بیگم نصرت بھٹو نسلی طور پر کرد تھیں۔ کردوں کی تاریخ ان کے مردوں سے زیادہ ان کی بہادر خواتین کے قصوں، کہانیوں اور جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ کرد اپنی سرزمین ہونے کے باوجود اس کی ملکیت اور آزادی سے محروم ہیں۔
تاریخ کے جبر نے انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا۔ وہ کس کس سے اپنی سرزمین اور اپنی شناخت کی آزادی کا مطالبہ کریں؟ انہیں ایران، عراق، شام اور ترکی میں تقسیم کر دیا گیا۔
کرد نسل سے تعلق رکھنے والی نصرت اصفہانی نے جب موہن جو دڑو کی سرزمین سے اپنا رشتہ جوڑا تو پھر لاڑکانہ کی مٹی میں ہی دفن ہونا پسند کیا۔ جی ہاں، میں بیگم نصرت بھٹو کا ذکر کر رہا ہوں۔ کالج میں انہیں نصرت اصفہانی کہا جاتا تھا۔
23 مارچ 1929 کو ایران کے خوبصورت شہر اصفہان میں پیدا ہونے والی یہ کرد خاتون جب شادی کے بعد سندھ آئیں تو کردوں کی روایت کے مطابق وفاداری اور قربانی کی مثال بن گئیں۔ ویسے بھی کردوں میں بہادری، حوصلے، قربانی، محبت اور خوبصورتی کی کمی نہیں ہوتی، لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہی تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو جیسے نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت، خوش حال اور غیر معمولی ذہانت کے مالک شخص کی زندگی میں کئی حسین چہرے آئے۔ ان رشتوں نے انہیں رلایا بھی اور وہ خود بھی ان کے لیے روئے۔
ذوالفقار علی بھٹو بچپن میں بمبئی کے کیتھیڈرل اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہاں ان کے ساتھ ایک لڑکی ثریا بھی پڑھتی تھی، جس کے لیے ذلفی بھٹو روئے تھے۔ جب ثریا کے سرپرستوں کو دونوں کی محبت کا پتا چلا تو انہوں نے لڑکی کا اسکول ہی تبدیل کروا دیا۔ اس معصوم محبت کی جدائی میں بھٹو اس قدر دکھی ہوئے کہ اسی سال امتحان میں فیل ہو گئے۔ تاہم، جلد ہی انہوں نے خود کو سنبھال لیا، دوبارہ امتحان دیا اور گزشتہ تعلیمی نقصان پورا کر لیا۔
جب شاہنواز بھٹو جیسے نواب کو اپنے بیٹے کی اس محبت کی خبر ملی تو ان کی روشن خیالی اپنی جگہ، لیکن وہ اپنے روایتی جاگیردارانہ مزاج پر قابو نہ رکھ سکے۔
شاہنواز بھٹو کو یہ فکر بھی تھی کہ نیو دیرو میں رہنے والے ان کے کزن نواب احمد خان بھٹو کی لاڈلی بیٹی شیرین امیر بیگم کسی دوسرے گھر کی بہو نہ بن جائے۔ نواب احمد خان کے ہاں بیٹا نہیں تھا، اس لیے شاہنواز بھٹو کو خدشہ تھا کہ ان کی وسیع زمینیں، جائیدادیں اور بنگلے ان کی بیٹی شیرین امیر کے جہیز کے ساتھ کسی دوسرے خاندان میں نہ چلے جائیں۔
آخرکار شاہنواز بھٹو نے اپنے کزن سے شیرین امیر کا رشتہ مانگ لیا۔ نواب احمد خان بھی انکار نہ کر سکے۔
چودہ سالہ ذلفی بھٹو ان دنوں کرکٹ کے میدان میں کھیل رہے تھے۔ ایک دن ان کے والد نے پیغام بھیجا کہ تمہارے لیے بیرون ملک سے ایک نیا بیٹ منگوایا ہے، آ کر دیکھ لو۔
ذلفی بھٹو جب بیٹ دیکھنے کے شوق میں والد کے پاس پہنچے تو وہاں شادی کی تقریب اور نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب پہلے سے موجود تھے۔ اس طرح چودہ سالہ ذلفی بھٹو کا نکاح ان سے عمر میں بڑی، بیس سالہ جوان اور خوبصورت شیرین امیر بیگم سے پڑھا دیا گیا۔ یوں ذوالفقار علی بھٹو کی شادی ہو گئی۔
شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ذوالفقار علی بھٹو دوبارہ بمبئی چلے گئے۔ جب وہ جوانی میں داخل ہوئے تو بمبئی کے علاقے ورلی میں رہائش پذیر تھے۔
ذلفی کی زندگی کا ایک دور وہ بھی تھا جب وہ اپنے دوست پیلو مودی اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بالی وڈ کی سیر و تفریح کے لیے نکل جایا کرتے تھے۔
بمبئی کے موہن اسٹوڈیو سے وابستہ ان کے دن بھی یادگار تھے۔ وہاں برصغیر کے مشہور موسیقار نوشاد کے تیار کردہ گیتوں پر بھارت کے معروف رقص کے استاد لچھو مہاراج، اداکارہ مدھوبالا کو موسیقی اور رقص کی تربیت دیا کرتے تھے۔
ذلفی کے وہ دن مدھوبالا کو دیکھنے میں گزرتے تھے۔ فلم کی شوٹنگ کے بعد مدھوبالا اور ذلفی اکٹھے بیٹھ کر کافی بھی پیا کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ مدھوبالا بھی بھٹو پر فریفتہ تھیں، لیکن یہ قصہ زیادہ عرصے تک نہ چل سکا اور بھٹو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔
ایک دن بغداد سوپ فیکٹری کے مالک کی بیٹی نصرت اصفہانی اپنی سہیلی اور ذلفی بھٹو کی بہن منور الاسلام کے ساتھ کنڈا والا کے تفریحی مقام پر گھومنے آئیں۔ ذلفی نے اپنی بہن سے پوچھا کہ یہ لڑکی کون ہے؟ منور الاسلام نے بتایا کہ یہ نصرت ہے، جس کا تعلق ایرانی کرد خاندان سے ہے۔ اس کے والد کا کراچی اور بمبئی میں کاروبار ہے اور وہ اس کی سہیلی ہے۔
دوسری مرتبہ جب ذلفی بھٹو نے نصرت اصفہانی کو کالج میں دیکھا تو وہ لڑکیوں کی ایک تقریب میں گرلز گائیڈ کی فوجی وردی پہنے ہوئے تھیں۔ ان کی تربیت مکمل ہونے پر پریڈ ہو رہی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو اپنی بہن منور الاسلام کے پیچھے پڑ گئے کہ ان کی شادی اسی لڑکی سے کروا دی جائے۔
ایک دن نصرت بینک سے پیسے نکلوانے گئیں تو بھٹو پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ ذلفی نے نصرت کے پاس جا کر کہا، ’کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟‘ نصرت نے سخت لہجے میں جواب دیا، ’نہیں، آپ کی مہربانی!‘
ایک دن منور الاسلام نے نصرت کو بتایا کہ ان کا بھائی ذلفی ان سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ان کا بھائی پہلے سے شادی شدہ ہے۔ نصرت نے جواب دیا، ’عام حالات میں شاید میں اس بارے میں سوچتی، لیکن اب تو میں بالکل شادی نہیں کروں گی۔‘
لیکن آخرکار قسمت نے ذلفی بھٹو اور نصرت اصفہانی کو زندگی کا ساتھی بنا دیا۔ نصرت اصفہانی، بیگم نصرت بھٹو بن گئیں۔
ایک تاریخی شخصیت کی شریک حیات بننے کے بعد بیگم نصرت بھٹو خود بھی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ایوبی آمریت کے دور سے لے کر خاتون اول بننے تک وہ سیاسی تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کرنے کے ساتھ ایک باہمت خاتون بھی رہیں۔
