Tag: ٹیکنالوجی

  • چہرے کا لائسنس: اب آپ کے اے آئی ورژن کے استعمال پر معاوضہ بھی مل سکے گا

    چہرے کا لائسنس: اب آپ کے اے آئی ورژن کے استعمال پر معاوضہ بھی مل سکے گا

    ترکیہ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک جدید ایپ متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے چہرے کا ڈیجیٹل لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد افراد کو یہ اختیار دینا ہے کہ ان کے چہرے کو مصنوعی ذہانت (AI) یا ڈیپ فیک مواد میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کیا جا سکے۔

    مثال کے طور پر اگر آپ کسی شعبے کی معروف شخصیت، انفلوئنسر یا پبلک فگر ہیں تو آپ کی تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کرکے جعلی اشتہارات، پروموشنل مواد یا گمراہ کن ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، چہرے کا باقاعدہ اے آئی لائسنس حاصل ہونے کی صورت میں آپ اپنے ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں اپنے اے آئی ورژن کے استعمال کے بدلے معاوضہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    لائسنس کیسے مل سکتا ہے؟

    یہ ایپ صارف کے چہرے کے مختلف زاویوں، تاثرات اور ویڈیو ریکارڈنگز کو محفوظ طریقے سے جمع کرتی ہے۔ بعد ازاں اس ڈیٹا کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس شناخت کی مدد سے صارف یہ طے کر سکتا ہے کہ کون فرد یا ادارہ اس کی تصویر، ویڈیو یا اے آئی سے تیار کردہ ورژن کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا اور کون نہیں۔

  • اے آئی کے ذریعے فلمیں کیسے بنائی جائیں گی؟ فلم بنانے کی لاگت کتنی کم ہوکر رہ گئی ہے؟

    اے آئی کے ذریعے فلمیں کیسے بنائی جائیں گی؟ فلم بنانے کی لاگت کتنی کم ہوکر رہ گئی ہے؟

    دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے جہاں دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے، وہاں دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت، بالی ووڈ، بھی ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے فلم بنانے کے طریقے، رفتار اور اخراجات سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک انڈیا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں فلمی صنعت کو سینما گھروں میں ناظرین کی کمی اور آن لائن اسٹریمنگ کے بڑھتے ہوئے اثر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

    تحقیقاتی ادارے اورمیکس میڈیا کے مطابق، دو ہزار انیس میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ تھی، جو دو ہزار پچیس میں کم ہوکر بیاسی کروڑ کے قریب رہ گئی ہے۔ ان حالات میں فلم ساز اب بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فلمیں نہ صرف تیزی سے بن رہی ہیں بلکہ ان کی لاگت بھی بہت کم ہو گئی ہے۔

    فلم انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، اے آئی کے استعمال سے کچھ فلموں کی تیاری کا خرچ پہلے کے مقابلے میں پانچواں حصہ رہ گیا ہے، جبکہ بنانے کا وقت بھی ایک چوتھائی ہو گیا ہے۔ بھارت میں بڑے فلمی ادارے اپنی پرانی فلموں کی لائبریری کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انہیں اے آئی کے ذریعے دوبارہ ریلیز کیا جا سکے، اور گوگل، مائیکروسافٹ اور اینویڈیا نے مقامی فلم سازوں کے ساتھ شراکت داری کر لی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کا استعمال فلم سازی کے مختلف مراحل میں کیا جا رہا ہے۔ اب مکمل فلمیں کمپیوٹر کے ذریعے بنائی جا رہی ہیں، پرانی فلموں کو نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، اور فلموں کو کئی زبانوں میں آسانی سے ڈب کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف آواز بلکہ چہرے کی حرکت بھی زبان کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے، جس سے ڈبنگ زیادہ قدرتی لگتی ہے۔

    خاص طور پر مذہبی اور تاریخی کہانیوں پر مبنی مواد کی مانگ بہت زیادہ ہے جسے جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس نئی ٹیکنالوجی کو ہر طرف سے مثبت ردعمل نہیں مل رہا۔ بہت سے ناظرین کی شکایت ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز غیر قدرتی لگتی ہیں اور اداکاروں کے چہرے کے تاثرات حقیقت کے قریب نہیں ہوتے۔ ایک مثال میں، پرانی فلم رانجھنا کا اختتام اے آئی کی مدد سے بدل دیا گیا، جس پر فلم کے اداکار دھنوش نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے فلم کی اصل روح متاثر ہوئی ہے۔

    دوسری جانب، ہالی ووڈ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زیادہ پابندیاں ہیں تاکہ فنکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ کچھ ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر کمپیوٹر خود فلمیں بنانے لگیں تو انسانی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ لوگ اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں کہ اس سے نئے فلم سازوں کو کم خرچ میں بڑے منصوبے بنانے کا موقع ملے گا۔

    مستقبل میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے، تاکہ فلمی صنعت ترقی بھی کرے اور اپنی اصل خوبصورتی بھی برقرار رکھ سکے۔