ماحولیاتی تباہی سے سماجی بے چینی تک: انسان آخر کیوں غصے میں ہے؟

ایک طرف سورج کی بڑھتی ہوئی تپش، دوسری طرف پانی کی کمی، آلودہ ہوا، بارشوں کا بے ترتیب ہونا، سیلاب، فصلوں کی تباہی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔ انسان جس ماحول میں سانس لے رہا ہے، وہی ماحول اب اس کے ذہنی سکون کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا انسان واقعی پہلے سے زیادہ غصے میں ہے؟ اور اگر ہے تو اس غصے کی وجہ صرف سیاسی، معاشی یا سماجی حالات ہیں یا ہمارے اردگرد تیزی سے بدلتا ہوا ماحول بھی اس جذباتی بے چینی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب ایک لفظ میں نہیں دیا جا سکتا۔ غصہ دراصل کئی مسائل کا مجموعہ ہے۔ جب مسلسل گرمی، پانی کی قلت، آلودگی، بے روزگاری، مہنگائی، بیماری، نقل مکانی اور مستقبل کا خوف ایک ہی زندگی میں جمع ہو جائیں تو انسان کے اندر بے بسی، اضطراب اور غصہ پیدا ہونا فطری بات ہے۔

جب موسم صرف موسم نہیں رہتا

کراچی جیسے بڑے شہروں میں شدید گرمی اب صرف موسم کی شدت نہیں رہی۔ گرمی بجلی کے بل، پانی کی دستیابی، کام کے اوقات، صحت اور آمدنی سے جڑ چکی ہے۔

ایک مزدور کے لیے شدید گرمی کا مطلب کام کے دوران جسمانی کمزوری اور بیماری ہو سکتا ہے، رکشہ ڈرائیور کے لیے سڑک پر گھنٹوں دھوپ میں رہنا، ایک دکاندار کے لیے بجلی کا بڑھتا ہوا خرچ اور ایک متوسط گھرانے کے لیے پانی، بجلی، علاج اور خوراک کے اخراجات میں اضافہ۔

یعنی ماحولیاتی بحران اب زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی تحقیق کے مطابق گرمی، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خاص طور پر غریب، بزرگ اور بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

شہری کیا کہتے ہیں؟

کراچی کے ایک شہری کے مطابق، ’پہلے گرمی صرف گرمی لگتی تھی، اب گرمی کے ساتھ پانی، بجلی، بیماری اور خرچ کا بھی خوف ہوتا ہے۔ آدمی صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ شام تک کتنے نئے مسائل سامنے آجائیں گے۔‘

ایک خاتون شہری کہتی ہیں، ’گھر میں بچوں کی صحت، پانی کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات مسلسل ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ جب انسان ہر وقت کسی نہ کسی پریشانی میں ہو تو چھوٹی سی بات پر بھی غصہ آجاتا ہے۔‘

ایک رکشہ ڈرائیور کا کہنا ہے، ’گرمی میں سڑک پر کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اگر ایک دن بیماری کی وجہ سے کام نہ کریں تو گھر کا خرچ رک جاتا ہے۔ غصہ آتا ہے، لیکن اصل میں غصے کے پیچھے پریشانی ہوتی ہے۔‘

یہ شہری آرا ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں: غصہ اکثر اصل مسئلہ نہیں بلکہ مسلسل دباؤ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق غصے کے پیچھے کیا ہے؟

ماہرینِ صحت اور ماحولیات کے مطابق موسمیاتی بحران کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہیں۔ کراچی میں طبی اور صحت عامہ کے ماہرین پر ہونے والی ایک تحقیق میں موسمیاتی تبدیلی کو بیماریوں، آلودگی، سیلاب، معاشی مسائل، نقل مکانی اور ذہنی دباؤ سے جوڑا گیا۔ تحقیق میں گرمی کی لہروں اور درجہ حرارت میں تبدیلی کو ذہنی دباؤ اور تھکن میں اضافے سے بھی منسلک کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان کو مسلسل یہ احساس ہو کہ حالات اس کے قابو سے باہر ہیں تو بے بسی غصے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مثلاً پانی نہیں مل رہا، بجلی مہنگی ہے، روزگار غیر یقینی ہے، علاج مہنگا ہے، گھر محفوظ نہیں، بارش آئے تو سیلاب کا خوف ہے، گرمی بڑھے تو صحت کا مسئلہ ہے، فصل خراب ہو تو آمدنی ختم ہو جاتی ہے اور شہر میں آلودگی ہو تو بچوں کی صحت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

