تھر میں راج اور بھاگ کے دانا اور شناخت کے پارکھو

تھر

تھر میں اب چار گھروں کی ڈھانی، وانڈھ اور وانڈیئے (چھوٹے گاؤں) کا رواج بڑھ رہا ہے، مگر پہلے بڑا گاؤں بسا کر مختلف خاندان اور قبیلوں کے لوگوں کے مل جل کر رہنے کا رواج عام تھا۔

سات بڑے راج، یعنی سات گاؤں مل کر ’سات راجی راج بھاگ‘ بناتے تھے۔ کہیں کہیں بارہ کنوے، یعنی 12 گاؤں پر مشتمل مشترکہ راج بھاگ بھی ہوتا تھا۔ مشترکہ راج بھاگ میں بسنے والے لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا، رسوم و رواج اور غم و خوشی سب مشترکہ ہوتے تھے۔

 ایک گاؤں میں رہنے والی تمام برادریوں کا مشترکہ پنچایتی نظام یا دیہی راجوڻی نظام ہوتا تھا، جس میں سب مل کر بیٹھتے تھے۔ سب کی رائے کو اہمیت حاصل ہوتی تھی اور کوئی بھی کسی سے چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا تھا۔

لوک دانش کی ایک کہاوت ہے:

’مڱ جو ڪڻ مڱ جي ڪڻ کان موٽو نه آهي‘

(مونگ کا دانہ، مونگ کے دانے سے بڑا نہیں ہوتا)۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایک رہنما کا رواج پڑا۔ گھر کی قیادت سے لے کر محلے، گاؤں، سات راجی اور بارہ گاؤں تک پھیلے اس مشترکہ نظام میں مختلف القاب کے حامل افراد سامنے آئے۔ انگریزوں کے دور میں لفظ ’پٹیل‘ رائج ہوا۔ پٹیل کے معنی زمین کی ملکیت کا حق رکھنے والا یا پٹہ حاصل کرنے والا شخص ہیں۔ جسے زمینوں کے مالکانہ حقوق کے زیادہ پٹے ملے، وہ بڑا پٹیل کہلایا۔

مکھی اور ٹیلاٹ برادریوں کے رہنما ہوتے ہیں۔ اسی طرح وڈیرو بھی گاؤں میں بڑی حیثیت رکھنے والے شخص کو کہا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ راج بھاگ میں نیک مردوں کی بھی عزت و ناموس رہی ہے۔ گاؤں کے نیک مرد کو آج بھی ’ساکھ پت‘، یعنی ایمانداری والا، کہا جاتا ہے، جس کی بات پر اعتبار کیا جاتا ہے۔

اس کی بات قسم کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ کسی معاملے میں چار چنگے مرد (معززین) آگے بڑھ کر سفارش کر دیں یا کسی کے سامنے منت سماجت کی جائے تو معاملہ درگزر کر دیا جاتا ہے۔ فیصلے کے دوران یا اس سے پہلے، اگر مجرم فریق کے بڑے یا اس کی طرف سے کسی نیک مرد نے منت کے لیے اپنا پٹکا اتار دیا تو بھی گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ بچیوں اور بیٹیوں کی منت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

پٹیلوں اور وڈیروں میں کوئی بھلے ہوتے ہیں تو کوئی ڈھلے (کمزور یا بگڑے ہوئے)۔ کردار کے کچے، کمزور اور مکار پٹیلوں اور وڈیروں کو ’تروٹی پٹیل‘ اور ’تروٹی وڈیرو‘ کہا گیا، یعنی کرنل تروٹ جیسی سوچ رکھنے والے لوگ۔

انہوں نے انگریزوں کی پالیسی ’لڑاؤ اور راج کرو‘ کو مقامی سطح پر لاگو کرکے اپنے ہی لوگوں پر آزمایا۔ ان کی سوچ کا تسلسل برقرار رکھنے والے آج بھی راج بھاگ کے رسوم و رواج کو روند کر سماجی انتشار کو بڑھا رہے ہیں۔ وہ خاندان اور قبیلوں کو گلیوں، گزرگاہوں، پلاٹوں، باڑوں، واڑوں، زمینوں کی منڈیروں، پانی کی گزرگاہوں اور سالانہ متنازع معاملات پر لڑانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

