پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا سب سے بڑا قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ملک میں قدرتی آفات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کا نظام غیر متوقع ہو چکا ہے اور فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ حکومت نے معیشت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے 2050 تک تقریباً 1.6 ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 26-2025 کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق باب میں فضائی آلودگی کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ آئی کیو ایئر کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا سب سے آلودہ ملک رہا۔ ملک میں پی ایم 2.5 ذرات کی اوسط مقدار عالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار سے تقریباً 13 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ فیصل آباد ملک کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار پایا جبکہ دنیا کے دس آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے چار شہر شامل رہے۔ کراچی میں نومبر کے دوران فضائی آلودگی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال تقریباً 22 ہزار اموات کا سبب بن رہی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ تاریخی اعتبار سے پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ صرف 0.4 فیصد ہے، اس کے باوجود اسے موسمیاتی بحران کا غیر معمولی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سروے کے مطابق گزشتہ پچاس برسوں میں پاکستان کا اوسط سالانہ درجہ حرارت تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جبکہ صدی کے اختتام تک اس میں مزید 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شمالی علاقوں میں یہ تبدیلی زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ 2025 کے دوران گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں درجہ حرارت گزشتہ 65 برسوں کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
11جون کو جاری شدہ قومی قتصادی سروے کے مطابق 2025 پاکستان کا گزشتہ 65 برسوں کا دوسرا گرم ترین سال رہا۔ ملک کا اوسط سالانہ درجہ حرارت 23.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.09 ڈگری زیادہ تھا۔ سندھ کا اوسط درجہ حرارت 27.67 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو معمول سے 1.09 ڈگری زیادہ تھا، جبکہ بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی معمول سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بارشوں کا نظام بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بارش کے دن کم ہو رہے ہیں لیکن جب بارش ہوتی ہے تو انتہائی شدید ہوتی ہے۔ مون سون کا رخ بھی جنوبی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد 2025 میں بھی ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
1980 کے بعد سے پاکستان میں قدرتی آفات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 1980 کی دہائی میں سالانہ صرف صفر سے چار قدرتی آفات ریکارڈ ہوتی تھیں، لیکن 2000 کے بعد ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 2023 گزشتہ 43 برسوں میں قدرتی آفات کے لحاظ سے بدترین سال ثابت ہوا، جب 13 بڑی آفات ریکارڈ کی گئیں۔ سروے میں شامل گراف بھی واضح کرتا ہے کہ قدرتی آفات اب معمول کے بجائے مستقل رجحان بن چکی ہیں۔
2025 کے سیلاب ملکی معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوئے۔ ان سیلابوں سے مجموعی طور پر 822 ارب روپے، یعنی تقریباً 2.9 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ ایک ہزار 39 افراد جان سے گئے، 64 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے اور 70 اضلاع میں تباہی پھیلی۔ زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کا نقصان پہنچا، جن میں 422.6 ارب روپے صرف فصلوں کی تباہی کی مد میں تھے۔ بنیادی ڈھانچے کو 307 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار مکانات متاثر ہوئے۔ پنجاب کو مجموعی نقصانات کا تقریباً 77 فیصد برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ان سیلابوں نے صرف انسانی جانوں اور املاک کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ملکی اقتصادی ترقی کو بھی متاثر کیا۔ حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد سے کم کرکے 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان مقرر کیا، جبکہ تقریباً دو لاکھ نئی بے روزگاریوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
اقتصادی سروے میں حکومت کے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت نے مون سون 2026 کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی ہے، جس میں سیلاب سے پہلے حفاظتی انتظامات، ابتدائی وارننگ سسٹم، پشتوں کی مضبوطی، شہری نکاسی آب کی بہتری، ڈیموں کی بحالی اور جدید موسمیاتی نگرانی کے نظام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 13 ہزار سے زیادہ گلیشیئر موجود ہیں، جنہیں ملک کی آبی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے گلیشیئر کے تحفظ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں ابتدائی وارننگ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔
اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تحت اپنی نئی قومی موسمیاتی حکمت عملی، نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (این ڈی سی 3.0) بھی جمع کرا دی ہے۔ اس کے تحت پاکستان نے 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے متوقع اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم اس میں سے صرف 17 فیصد کمی ملکی وسائل سے ممکن ہوگی جبکہ باقی 33 فیصد کے لیے عالمی مالی امداد، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا۔
رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ موسمیاتی اہداف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے۔ حکومت کے مطابق 2035 تک موسمیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 565.7 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جبکہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق موجودہ سرمایہ کاری اور ضرورت کے درمیان تقریباً 217.7 ارب ڈالر کا خلا موجود ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق حکومت نے پاکستان کلائمیٹ پروسپیریٹی پلان، گرین ٹیکسانومی، کاربن مارکیٹ، گرین یونیورسٹی، گرین اسٹارٹ اپ پروگرام اور موسمیاتی مالیاتی ڈیش بورڈ سمیت کئی نئے اقدامات شروع کیے ہیں۔ حکومت کا ہدف 2030 تک بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 60 فیصد، برقی گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد، زرعی پیداوار میں 30 فیصد اضافہ اور 2040 تک ملک کے 75 فیصد بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
اقتصادی سروے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، خوراک، پانی، صحت، روزگار اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا ایک ہمہ گیر بحران ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بروقت اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون نہ ملا تو مستقبل میں موسمیاتی نقصانات کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔


