26 اپریل 1986 کو چرنوبل جوہری حادثے نے یوکرین کے ایک آباد شہر پریپیات کو ایسی ویرانی میں بدل دیا جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
ہزاروں لوگ اپنے گھر، اسکول، دکانیں اور روزمرہ زندگی کی نشانیاں چھوڑ کر نکلے، یہ سوچتے ہوئے کہ وہ جلد واپس آجائیں گے۔ مگر ان کی عارضی نقل مکانی مستقل جلاوطنی بن گئی۔ آج خالی عمارتوں، جنگل میں بدلتی سڑکوں اور زنگ آلود فیرس وہیل کے درمیان کھڑا پریپیات اس سوال کی یاد دہانی ہے کہ انسانی ترقی کی دوڑ میں غفلت کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے۔
یوکرین کے شمالی حصے میں واقع پریپیات کبھی سوویت یونین کے جدید اور تیزی سے ترقی کرتے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ شہر 1970 میں چرنوبل جوہری بجلی گھر میں کام کرنے والے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے آباد کیا گیا تھا۔ یہاں رہائشی عمارتیں، اسکول، ہسپتال، کھیل کے میدان، ثقافتی مراکز، دکانیں اور تفریحی مقامات موجود تھے۔ شہر میں ہزاروں خاندان آباد تھے اور زندگی معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی۔
لیکن 26 اپریل 1986 کی صبح اس شہر کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
رات ایک بج کر 23 منٹ پر چرنوبل جوہری بجلی گھر کے چوتھے ری ایکٹر میں ایک تباہ کن حادثہ پیش آیا۔ ری ایکٹر کو بند کرنے سے متعلق ایک آزمائش کے دوران ہونے والے واقعات کے نتیجے میں دھماکے ہوئے، ری ایکٹر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی مقدار میں تابکار مادے فضا میں خارج ہونے لگے۔ یہ حادثہ بعد میں دنیا کی تاریخ کے بدترین جوہری حادثات میں شمار ہوا۔
پریپیات بجلی گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ حادثے کے بعد شہر کے رہائشیوں کو فوری طور پر وہاں سے منتقل نہیں کیا گیا۔ لوگ اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف رہے، جبکہ جوہری بجلی گھر میں ہونے والی تباہی کے اثرات سے نمٹنے کی کوششیں جاری تھیں۔
بالآخر 27 اپریل 1986 کو شہر خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حادثے کے تقریباً 36 گھنٹے بعد رہائشیوں کو اپنے گھر چھوڑنے کی ہدایت دی گئی۔ حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ چند دن کے لیے ضروری سامان ساتھ لے کر نکلیں۔ اس مقصد کے لیے بڑی تعداد میں بسیں پہنچائی گئیں اور ہزاروں افراد کو شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ انخلا کے وقت پریپیات کی آبادی تقریباً 49 ہزار تھی۔
لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے گھروں کو آخری بار دیکھ رہے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے پیچھے کپڑے، فرنیچر، کھلونے، کتابیں اور روزمرہ استعمال کی دوسری چیزیں چھوڑ گئے۔ انہیں امید تھی کہ چند دن بعد حالات معمول پر آجائیں گے اور وہ واپس لوٹ سکیں گے۔ لیکن تابکاری کے پھیلاؤ اور علاقے کو لاحق خطرات کے باعث ان کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔
ایک آباد شہر اچانک خالی ہو گیا۔
وہ اسکول جہاں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، خاموش ہو گئے۔ وہ اپارٹمنٹ جہاں خاندانوں کی زندگی آباد تھی، ویران پڑے رہ گئے۔ بازاروں میں خریداروں کی آمدورفت ختم ہو گئی اور کھیل کے میدان بچوں سے خالی ہو گئے۔ وقت کے ساتھ عمارتیں خستہ حال ہوتی گئیں اور کبھی جدید شہری زندگی کی علامت سمجھی جانے والی جگہیں زوال کی تصویر بن گئیں۔
پریپیات کی سب سے مشہور علامت اس کا تفریحی پارک اور وہاں نصب زرد رنگ کا فیرس وہیل ہے۔ اس پارک کا افتتاح یکم مئی 1986 کو ہونا تھا، جب سوویت یونین میں یوم مزدور کی تقریبات منائی جانی تھیں۔ لیکن افتتاح سے چند روز قبل چرنوبل حادثہ پیش آ گیا اور شہر خالی کرا لیا گیا۔ فیرس وہیل کبھی اپنے طے شدہ افتتاح کے مطابق عوام کے لیے استعمال نہیں ہو سکا۔ آج اس کا زنگ آلود ڈھانچا دنیا بھر میں جوہری حادثے اور اچانک ختم ہو جانے والی شہری زندگی کی علامت بن چکا ہے۔
اس پارک کے جھولے اور دوسری تفریحی مشینیں بھی اسی طرح چھوڑ دی گئیں۔ جہاں بچوں کی ہنسی، موسیقی اور لوگوں کے شور کی توقع تھی، وہاں خاموشی نے جگہ لے لی۔ فیرس وہیل کے خالی ڈھانچے کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ کبھی کبھی تاریخ کے بڑے سانحات کسی شہر کو صرف تباہ نہیں کرتے، بلکہ اس کے مستقبل کو بھی وہیں روک دیتے ہیں جہاں وہ کھڑا ہوتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ قدرت نے پریپیات کی خالی جگہوں پر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ عمارتوں کے درمیان درخت اگنے لگے، پودوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جگہ بنا لی اور جنگلی جانور اس علاقے میں نظر آنے لگے۔ بعض مقامات پر پودوں اور درختوں نے انسانی تعمیرات کو اس حد تک گھیر لیا کہ شہر کی سڑکیں جنگل کا حصہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔
تاہم، قدرت کی اس واپسی کو یہ ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ علاقہ مکمل طور پر محفوظ ہو چکا ہے۔ تابکاری کی سطح ہر جگہ یکساں نہیں اور بعض مقامات پر آلودگی طویل عرصے تک خطرہ بن سکتی ہے۔ چرنوبل کے گرد قائم ممنوعہ علاقے میں داخلے کے لیے اجازت اور حفاظتی ضوابط اہم ہیں۔ موجودہ حالات میں سکیورٹی اور جنگ سے متعلق پابندیاں بھی رسائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
چرنوبل حادثے کے اثرات صرف پریپیات تک محدود نہیں رہے۔ تابکار مادے یوکرین سے باہر بھی پھیلے اور مختلف ممالک میں ماحول، خوراک اور صحت کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی۔ حادثے کے بعد متاثرہ علاقے سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی، جبکہ جوہری حفاظت، ہنگامی منصوبہ بندی اور توانائی کے محفوظ استعمال پر دنیا بھر میں بحث تیز ہو گئی۔
پریپیات آج محض ایک ویران شہر نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا ایک اہم سبق ہے۔ یہ شہر دکھاتا ہے کہ جدید عمارتیں، ترقی یافتہ سہولتیں اور سائنسی کامیابیاں کسی معاشرے کو خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتیں۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ شفافیت، ذمہ داری، احتیاط اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری بھی ضروری ہے۔
اس شہر کی خاموش عمارتیں، خالی اسکول، ویران گھر اور زنگ آلود فیرس وہیل ماضی کی ایسی تصویریں ہیں جو آج بھی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہاں وقت حقیقت میں نہیں رکا، کیونکہ عمارتیں مسلسل ٹوٹ رہی ہیں اور قدرت اپنے انداز میں زمین کی شکل بدل رہی ہے۔ لیکن انسانی زندگی کا وہ منظر، جو اپریل 1986 میں اچانک ختم ہوا، آج بھی انہی خالی گلیوں میں ماضی کی طرح موجود محسوس ہوتا ہے۔
پریپیات کی کہانی ایک ایسے شہر کی کہانی ہے جہاں ہزاروں لوگ بہتر زندگی کے خواب لے کر آباد ہوئے تھے، مگر ایک جوہری حادثے نے انہیں اپنے گھروں سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیا۔
اور جب کوئی اس شہر کی خالی گلیوں اور خاموش عمارتوں کو دیکھتا ہے تو ایک سوال ذہن میں ضرور ابھرتا ہے۔
کیا انسان اپنی سائنسی کامیابیوں کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سمجھتا ہے، جتنی سنجیدگی سے وہ ترقی کے خواب دیکھتا ہے؟
