Tag: انسانی حقوق

  • ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اپریل 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، حراست میں ڈالی جانے والی اذیتیں، اور جبری لاپتہ کرنے کے واقعات اب بھی پیش آ رہے ہیں۔

    عدلیہ کا استحصال اور خاموشی ایک مہنگے دام

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کے وکلا کے خلاف عدلیہ کو استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ان کے سوشل میڈیا پیغامات کی وجہ سے دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا انہیں محض اس لیے دی گئی کہ انہوں نے بلوچ اور پشتون کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کی عسکری پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ ایمنسٹی نے اسے اختلاف رائے کو خاموش کرانے کے لیے ایک ‘منظم ہراساں کرنے کی مہم’ قرار دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق قانون سازی میں ہونے والی تبدیلیوں میں 27ویں آئینی ترمیم خاص طور پر اہم تھی، جس نے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کیا اور مسلح افواج کے سربراہان اور صدر کو وسیع سطح پر قانونی تحفظ فراہم کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام نے اظہارِ رائے کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال جاری رکھا۔ آن لائن مواد پر سنسرشپ بھی کی گئی، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات شامل تھے۔

    مزید یہ کہ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنا ویب مانیٹرنگ سسٹم بھی اپ ڈیٹ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض اوقات حکومت نے تنقیدی خبریں شائع کرنے والے اخبارات سے اشتہارات واپس لے لیے، جسے دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ قرار دیا گیا۔

    جبری گمشدگی کا بڑھتا ہوا رجحان

    جبری گمشدگیاں 2025 میں ایک بڑا مسئلہ بنی رہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں بلوچ کارکنوں کے احتجاج کو روکا گیا، اور 21 مارچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہرے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

    رپورٹ میں خاص طور پر بلوچستان میں جبری لاپتہ ہونے والوں کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں بہت سے لوگوں کی لاشیں ملیں اور پرانے مقدمات بھی حل طلب رہ گئے۔ بلوچستان میں ہی کم از کم پانچ کارکنان قتل کیے گئے، جن میں سینیٹر حبیب جالب بلوچ، محمد خان زہیب، عبدالمجید، فقیر محمد بلوچ اور زمان مری شامل ہیں۔ اگرچہ ان ماورائے قتل کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملوث ہونے کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں، لیکن کچھ بالواسطہ حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    صحافت: ایک جان لیوا پیشہ

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو ریاستی ایجنٹوں اور مسلح گروپوں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔ 2010 میں پاکستان میں 19 میڈیا ورکرز قتل ہوئے، جس کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ملک قرار پایا۔

    مذہبی منافرت: جب قانون ہی بوجھ بن جائے

    رپورٹ نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطابق احمدی، شیعہ اور عیسائیوں کو فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ طالبان سے منسلک گروہ شیعہ، احمدی اور صوفیوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں سزا سے بچنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ احمدیوں، عیسائیوں، شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: ایک خاموش وبا

    ایمنسٹی کی رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ریپ، جبری شادیاں، ناموسی قتل، تیزاب سے حملے اور دیگر گھریلو تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن پولیس مقدمات درج کرنے اور ان کی چھان بین کرنے سے گریزاں ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی ہیلپ لائن مہمان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نومبر 2010 تک 1195 خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سے 98 کو قتل سے پہلے ریپ کیا گیا تھا۔

    افغان پناہ گزین: ایک بے گھر قوم

    رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوری طور پر افغان پناہ گزینوں کی گرفتاریاں اور جبری وطن واپسی روکے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر افغان پناہ گزینوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    یہ رپورٹ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک خطرناک انتباہ ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    انسانی حقوق کی عالمی صورتحال

    برطانوی دارالحکومت لندن ایمنیسٹی انٹرنیشنل جاری ہونے والی اس سالانہ رپورٹ میں خاص طور پر تین عالمی رہنماؤں ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر پوتن اور بینجامن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں ’شکاری‘ قرار دیا گیا ہے۔تنظیم نے خاص طور پر غزہ، یوکرین، ایران اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری ان پالیسیوں کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی جگہوں پر جنگی جرائم، جبری نقل مکانی اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

    ایمنسٹی نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جبکہ روس کے حوالے سے یوکرین جنگ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسی طرح امریکا کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی بعض پالیسیاں عالمی انسانی حقوق کے نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 انسانی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی مشکل سال رہا، جس میں دنیا بھر میں آمریت میں اضافہ ہوا اور جمہوری اقدار کمزور ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب کئی ممالک میں اختلاف رائے کو دبایا جا رہا ہے، احتجاج کو جرم بنایا جا رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    ایگنس کیلامارڈ نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو گزشتہ 80 سال میں انسانی حقوق کے لیے کی گئی پیش رفت ضائع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر متحد ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا، ورنہ ایک ایسا عالمی نظام بن سکتا ہے جہاں انصاف اور قانون کی کوئی اہمیت نہ رہے۔

  • انسانی حقوق کا عالمی دن: پاکستان کی صورتحال پر ایک خصوصی رپورٹ

    انسانی حقوق کا عالمی دن: پاکستان کی صورتحال پر ایک خصوصی رپورٹ

    دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال 10 دسمبر کو اس یاد میں منایا جاتا ہے کہ 1948 میں اقوام متحدہ نے عالمی اعلامیۂ حقوقِ انسان منظور کیا تھا۔ پاکستان ان چند ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ ہمارے آئین میں بھی ان بنیادی حقوق کی ضمانت موجود ہے۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تاریخ ہمیشہ مشکل رہی ہے۔ فوجی حکومتوں کے لمبے دور نے یہاں جمہوری روایات کو کمزور کیا۔ جمہوری ادوار بھی مکمل طور پر بہتر ثابت نہیں ہوئے۔ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں، گرفتاریوں اور دباؤ کے واقعات بار بار سامنے آتے رہے۔ موجودہ دور میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں، خصوصاً پی ٹی آئی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا رہی ہیں۔

    لاہور میں اپنی انتالیسویں سالانہ میٹنگ کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سخت خدشات ظاہر کیے۔ کمیشن نے کہا کہ آئینی جمہوریت خطرے میں ہے۔ شہری آزادیوں میں کمی آرہی ہے۔ کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے حالات مزید سخت ہو رہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوری عمل، اظہارِ رائے اور سیاسی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکام اختلافِ رائے دبانے کے لیے قانون کا استعمال کر رہے ہیں۔ توہینِ شہرت، بغاوت، نفرت انگیزی اور “سائبر دہشت گردی” کے قوانین کو ناقدین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف شدت پسندی کے حملوں میں اضافہ ہوا جس نے امن و امان کے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا۔

    موسمیاتی تبدیلی نے عام آدمی کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا۔ کہیں سیلاب آئے، کہیں گرمی نے روزگار اور زندگی دونوں کو خطرے میں ڈالا۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری تک پہنچ گیا۔ لوگ پانی، روزگار اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔ مہنگائی میں کچھ کمی ضرور ہوئی، مگر مزدور طبقہ اب بھی بہت پیچھے ہے۔ کم آمدنی والے اور دیہاڑی دار کارکنوں کو نہ محفوظ ماحول ملا، نہ مناسب اجرت، اور نہ ہی یونین سازی کا حق۔

    اس سال انسانی حقوق کے دن کا عنوان ہے: "ہماری روزمرہ کی ضرورتیں”۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق صرف بڑے نعروں یا قوانین کا نام نہیں۔ یہ ان چھوٹی، بنیادی چیزوں میں بھی موجود ہیں جو ہماری زندگی کو سہارا دیتی ہیں—جیسے تحفظ، روزگار، پانی، صحت، انصاف اور آزادی۔ یہی ضروریات آج پاکستان میں سب سے زیادہ داؤ پر لگی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

    لیکن ان سب کے درمیان ایک امید کی کرن بھی سامنے آئی ہے۔

    اسلام آباد میں آج ایک اہم اور خوش آئند خبر سامنے آئی۔ تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما پِربھُو ستّیانی کو فرانکو۔جرمن ہیومن رائٹس اینڈ رول آف لاء پرائز سے نوازا گیا۔ یہ پاکستان کے لیے قابلِ فخر لمحہ ہے۔ تقریب فرانسیسی ریزیڈنس میں ہوئی جہاں ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔

    پِربھُو ستّیانی نے ہمیشہ پسماندہ طبقات کے لیے آواز اٹھائی۔ بچوں کے حقوق کی قومی کمیشن میں ان کا کردار نمایاں رہا۔ مذہبی اقلیتوں پر لکھی گئی ان کی کتاب نے دنیا کو پاکستان کے اہم مسائل سے آگاہ کیا۔ فرانس اور جرمنی ہر سال یہ اعزاز اُن شخصیات کو دیتے ہیں جو انسانی حقوق کے لیے غیر معمولی کام کریں۔ اس سال پاکستان کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ یہاں مثبت کردار ادا کرنے والے لوگ موجود ہیں اور دنیا انہیں دیکھ بھی رہی ہے۔

    پِربھُو ستّیانی کی کامیابی اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مشکل حالات میں بھی امید کا چراغ جل سکتا ہے۔ تھرپارکر جیسے دور دراز علاقے سے اٹھنے والی ایک آواز، آج عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پیچیدہ ضرور ہے، مگر یہ اعزاز بتاتا ہے کہ تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں۔ انسانی حقوق صرف قوانین کا نام نہیں، بلکہ وہ روزمرہ کا سہارا ہیں، جن پر زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ اور جب ایسے افراد سامنے آتے ہیں جو ان سہاراوں کو مضبوط بنانے کے لیے لڑتے ہیں، تو ایک بہتر مستقبل کی امید بھی روشن ہو جاتی ہے۔