چند اقدامات سے نئے فیچرز جلد ملنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اینڈرائیڈ صارفین واٹس ایپ کے بیٹا پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ آئی فون استعمال کرنے والے ٹیسٹ فلائٹ پروگرام کے ذریعے آزمائشی ورژن حاصل کر سکتے ہیں۔
اسی طرح واٹس ایپ کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھنا بھی ضروری ہے۔
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وی پی این استعمال کرنے یا کسی غیر سرکاری اے پی کے فائل کو انسٹال کرنے سے یہ فیچر حاصل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کی دستیابی کا فیصلہ واٹس ایپ کے سرورز کرتے ہیں۔
کاروباری اداروں، آن لائن فروخت کرنے والوں، سماجی شخصیات اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے بھی یہ تبدیلی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اب وہ مختلف میٹا پلیٹ فارمز پر ایک ہی یوزر نیم استعمال کر سکیں گے، جس سے ان کی شناخت مضبوط ہوگی اور صارفین انہیں آسانی سے تلاش کر سکیں گے۔
مستقبل میں صارفین کسی کمپنی یا ادارے کو اس کے یوزر نیم کے ذریعے بھی تلاش کر سکیں گے، جس کے لیے فون نمبر محفوظ کرنا ضروری نہیں ہوگا۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا مقصد لوگوں کو نئے دوستوں، گروپوں اور کاروباری اداروں سے رابطہ کرنے میں آسانی فراہم کرنا ہے، جبکہ ان کی ذاتی معلومات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔
کمپنی کے مطابق یوزر نیم کا استعمال مکمل طور پر اختیاری ہوگا۔ جو صارفین پہلے کی طرح صرف موبائل نمبر کے ذریعے واٹس ایپ استعمال کرنا چاہیں، وہ اسی طریقے سے ایپ استعمال کر سکیں گے۔
واٹس ایپ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ چاہے گفتگو موبائل نمبر کے ذریعے شروع کی جائے یا یوزر نیم کے ذریعے، تمام پیغامات پہلے کی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے محفوظ رہیں گے اور کسی تیسرے فریق کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
ڈیجیٹل ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے آن لائن رابطوں، کاروباری سرگرمیوں اور رازداری سے متعلق خدشات کے پیش نظر واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
اس سے نہ صرف ذاتی معلومات کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ غیر ضروری پیغامات اور اسپام سے بچاؤ بھی ممکن ہوگا۔
اسی لیے صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی واٹس ایپ ایپ کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر رکھیں تاکہ یہ سہولت دستیاب ہوتے ہی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