ایسے حالات میں غصہ صرف ایک فرد کا جذباتی ردعمل نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی کیفیت بن سکتا ہے۔

سیلاب صرف گھر نہیں بہاتا، ذہنی سکون بھی لے جاتا ہے

موسمیاتی آفات کے بعد مسئلہ صرف تباہ شدہ گھر یا سڑک نہیں ہوتا۔ متاثرہ خاندان اپنا روزگار، سماجی تعلقات، تعلیم، صحت اور مستقبل کے بارے میں تحفظ کا احساس بھی کھو سکتے ہیں۔

2026 میں شائع ہونے والی پاکستان سے متعلق ایک طبی تحقیق کے مطابق 2022 اور 2025 کے سیلابوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، طبی سہولیات کی تباہی، غذائی مسائل اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا کیے۔ تحقیق نے موسمیاتی آفات کو صحت اور ماحولیاتی نظام کے باہمی بحران کے طور پر دیکھا۔

سیلاب سے بچ جانے والا شخص پانی اترنے کے بعد بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا۔ اسے دوبارہ گھر بنانے، روزگار تلاش کرنے، بچوں کی تعلیم بحال کرنے اور اگلی بارش کے خوف کے ساتھ زندگی گزارنا پڑ سکتی ہے۔

یہی مسلسل خوف ماحولیاتی اضطراب، بے بسی اور غصے کو جنم دے سکتا ہے۔

کسان کا غصہ بھی ماحولیاتی بحران کی کہانی ہے

موسمیاتی بحران کا ایک بڑا اثر دیہی معیشت پر پڑتا ہے۔ کسان کے لیے غیر معمولی بارش فصل کو تباہ کر سکتی ہے، شدید گرمی پیداوار کم کر سکتی ہے، پانی کی کمی زمین کو متاثر کر سکتی ہے اور سیلاب ایک ہی موسم میں برسوں کی محنت ختم کر سکتا ہے۔

جب کسان کی آمدنی متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کے گھر تک محدود نہیں رہتا۔ خوراک کی قیمت بڑھتی ہے، شہری صارف متاثر ہوتا ہے اور مہنگائی مزید سماجی دباؤ پیدا کرتی ہے۔

کراچی میں صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے ایک مطالعے میں بھی موسمیاتی تبدیلی کو زراعت کے نقصان، خوراک کے عدم تحفظ، مہنگائی، نقل مکانی اور شہری علاقوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے جوڑا گیا ہے۔

یعنی دیہی ماحولیاتی بحران بالآخر شہری غصے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

نوجوان نسل: غصہ یا ماحولیاتی بے چینی؟

نوجوانوں میں ایک اور کیفیت تیزی سے زیرِ بحث آ رہی ہے جسے ماحولیاتی اضطراب کہا جاتا ہے۔

یہ صرف اس بات کا خوف نہیں کہ موسم گرم ہو جائے گا۔ یہ اس فکر کا نام ہے کہ آنے والے برسوں میں زندگی کیسی ہو گی؟ کیا پانی دستیاب ہو گا؟ کیا روزگار ہو گا؟ کیا شہر رہنے کے قابل رہیں گے؟ کیا شدید گرمی، سیلاب اور آلودگی کے درمیان خاندان بنانا محفوظ ہو گا؟

دنیا کے مختلف حصوں میں نوجوانوں کے درمیان موسمیاتی بحران سے متعلق اضطراب، خوف، مایوسی اور غصے پر تحقیق بڑھ رہی ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں شدید گرمی کی لہروں کے دوران نوجوانوں میں ماحولیاتی اضطراب اور سیاسی بے عملی پر غصے کو بھی نمایاں کیا گیا۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ کیفیت معاشی غیر یقینی، بے روزگاری اور موسمیاتی خطرات کے ساتھ مل کر مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا نے غصے کو آواز بھی دی اور رفتار بھی

آج شہری کا غصہ صرف گھر یا گلی تک محدود نہیں رہتا۔ ایک ویڈیو، ایک تصویر یا ایک شکایت چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔

کراچی میں سڑک پر پانی کھڑا ہو، کسی علاقے میں پانی نہ آ رہا ہو، شدید گرمی میں بجلی بند ہو، درخت کاٹے جائیں یا کسی صنعتی علاقے میں آلودگی پھیلے تو شہری فوری طور پر اپنی شکایت سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔

اس صورت حال کے دو پہلو ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا نے عام شہری کو آواز دی ہے، دوسری طرف مسلسل منفی خبریں اور تصاویر ذہنی تھکن اور اجتماعی غصے میں اضافہ بھی کر سکتی ہیں۔

لہٰذا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ غصہ کیوں کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے غصے کو سنا کون رہا ہے؟

کیا غصہ خطرناک ہے؟

ہر غصہ خطرناک نہیں ہوتا۔ ماہرین کے نزدیک غصہ بعض اوقات تبدیلی کی طاقت بھی بن سکتا ہے۔ اگر شہری آلودگی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، صاف پانی کا مطالبہ کرتے ہیں، بہتر عوامی نقل و حمل چاہتے ہیں، درختوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں یا حکومت سے موسمیاتی منصوبوں میں شفافیت مانگتے ہیں تو یہ غصہ ایک مثبت شہری عمل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان مسلسل مسائل کا سامنا کرے لیکن اسے حل کی کوئی امید نظر نہ آئے۔

بے بسی، خوف، مسلسل دباؤ اور نظام پر عدم اعتماد مل کر سماجی بے چینی کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ کیفیت کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

ماہرین کی رائے: ماحول کو صحت اور سماجی پالیسی سے الگ نہیں کیا جا سکتا

صحت عامہ کے ماہرین کا مؤقف اب تیزی سے اس سمت بڑھ رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیات کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔

2026 کی ایک اور تحقیق نے پاکستان میں موسمیاتی بحران کو صحت کی سلامتی کے لیے فوری اور نظامی خطرہ قرار دیا۔ اس میں سیلاب، بیماریوں، غذائی قلت، نقل مکانی اور صحت کے نظام پر دباؤ کو ایک دوسرے سے منسلک مسائل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ موسمیاتی پالیسی صرف درخت لگانے یا کاربن کے اخراج کو کم کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں صاف ہوا، محفوظ پانی، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے گھر، صحت کی سہولیات، ذہنی صحت، روزگار کا تحفظ، محفوظ عوامی نقل و حمل، بہتر شہری منصوبہ بندی اور آفات سے پہلے تیاری شامل ہونی چاہیے۔

حکومت کیا کر سکتی ہے؟

ماہرین اور شہریوں کی تشویش کو پالیسی میں تبدیل کرنے کے لیے چند اقدامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

شہروں میں گرمی سے نمٹنے کے منصوبوں کو مؤثر بنایا جائے۔

پانی، نکاسی آب اور کچرے کے نظام کو موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر کیا جائے۔

سیلاب اور شدید گرمی کے بعد متاثرہ افراد کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، کیونکہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں۔

کسانوں اور کم آمدنی والے طبقے کو موسمیاتی نقصانات سے بچانے کے لیے مالی اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔

شہریوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، کیونکہ جو لوگ روزانہ ان مسائل کا سامنا کرتے ہیں، وہ ان کے عملی حل کے بارے میں اہم معلومات رکھتے ہیں۔

آخر انسان غصے میں کیوں ہے؟

شاید اس سوال کا سب سے سادہ جواب یہ ہے کہ انسان صرف موسم سے نہیں لڑ رہا، وہ غیر یقینی مستقبل سے لڑ رہا ہے۔

اسے خوف ہے کہ پانی کم ہو گا۔ اسے فکر ہے کہ خوراک مہنگی ہو گی۔ اسے ڈر ہے کہ اس کا روزگار متاثر ہو گا۔ اسے معلوم ہے کہ بیماری کا علاج مہنگا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ اگلی بارش اس کے گھر یا کاروبار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس ہو سکتا ہے کہ جن فیصلوں پر اس کی زندگی منحصر ہے، ان میں اس کی آواز بہت کم سنی جاتی ہے۔

لہٰذا ماحولیاتی تباہی کو صرف درختوں، دریاؤں، سمندروں اور موسم کا مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہو گی۔ یہ انسان کے مزاج، صحت، معیشت، خاندان اور سماجی تعلقات کا بھی مسئلہ ہے۔

اگر ماحول مسلسل انسان کو خوف، محرومی اور بے بسی دے گا تو معاشرہ پُرسکون کیسے رہے گا؟

شاید آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ ’انسان اتنا غصے میں کیوں ہے؟‘ بلکہ یہ ہے کہ ’ہم نے انسان کو سکون سے جینے کے لیے کتنا محفوظ ماحول دیا ہے؟‘

اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں تو بڑھتا ہوا غصہ مستقبل میں صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک بڑے سماجی اور پالیسی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں: