عالمی ادارۂ موسمیات کی وارننگ: طاقتور ال نینو سے 2027 تک شدید موسمی حالات کا خطرہ،

عالمی ادارۂ موسمیات (World Meteorological Organization) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی کیفیت ال نینو (El Niño) کا اثر آنے والے مہینوں میں انتہائی طاقتور ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت اور بارشوں کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ 

اس صورتحال سے شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب کے خطرات بڑھنے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ موسمیات (WMO) نے 3 ستمبر 2026 کو جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ بحرالکاہل کے گرم پانیوں کے باعث ال نینو مزید شدت اختیار کرنے کی توقع ہے۔ 

ادارے کے عالمی موسمی مراکز کی پیش گوئیوں کے مطابق اس بات کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے کہ ال نینو فروری 2027 تک برقرار رہے گا۔ ادارے کے مطابق مختلف موسمیاتی ماڈلز کی پیش گوئیوں میں اس حوالے سے غیر معمولی اتفاق پایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک ایسے موسمی دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں سمندروں اور زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور شدید موسمی واقعات کا خطرہ زیادہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اصل مقابلہ موسمی خطرات میں اضافے اور لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے موسمیاتی اقدامات کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق دنیا کو اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی تاکہ انسانی جانوں اور معیشتوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

عالمی ادارۂ موسمیات کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا کہ ال نینو کا مطلب ہسپانوی زبان میں ’بچہ‘ ہے، لیکن اس موسمی کیفیت میں دنیا بھر کی آبادیوں اور معیشتوں کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں میں خشک سالی اور سیلاب سے پہلے ہی نقصان ہو رہا ہے اور ال نینو کی شدت بڑھنے کے ساتھ یہ اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی تیاری اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارۂ موسمیات مختلف ممالک کے موسمیاتی اداروں کے ساتھ مل کر پیش گوئیوں اور بروقت انتباہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، تاکہ لوگوں کی جانوں اور روزگار کو محفوظ رکھا جا سکے۔

بحرالکاہل کے پانیوں میں غیر معمولی گرمی

عالمی ادارۂ موسمیات کے مطابق ال نینو کی شدت میں اضافے کی بنیادی وجہ بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح اور اس کے نیچے پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ سمندر کے وسطی اور مشرقی استوائی حصے میں پانی معمول سے زیادہ گرم ہو رہا ہے اور درجہ حرارت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی 2026 کے دوران بحرالکاہل کے متعلقہ حصے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے اوسطاً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ جولائی میں یہ فرق بڑھ کر 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ جولائی کے آخری حصے اور اگست کے وسط کے درمیان بعض ہفتوں میں یہ فرق 2.2 سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کی سطح کے نیچے بھی غیر معمولی گرمی موجود ہے۔ جولائی اور اگست کے آغاز میں بعض مقامات پر پانی کا درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ ال نینو کے مزید مضبوط ہونے کے لیے سمندر میں گرمی کی بڑی مقدار موجود ہے۔

عالمی ادارۂ موسمیات کے مطابق ال نینو سال کے اختتام کے قریب اپنی انتہائی شدت تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے موسمی اثرات 2027 کے دوران بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

ال نینو کیا ہے اور موسم پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی کیفیت ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث فضا میں ہواؤں کی سمت، ہوا کے دباؤ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات ہزاروں کلومیٹر دور واقع ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔

ال نینو اور اس کے برعکس موسمی کیفیت لا نینا (La Niña) دنیا کے موسمی نظام پر اثر انداز ہونے والے اہم قدرتی عوامل میں شامل ہیں۔ تاہم، ال نینو کی شدت زیادہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ملک میں لازماً ایک جیسے موسمی حالات پیدا ہوں گے۔

کسی علاقے میں شدید گرمی اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ دوسرے علاقے میں معمول سے زیادہ بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں۔ ان اثرات کا انحصار علاقے، موسم اور بحرہند سمیت دوسرے سمندروں کی صورتحال پر بھی ہوتا ہے۔

پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے کیا خدشات ہیں؟

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں ال نینو کی شدت میں اضافے کے ممکنہ اثرات پر نظر رکھنا اہم ہوگا۔ عالمی ادارۂ موسمیات نے 8 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی تازہ موسمیاتی پیش گوئی میں کہا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران برصغیر سمیت بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے۔ ادارے نے دنیا کے وسیع حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

پاکستان میں اگر معمول سے کم بارشیں ہوتی ہیں تو اس سے آبی ذخائر، زراعت، زیر زمین پانی اور آب پاشی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب، درجہ حرارت میں اضافے سے بجلی کی طلب، پینے کے پانی کی ضرورت اور گرمی سے متعلق صحت کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، یہ ممکنہ خطرات ہیں، پاکستان کے لیے کسی مخصوص قدرتی آفت کی یقینی پیش گوئی نہیں۔ ال نینو کے عالمی اثرات کے باوجود کسی ملک میں بارشوں، گرمی یا خشک سالی کی شدت کا تعین مقامی موسمی حالات اور دیگر عوامل بھی کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے حوالے سے محکمہ موسمیات کی قومی اور علاقائی پیش گوئیوں کو اہمیت دینا ضروری ہوگا۔

پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سیلاب، شدید گرمی اور بارشوں کے بے ترتیب معمولات نے آبادیوں، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں موسمیاتی تبدیلیوں کی بروقت نگرانی اور ممکنہ خطرات کے مطابق منصوبہ بندی مزید اہم ہو جاتی ہے۔

زراعت، پانی اور صحت پر ممکنہ اثرات

ال نینو کی شدت میں اضافہ دنیا کے مختلف علاقوں میں زراعت اور خوراک کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر کسی زرعی علاقے میں بارشیں کم ہوں اور درجہ حرارت بڑھ جائے تو فصلوں کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیداوار متاثر ہونے اور کسانوں کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، جہاں شدید بارشیں ہوں وہاں فصلوں، مویشیوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سیلاب سے سڑکوں، آب پاشی کے نظام اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

شدید گرمی انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ خصوصاً بچوں، بزرگوں، کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدوروں اور پہلے سے صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کو گرمی سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ گرمی کے باعث پانی کی کمی اور جسمانی درجہ حرارت میں خطرناک اضافے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ موسمیات نے اس صورتحال کے پیش نظر زراعت، صحت، توانائی اور پانی کے شعبوں سے متعلق اداروں کے ساتھ بہتر رابطے اور بروقت موسمیاتی معلومات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عالمی ادارۂ موسمیات کے مطابق ال نینو سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے پیشگی تیاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ادارہ اقوام متحدہ اور انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی معلومات کو بہتر انداز میں متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

اس کوشش کا مقصد یہ ہے کہ حکومتیں، امدادی ادارے اور متعلقہ شعبے موسمی خطرات کی پیشگی اطلاع ملنے پر بروقت اقدامات کر سکیں۔ اس میں سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے منصوبے، پانی کے وسائل کا بہتر انتظام، زراعت کے لیے موسمیاتی معلومات کی فراہمی اور شدید گرمی سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں بھی موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، محکمہ موسمیات، آب پاشی کے اداروں، صحت کے محکموں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ بروقت انتباہ کی صورت میں شہریوں اور دیہی آبادیوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے اور نقصان کم کرنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ موسمیات کی پیش گوئیاں دنیا بھر کے موسمیاتی مراکز کے اعداد و شمار اور مختلف موسمیاتی ماڈلز کے مشترکہ تجزیے پر مبنی ہیں۔ ادارے کے مطابق ال نینو کے جاری رہنے کے امکان پر ماہرین کے درمیان غیر معمولی اتفاق پایا جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات ہر علاقے میں مختلف ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ ال نینو کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ اس قدرتی موسمیاتی کیفیت کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بروقت معلومات، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر اقدامات کے ذریعے انسانی جانوں، روزگار اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