وزیراعظم بچوں کے تحفظ میں ناکامی پر سرعام معافی مانگیں: مزدور حقوق کے کارکن نعیم صادق

انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کے معروف کارکن نعیم صادق نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ پر قوم کے سامنے آکر بچوں کے تحفظ میں اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کریں اور عوام سے معافی مانگیں۔

جمعرات کوجاری اپنے بیاں میں نعیم صادق نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ بچوں پر تشدد اور ان کے ساتھ بدسلوکی روکنے میں حکومتی ناکامی کو تسلیم کریں۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں پر عمل درآمد میں ناکامی کا اعتراف کرنے اور اس سلسلے میں کیے جانے والے ٹھوس اقدامات کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام علاقوں میں 16 سال سے کم عمر بچوں سے گھریلو یا صنعتی مزدوری کرانے پر پابندی کے لیے قانون سازی کی جائے۔ ان کے مطابق بچوں کے تحفظ اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق غیر مؤثر محکموں کی جگہ کم خرچ اور جدید ڈیجیٹل نظام قائم کیے جائیں تاکہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔

نعیم صادق نے مطالبہ کیا کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت کسی شخص کے قتل کی صورت میں ریاست خود مقدمہ چلائے، خواہ مقتول کے اہل خانہ قاتل کو معاف کردیں یا سمجھوتہ کرلیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال سندھ اور پنجاب میں گٹروں کی صفائی کے دوران 28 سے زائد صفائی کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ پر اپنے قانونی مطالبات سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے سرکاری اسکولوں کو دوہری شفٹوں میں چلانے اور ہر بچے کے اسکول میں داخلے کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بچے کو تعلیم سے محروم رکھنا قابلِ گرفت عمل قرار دیا جائے اور والدین کو بھی اس حوالے سے جواب دہ بنایا جائے۔

نعیم صادق کے مطابق حکومت کو بچوں کے تحفظ، جبری اور کم عمر مزدوری کے خاتمے، تعلیم تک رسائی اور محنت کشوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ ان معاملات کی ذمہ داری قبول کریں اور اصلاحات کے لیے واضح لائحہ عمل پیش کریں۔