فیصل واوڈا، محسن نقوی اور آصف زرداری

محسن نقوی

فیصل واوڈا کون ہیں، کہاں سے آئے، کیوں آئے، کون لایا، یہ بہت سے سوال شاید جواب طلب ہی رہیں گے، لیکن ایک ٹائم لائن تو کم از کم دیکھی ہی جا سکتی ہے۔

پی ٹی آئی ابھری تو کراچی کی حد تک عمران اسماعیل، محمود مولوی اور علی زیدی کے ساتھ فیصل واوڈا کو بھی لوگوں نے جاننا شروع کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی کا تو خیر کچھ نہ کچھ سیاسی پس منظر تھا ہی، ان کی سیاسی جدوجہد بھی اس وقت نظر آئی جب کراچی میں بارش کے پانی میں کھڑے ہو کر کشتی کو دھکا لگایا، لیکن فیصل واوڈا کا ایسا کوئی سیاسی پس منظر بھی نہیں تھا۔

فیصل واوڈا کو کچھ چینلز پر پذیرائی ملنا شروع ہو گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ’واوڈا آئیں تو فوراً لائیو کوریج دکھانا‘۔ اچھا جی، جو حکم سرکار کا، صحافت گئی بھاڑ میں۔ پھر واوڈا رکن اسمبلی بھی بن گئے اور پہلی ہی بار اسمبلی میں پہنچ کر وزارت کا منصب بھی سنبھال لیا۔

جہاں تک پہنچنے میں ایک سیاسی کارکن کو برسوں لگ جاتے ہیں، واوڈا نے ایک ہی جھٹکے میں وہ منزل پالی۔

شاید اب لوگوں کو یاد بھی نہ ہو کہ ان کے پاس کون سی وزارت تھی، لیکن ایک چیز کوئی نہیں بھولا ہوگا، لائیو شو میں بوٹ لے کر آنا۔ شاید کسی بھی وزارت اور کسی بھی اسمبلی رکنیت سے یہ عمل ان کے لیے زیادہ شہرت کا باعث بنا۔

واوڈا نے آج بھی اس واقعے کو زندہ رکھا ہوا ہے، اور شاید عقلمندی بھی اسی میں ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت مشکل کا شکار ہوئی، تو واوڈا نے اپنا بیانیہ تبدیل کیا۔ مزہ تو تب آیا جب موصوف پیپلز پارٹی کے قریب جا پہنچے اور ان کی حمایت حاصل کر لی۔

ابھی لوگ بھولے نہ ہوں گے کہ آصف زرداری نے کسے مخاطب کرکے خود کو لوہے کے چنے کہا تھا، لیکن ایک علانیہ بوٹ بردار کو سینے سے لگانے میں مضائقہ نہ سمجھا۔

محسن نقوی کی ابتدائی پہچان ’سی این این‘ کے لیے رپورٹنگ ہے۔

اپنی رپورٹنگ کے دور میں انہوں نے سی این این کے لیے بے نظیر بھٹو کا انٹرویو بھی کیا۔ پھر پتہ چلا کہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک مقامی چینل (سٹی نیوز 42) کھول لیا۔

شہر کی خبریں بتانے والا یہ چینل کامیابی سے چلا اور پھر ایک بڑا میڈیا گروپ ان کی پہچان بنا۔ چینل کے ملازمین محسن نقوی کو بطور مالک اور باس اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔

زیادہ تر سفید لباس میں ملبوس رہنے والے محسن نقوی یوں بھی ٹھنڈے مزاج کے معاملہ فہم شخص لگتے ہیں۔

محسن نقوی کی حکومتی و انتظامی اڑان کا آغاز پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ بننے سے ہوا۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایک نگران سیٹ اپ میں اس ذمہ داری کے لیے ان کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ ذمہ داری کیسے نبھائی، اس کا فیصلہ تو وقت اور تاریخ کرتی ہے۔

لیکن بظاہر ان کی انتظامی صلاحیتوں پر اعتماد کیا گیا، تبھی انہیں آگے بھی اہم ترین ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ کیا واقعی محسن نقوی کا سیاسی، سماجی یا علمی قد اتنا بڑا ہے؟ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے، سہاگن وہی جسے پیا جی چاہیں۔

فیصل واوڈا کے برعکس محسن نقوی نے کچھ نہ کچھ سیاسی قرابت داریاں بھی بنا لی تھیں۔ چوہدری شجاعت کے خاندان سے قریبی خاندانی روابط نے انہیں سیاسی حلقوں کا حصہ بنا ہی دیا تھا۔ آصف زرداری کئی بار انہیں اپنا بیٹا کہہ چکے ہیں۔

جنوری  2023میں جب محسن نقوی کو پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ بنایا گیا، تو کہا جاتا ہے کہ سیاسی جوڑ توڑ میں یہ تعلقات اہم ثابت ہوئے۔ آصف زرداری اس کے علاوہ بھی کئی بار محسن نقوی کو اپنا بیٹا کہہ کر پکار چکے ہیں۔

ایک موقع پر تو بلاول نے بھی اس پر ہلکے پھلکے انداز میں تبصرہ کیا۔ پرانے زمانے میں کہتے تھے کہ ضرورت کے وقت ۔۔ کو بھی باپ بنا لیتے ہیں، یہ نیا دور ہے، اب شاید بیٹا بنا لیتے ہیں۔

آخر آصف زرداری کو بلاول کے ہوتے ہوئے مزید بیٹے بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ وہی آصف زرداری ہیں جنہوں نے کبھی کھلی دھمکی دی تھی کہ ہم لوہے کے چنے ہیں، تم چند سال کے لیے آتے ہو، ہم ہمیشہ کے لیے ہوتے ہیں۔

یہ وہی زرداری ہیں جن کی لائی ہوئی اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ آج بھی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ یہ وہی زرداری ہیں جنہوں نے حسین حقانی کے ذریعے کسی کے پر قینچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ وہی زرداری ہیں جن کے سسر، بیوی اور سالے غیر طبعی موت کا شکار ہوئے۔

شاید یہی تاریخی تجربات آصف زرداری کی سوچ اور حکمت عملی بدلنے کا سبب بنے۔

آصف زرداری نے دیکھ لیا کہ انگریزی کہاوت کے مطابق

If you can’t beat them, join them

کے مصداق

If you can’t beat them, make them your son۔

ہماری صحافت میں کہتے ہیں مردہ رپورٹر کوئی خبر نہیں لا سکتا، شاید آصف زرداری یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ’مردہ سیاست دان کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا‘