راج بھاگ کے سچے رکھوالوں کو اپنے راج بھاگ کی بھلائی کا واضح ادراک ہوتا تھا۔ وہ اپنے تصور سے جذباتی وابستگی کے باوجود تحمل سے کام لیتے تھے۔ اگر کہیں ہار کا سامنا کرنا پڑتا تو بھی خود کو سنبھال کر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ اگر راج بھاگ میں کوئی معاملہ غلط فہمی کی نذر ہو کر غلط رخ اختیار کر لیتا تو اسے روکنے کے لیے ان کے پاس لوک دانش کی بنیاد پر اقدامات موجود ہوتے تھے۔ وہ اپنے بااثر کردار سے اپنے تصور کے راج بھاگ کا تحفظ کرتے تھے۔

لوگوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ مل کر راج بھاگ کے معاملات سنبھالنے کے لیے دوسروں کی بات سننا ضروری سمجھتے تھے اور اس کے لیے وقت نکالتے تھے۔ اس طرح انہیں راج بھاگ کے لوگوں کے خیالات، ان کی طاقت اور کمزوریوں کے بارے میں آگاہی ملتی تھی، جس کی بنیاد پر سیاسی اور سماجی معاملات نمٹانے اور نئی حکمت عملی بنانے میں آسانی ہوتی تھی۔

راج بھاگ کے رہنما کوئی بھی کام اکیلے انجام نہیں دیتے تھے، بلکہ اپنے راج کے اہل لوگوں سے صلاح مشورہ کرکے انہیں بااختیار بناتے تھے۔ وہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ایسے راجوڻی رہنماؤں کا مثبت رویہ انہیں مختلف زاویہ ہائے نظر سمجھنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے میں مدد دیتا تھا۔

وہ وقتاً فوقتاً لوگوں کو یقین دلاتے تھے کہ وہ راج بھاگ کی نگہبانی میں مضبوط سہارا ہیں اور وہ تمام مقاصد حاصل کر سکتے ہیں جو انہوں نے طے کر رکھے ہیں۔ اگر کوئی انہیں للکارتا تو وہ اپنے بچاؤ کے راستے تلاش کرنے کے بجائے پورے اعتماد کے ساتھ اس للکار کو قبول کرتے تھے۔

حالات کیسے بھی ہو جاتے، وہ اپنے بنیادی اصولوں اور اپنے سچے اور کھرے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ تھری سماج میں سخی اور بہادر کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ عام لوگ ڈول اور متزلزل نہ ہونے والے رہنماؤں کے حوصلے کی نہ صرف تحسین کرتے تھے بلکہ خود بھی ان کے ساتھ جان نثار کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ وقت آنے پر میدان جنگ میں پہلوانوں کی طرح سب سے پہلے رہنما اترتا اور پھر باقی راج والے میدان میں آتے تھے۔

شراکت داری کی بنیاد پر قائم پنچایت اور راج بھاگ کے منظم نظام میں سب برابر ہوتے تھے۔ غیر تحریری سماجی بندھنوں میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا تھا۔ جو بھی سماجی ضابطے کی خلاف ورزی کرتا، اسے راج بھاگ کے فیصلے کے تحت سزا ملتی تھی۔ درختوں کی کٹائی اور شکار پر سماجی پابندی ہوتی تھی۔

گاؤں کی عزت اور بیٹیوں کے تحفظ کے لیے اردگرد کے ماحول کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو کر آنے والا شخص گاؤں سے ایک کلومیٹر دور اتر کر پیدل گاؤں میں داخل ہوتا تھا اور گاؤں سے ایک کلومیٹر دور باہر جا کر دوبارہ سواری پر چڑھتا تھا۔ گاؤں میں ننگے سر نہیں چلا جاتا تھا۔ اجرک، پٹکا، انگوشہ وغیرہ سر پر بندھا ہوتا یا ٹوپی پہنی ہوتی تھی۔

گاؤں میں چلتے ہوئے اگر عورتیں سامنے آ جاتیں تو مرد ایک طرف ہو کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ قبرستان اور جنازہ گاہ، خواہ بڑوں ی ہو یا چھوٹے بچوں کی، کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔

اگر گاؤں کا مکھی، پٹیل یا وڈیرو کسی فیصلے میں جانبداری برتتا، کسی ایک فریق کا ساتھ دیتا یا ’آنکھیں بند کر لیتا‘ تو سات راجی نیک مرد مل کر اسے گنہگار قرار دیتے تھے۔ لوک دانش میں سماجی انصاف کو ایک مضبوط معاشرے کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا تھا۔ انصاف کے ساتھ معاشرے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، وہ بربادی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ لوک دانش کے مطابق کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے والے ثالث (امین) کے لیے برداشت کا مادہ ہونا ضروری ہے:

سپوتر سخن سهي، جوُن وڍ سهي وڻڪار،

ڌرتي ڪني ڌپ سهي، جوُن دريا سهي آر۔

(سپوت لوگ کڑی باتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔ درخت کلہاڑی کے وار برداشت کرتا ہے۔ زمین ہر قسم کی گندگی برداشت کرتی ہے، جیسے دریا پانی کا دباؤ سہتا ہے۔)

بات چیت کے دوران فریقین جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔ امین نہ صرف صبر سے سنتا ہے بلکہ ماحول کو اپنے قابو میں رکھتا ہے تاکہ بات چیت کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ فریقین کے اپنے امین بھی ہوتے ہیں۔ دونوں فریقوں کی باتیں سننے کے بعد وہ گفتگو کا تول مول کرتا ہے، معاملے کو پوری طرح سمجھتا ہے اور بغیر کسی جانبداری کے امانت داری سے فیصلہ سناتا ہے، جس پر دونوں فریق اتفاق کرتے ہیں۔

فیصلہ قبول کرنے کے بعد دونوں فریق اس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ مرکزی فیصلہ ساز بات چیت کے دوران نہ صرف ہر بات دھیان سے سنتا ہے بلکہ چہرے کے تاثرات بھی پڑھتا ہے۔ ماہر نفسیات کی طرح بات کے لہجے سے سچائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر معاملہ بات چیت سے نہ سلجھے تو پھر ساک (قسم یا گواہی) لی جاتی ہے۔ لوک دانا کہتے ہیں:

ڪوڙو ڀلو نه ڪوڪرو، سچي نه ڀلي ساک،

ڏنو ڀلو روپيو، ليو نه ڀلو لاک۔

فیصلے پر عمل کرانا بھی اہم ہوتا ہے۔ امین کوشش کرتا ہے کہ فیصلے میں جرمانہ وغیرہ نہ ڈالا جائے اور مجرم فریق یا اس کی طرف سے کسی دوسرے معزز شخص کی منت سماجت یا واسطے سے مسئلہ حل ہو جائے۔ فیصلے میں اکثر فریقین کی انا مجروح ہوتی ہے۔ کبھی کبھی امین فریقین کی انا کا مسئلہ ختم کرنے کے لیے خود منت سماجت کرتا ہے یا خود کسی ایک فریق یا دونوں فریقوں کے پاس چل کر جاتا ہے۔

جرمانے کی رقم بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنا نام کا دکھاوا ہو۔ جرمانہ اکثر بہت کم رکھا جاتا ہے۔ فیصلہ کرنے والا امین جرمانے کی رقم خود اپنے پاس بطور امانت رکھتا ہے یا کسی تیسرے فریق کے پاس رکھوا دیتا ہے۔ اکثر یہ جرمانہ وصول نہیں کیا جاتا بلکہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ منت سماجت اور معافی کے بعد فریقین ایک دوسرے کو معاف کر دیتے ہیں۔ امین فیصلہ اپنے پاس یا کسی غیر جانبدار جگہ پر رکھتا ہے، فریقین میں سے کسی کے گھر پر نہیں۔