ضیاء الحق کے مارشل لا اور آمریت کے دور میں، جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے، نصرت بھٹو نے بڑی جرئت سے مارشل لا کی سختیوں کا مقابلہ کیا۔ قذافی اسٹیڈیم میں تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے کے باوجود وہ آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ المرتضیٰ ہاؤس، ستر کلفٹن اور دیگر مقامات پر نظر بندیوں، کراچی سینٹرل جیل اور سہالا پولیس کیمپ میں قید کے باوجود انہوں نے حوصلے اور بہادری سے عوامی قافلے کی قیادت کی۔
جب پھانسی گھاٹ میں ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی آخری ملاقات ہوئی تو بھٹو نے ان سے کہا، ’نصرت، تم نے میری وجہ سے بہت تکلیفیں اٹھائیں اور عذاب سہے۔ اگر زندگی میں تمہیں میری وجہ سے کوئی دکھ یا رنج پہنچا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔‘
جدائی کے اس لمحے نصرت بھٹو پھانسی گھاٹ کی سلاخوں کے پیچھے قید اپنے شوہر کے سامنے آنسو بہانے لگیں۔ انہوں نے کہا، ’تم تو میرے تاج اور میرے سرتاج ہو۔ جب تک نصرت زندہ ہے، وہ اپنا ساتھ نبھاتی رہے گی۔‘
واقعی، بیگم نصرت بھٹو نے آخری دم تک اپنا ساتھ نبھایا۔ مرتضیٰ اور شاہنواز جیسے جوان بیٹوں کی لاشیں دفن کرنا اور بینظیر جیسی بیٹی کی جدائی برداشت کرنا کوئی آسان بات نہیں تھی۔
مئی 1979 سے لے کر 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت تک، میرے اور بیگم نصرت بھٹو کے درمیان شفقت اور محبت کا سترہ سالہ تعلق رہا۔ اس کے بعد ان کی حالت ایسی ہو گئی کہ وہ کسی سے ملنے یا بات کرنے کے قابل نہ رہیں۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے یہ طویل سال میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
وہ کئی مرتبہ مجھے اپنی گاڑی میں ساتھ بٹھا کر سیاسی دوروں، تعزیتی ملاقاتوں، مجلسوں اور مختلف تقریبات میں لے جاتی تھیں۔ میری والدہ کی دعوت پر بی بی فاطمہ اور بی بی زینب کی یاد میں ہونے والی مجلسوں میں شرکت کے لیے بھی بیگم نصرت بھٹو میرے گھر آتی رہیں۔
آج بیگم نصرت بھٹو ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک بہادر خاتون کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بیگم نصرت بھٹو نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد جس پاکستان پیپلز پارٹی کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کی، آج اسی پارٹی کے جلسوں اور جلوسوں میں لگائے جانے والے بڑے اشتہاری بینروں اور پوسٹروں پر آصف علی زرداری سے لے کر فریال ٹالپر تک، اور نثار کھوڑو سے لے کر مراد علی شاہ تک، ہر بڑے جاگیردار اور رہنما کی تصویر نظر آتی ہے۔ لیکن بیگم نصرت بھٹو کو اس قابل بھی نہیں سمجھا جاتا کہ ان کی تصویر کہیں آویزاں کی جائے۔
البتہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر اور ان کی قبروں کو پارٹی کی قیادت اپنی سیاسی ضرورت سمجھتی ہے، کیونکہ ان کے نام اور تصاویر آج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس موقع پر میں صرف شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ایک شعر کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:
مور مر گئے، ایک بھی ہنس باقی نہ رہا۔
ان گھونسلوں پر اب دوسرے قابض ہو گئے ہیں،
اور وطن ایک بار پھر جھوٹے اور بزدل لوگوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔نصرت بھٹو

