کراچی کے تاریخی فریئر ہال کے اندر قائم صادقین گیلری شہر کے اہم ثقافتی مقامات میں شمار ہوتی ہے، جہاں معروف مصور اور خطاط صادقین کے فن پارے محفوظ اور نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اس گیلری کی سب سے نمایاں شناخت فریئر ہال کی چھت پر موجود صادقین کا عظیم الشان دیواری فن پارہ ہے، جسے ‘ارض و سماوات’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صادقین نے اس فن پارے پر 1986 میں کام شروع کیا، تاہم 10 فروری 1987 کو ان کے انتقال کے باعث یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔
دستیاب معلومات کے مطابق اس دیواری فن پارے کے لیے مجموعی طور پر 100 پینلز کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سے 87 پینلز پر صادقین نے کام کیا، جبکہ 13 پینلز ان کی وفات کے وقت نامکمل رہ گئے۔ ہر پینل تقریباً آٹھ بائی چار فٹ کا بتایا جاتا ہے۔
یہ فن پارہ صرف بڑے حجم کی مصوری نہیں بلکہ انسان، زمین، آسمان، کائنات، علم اور انسانی جدوجہد جیسے موضوعات کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ صادقین کے فن میں خطاطی اور مصوری کا امتزاج بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

فریئر ہال اور صادقین کا تعلق صرف ان کے آخری دیواری فن پارے تک محدود نہیں۔ 1957 میں اسی تاریخی عمارت میں صادقین کی ایک اہم نمائش منعقد ہوئی تھی۔ تقریباً تین دہائیوں بعد وہ دوبارہ فریئر ہال آئے اور اپنی زندگی کے آخری بڑے منصوبے پر کام شروع کیا۔
فریئر ہال میں صادقین گیلری کے قیام کی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہاں گیلری پہلے 1990 میں قائم کی گئی تھی، جبکہ 2017 میں صادقین فاؤنڈیشن نے فریئر ہال کی مرمت اور تزئین کے بعد اسے دوبارہ فعال کیا۔
2017 میں صادقین فاؤنڈیشن کی جانب سے 50 سے زائد فن پارے گیلری کے لیے عطیہ کیے گئے تھے۔ تاہم موجودہ گیلری میں اس وقت کل کتنے فن پارے موجود ہیں، اس کی تازہ مکمل سرکاری فہرست عوامی سطح پر دستیاب نہیں، اس لیے موجودہ مجموعے کی حتمی تعداد بتانا درست نہیں ہوگا۔
صادقین کا فن فریئر ہال تک محدود نہیں تھا۔ صادقین فاؤنڈیشن کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں 15 ہزار سے زیادہ فن پارے تخلیق کیے، جن میں مصوری، خطاطی، ڈرائنگ اور دیواری فن پارے شامل ہیں۔
صادقین اپنے فن پارے مختلف اداروں اور افراد کو تحفے میں بھی دیتے رہے، جس کے باعث ان کے فن پارے آج مختلف شہروں اور ممالک میں موجود ہیں۔ بعض فن پاروں کے بارے میں ان کا موجودہ مقام بھی واضح نہیں۔
فریئر ہال سے صادقین کی وابستگی کا ایک اور کم معروف پہلو قرآن مجید کی سورۂ رحمٰن کی آیات پر مشتمل 40 سنگ مرمر کی تختیاں ہیں، جو صادقین نے 1986 میں کراچی کے شہری ادارے کو تحفے میں دی تھیں۔ تاہم ان تختیوں کی موجودہ حالت اور مقام کے بارے میں مستند تازہ معلومات دستیاب نہیں۔

صادقین گیلری کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں کراچی کی تاریخی تعمیراتی وراثت اور پاکستان کے جدید فن کا ایک منفرد امتزاج موجود ہے۔ ایک طرف فریئر ہال کی تاریخی عمارت ہے اور دوسری طرف صادقین کا فن، جس نے پاکستان میں مصوری اور خطاطی کے درمیان ایک منفرد ربط پیدا کیا۔
گیلری میں آنے والے افراد کے لیے صادقین کا فریئر ہال والا دیواری فن پارہ خاص توجہ کا مرکز ہے، کیونکہ یہ ان کے آخری بڑے منصوبوں میں شامل تھا اور ان کی وفات کے باعث نامکمل رہ گیا۔
فریئر ہال اور صادقین گیلری کراچی کے ان مقامات میں شامل ہیں جہاں شہر کی تاریخ، فن تعمیر اور جدید پاکستانی فن ایک ہی جگہ پر نظر آتے ہیں۔
تاہم گیلری کے سالانہ یا روزانہ آنے والے افراد کی موجودہ مستند تعداد کا سرکاری ریکارڈ عوامی طور پر دستیاب نہیں، اس لیے اس حوالے سے کوئی مخصوص تعداد بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