تھر کے گاؤں میں راجوں بھاگوں کے چتر داناؤں، وسیع القلب اور دور اندیش دانشوروں کا ذکر چھیڑ کر دیکھیے، کتنے نامور لوگوں اور ان کی دانش سے بھرپور راج بھاگ کو جوڑ کر رکھنے والے قصوں کا پتا چلتا ہے۔ ہونٹوں پر بے اختیار الفاظ مچل اٹھتے ہیں کہ کیا لوگ تھے، کیا ان کی دانش تھی! لیکن اب دانش کا قحط پڑتا جا رہا ہے:

ڏيس سارو ڀوميو ماڻسان بهت سڪاڙ،

جن ڏٺي جي ٺري، اوئان ماڻسان پڙيو ڏڪاڙ۔

 (میں نے سارا دیش چھان مارا۔ انسان ہی انسان ہیں، لوگوں کی فراوانی ہے، لیکن جن لوگوں کو دیکھ کر دل ٹھنڈا ہو جائے، ایسے لوگوں کا قحط پڑ گیا ہے۔)

کہتے ہیں کہ ایک بار ایک راجوڻی دانا کے پاس ایک فیصلہ آیا۔ معاملہ یہ تھا کہ ایک لڑکی کے پہلے بچے کی پیدائش پر میکے میں رسم ادا کی جانی تھی۔ انہی دنوں لڑکی کے بھائی کی اہلیہ بھی امید سے تھی۔

اتفاق سے دونوں کے ہاں بچوں کی پیدائش ایک ہی دن ہوئی۔ لڑکی کی ماں نے دائی سے پوچھا کہ اس کی بیٹی کے ہاں کیا پیدا ہوا ہے اور اس کے بیٹے کے ہاں کیا پیدا ہوا ہے۔ دائی نے بتایا کہ بیٹی کے ہاں بیٹا اور بہو کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ ماں نے دائی کو لالچ دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو بدل دو۔ دائی نے ایسا ہی کیا۔

مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب لڑکی کے سسرال والوں کو خبر پہنچی کہ ان کی بہو کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کے گھر سے جانے والی بہو کے اٹھنے بیٹھنے اور قدم اٹھانے کے انداز سے محسوس ہوتا تھا کہ بیٹا پیدا ہوگا۔ یوں معاملہ بڑھا اور آخرکار راجوڻی فیصلے تک جا پہنچا۔

ایک معزز شخص کو فیصلہ کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ دو افراد مل کر ساتھ والے گاؤں سے اس معزز شخص کو بلا کر لائے۔ اس نے سنار کی دکان سے دو ترازو اور ایک ہی وزن کے چھوٹے باٹ منگوائے۔ اس نے وارثوں سے کہا کہ دونوں ماؤں سے الگ الگ برتنوں میں اپنا اپنا دودھ نکال کر دینے کو کہیں۔ پھر دودھ کا وزن کرکے بتایا کہ زیادہ وزن والا دودھ بیٹے والی ماں کا ہے اور کم وزن والا بیٹی والی ماں کا۔ اس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور بیٹا اس کی اصل ماں کے حوالے کر دیا گیا۔

ان دانا لوگوں کے پاس ہر قدم اور ہر خیال میں اجتماعی سوچ اور بڑی فہم و فراست کی عکاسی کرنے والی زبان ہوتی تھی۔ انہوں نے کبھی یوں نہیں کہا کہ یہ زمین میری ہے، بلکہ ہمیشہ یہی کہا کہ یہ زمین ہماری ہے۔ وہ انفرادی کے بجائے اجتماعی انداز میں بات کرتے تھے۔ لوک شاعر نے کہا ہے:

اکر سڀ سکر هي، ڪڇ ڪهڻي ڪا بيڻ،

اوئي ڪاجل ٺڪري، اوئي ڪاجل نيڻ۔

(الفاظ سب اچھے ہیں، لیکن کہنے کے انداز میں فرق ہوتا ہے۔ جو کاجل ٹھیکری، یعنی دیے یا مٹی کے برتن، پر سجتا ہے، وہی کاجل خوبصورت آنکھوں کے حسن کا حصہ بھی بنتا ہے۔)

تھر کے گاؤں میں لوک دانش کی روایت سے وابستہ ایسے پارکھو (شناخت کے ماہر) بھی رہے ہیں جو کسی انسان کی چال ڈھال، چہرے مہرے اور بولی کی بنیاد پر اس کی نسل اور قبیلے کے بارے میں پوچھے بغیر بتا دیتے تھے۔ پہلے ایسے لوگ بہت ہوتے تھے، لیکن اب بھی راجوں بھاگوں میں پوچھنے پر دو چار پارکھو مل جاتے ہیں۔

کسی انسان کو پہچاننے کے لیے پارکھو پہلے اس کی چال دیکھتا ہے، پھر قدم اٹھانے کا انداز جانچتا ہے۔ اس طرح غور کرتا ہوا چہرے تک پہنچتا ہے کہ کہیں کسی کی جھلک یا کوئی نشان مل جائے۔ پھر ناک، کان، آنکھیں، پیشانی اور بالوں کو غور سے دیکھتا ہے۔ اگر پھر بھی پہچان نہ ہو سکے تو بولی سے پرکھتا ہے۔ اگر بولی سے بھی نہ سمجھ سکے تو اس کے اٹھنے بیٹھنے کے انداز اور مزاج سے ضرور پہچان لیتا ہے۔

انسان کی طبعی یا ظاہری صفات میں آنکھوں کا رنگ، قد، بالوں کی ساخت اور رنگ و روپ اہم ہوتے ہیں۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، ننھیال یا ددھیال کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ لوک دانش کے دانا کہتے ہیں کہ ننھیال کا اثر نو پیڑھیوں تک رہتا ہے۔

کانوں کی لو جڑی ہوئی ہے یا آزاد، کان چھوٹے ہیں یا بڑے، آنکھیں سیاہ، نیلی، سبز یا بھوری ہیں اور ان کا حجم کیسا ہے، بولی میٹھی، کھاری، دھیمی، کھردری، رعب دار یا واضح ہے، ٹھوڑی ہموار ہے یا کٹی ہوئی؛ یہ تمام خصوصیات والدین سے اولاد میں وراثت کے طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ تھر کے لوگوں کی چال اور انداز کو لکھائی کی طرح پہچاننے کے بارے میں شاہ لطیف نے کہا ہے:

مٿن ٽٻڪ ٽٻڪڻا، چڪندڙا اچن،

کڙيون کهه ڀڪليون، پگهر سين پيرن،

اي وڙ ويڙيچن، مون لوڏان ئي لکيا۔

 شاہ جو رسالو

تھر کے سماجی تانے بانے کے ٹوٹنے کے باعث سیاست کی طرح تھر کے راجوں سے لوک دانش کی یہ پرکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن پھر بھی گاؤں میں تلاش کرنے سے ایسے پارکھو مل سکتے ہیں۔ مالنہور کھاوڑیہ کے رہنے والے سانگیڈان اور اکیراج کے سروپ سنگھ میں لوک دانش کی یہ پرکھ موجود ہے۔

لوک دانش کی دولت رکھنے والے راجوں بھاگوں کے رکھوالوں کو تھر کی لوک زندگی کے حسن پر لگنے والے دھندلے داغ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ ’تھر کو بدصورت مت کرو‘، صدیوں سے جاری پیار، محبت اور بھائی چارے کے ماحول کو متاثر کرکے رواداری کے سماجی تانے بانے کو مت توڑو۔

ان کیفیات کو محسوس کرنے کے لیے دل کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ تھر کی لوک دانش کے جانکار کہتے ہیں کہ ظاہری ترقی کے آثار کہاں اور کیسے شروع ہوئے اور کہاں جا کر ختم ہوں گے، اس کا تو معلوم نہیں، لیکن تھر کے حسن میں کمی کے آثار صاف دیکھے اور پرکھے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں: