Tag: موسمیاتی تبدیلی

  • پاکستان میں گرین بینکنگ کی حقیقت: کیا بینکوں کی سرمایہ کاری موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے؟

    پاکستان میں گرین بینکنگ کی حقیقت: کیا بینکوں کی سرمایہ کاری موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے؟

    موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی خدشہ نہیں رہی، بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔

    شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیئرز کا پگھلنا جیسے واقعات نہ صرف انسانی زندگیوں اور ماحول کو متاثر کر رہے ہیں، بلکہ معیشت، زراعت، صنعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر بھی براہِ راست اثرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

    2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی اور مالیاتی استحکام کا بھی سوال ہے۔ جب سیلاب سے زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں، کاروبار بند ہوتے ہیں، سڑکیں اور پل متاثر ہوتے ہیں اور صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات بالآخر بینکنگ نظام تک بھی پہنچتے ہیں۔

    قرض لینے والے کسان اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں، قرضوں کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے اور بینکوں کے مالیاتی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بینک اور مالیاتی ادارے موسمیاتی خطرات کو اپنے مالیاتی فیصلوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔

    پاکستان میں بھی گرین بینکنگ کا تصور اب صرف ماحول دوست منصوبوں کو قرض دینے تک محدود نہیں رہا، بلکہ مالیاتی نظام کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔

    گرین بینکنگ آخر ہے کیا؟

    گرین بینکنگ سے مراد ایسا مالیاتی نظام ہے، جس میں بینک اپنے وسائل ایسے منصوبوں کی جانب منتقل کریں جو ماحول کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی، وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ہوں۔

    قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، توانائی کی بچت، ماحول دوست عمارتیں، صاف ستھری ٹرانسپورٹ، پانی کا مؤثر استعمال، کچرے کا بہتر انتظام، دوبارہ استعمال ہونے والی اشیا کی تیاری، پائیدار زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے والے منصوبے ایسے شعبے ہیں، جنہیں ماحول دوست مالیاتی معاونت کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے۔

    لیکن گرین بینکنگ کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ بینکوں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ جن منصوبوں کو وہ قرض دے رہے ہیں، وہ مستقبل میں موسمیاتی خطرات کے باعث مالیاتی نقصان کا سبب تو نہیں بنیں گے۔

    یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ بینک ماحول دوست منصوبوں کو کتنا قرض دے رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے منصوبوں میں کتنی سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو مستقبل میں موسمیاتی یا ماحولیاتی خطرات کے باعث مالیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    2017 سے شروع ہونے والا سفر

    پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 اکتوبر 2017 کو گرین بینکنگ گائیڈ لائنز متعارف کرائیں۔ ان ہدایات میں تین بنیادی پہلوؤں پر توجہ دی گئی: ماحولیاتی خطرات کو بینکوں کے مالیاتی خطرات کے انتظام میں شامل کرنا، ماحول دوست کاروبار اور صاف توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کو فروغ دینا، اور خود بینکوں کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا۔

    یہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ماحول اور موسمیاتی خطرات کو باقاعدہ طور پر شامل کرنے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔

    اس کے بعد نومبر 2022 میں اسٹیٹ بینک نے ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری کیا، جس کے ذریعے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور موسمیاتی خطرات کی جانچ اور انتظام کے عملی طریقے فراہم کیے گئے۔

    لیکن 2025 میں اس حوالے سے پالیسی کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔

    2025 گرین بینکنگ کے لیے ایک اہم موڑ

    2025 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پائیدار مالیات اور موسمیاتی خطرات کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات نے گرین بینکنگ کو صرف ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت سے آگے بڑھا کر پورے مالیاتی نظام کے موسمیاتی خطرات کے انتظام سے جوڑ دیا۔

    دسمبر 2025 میں اسٹیٹ بینک نے پاکستان گرین ٹیکسانومی بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے متعارف کرائی۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری حقیقی معنوں میں ماحول دوست تصور کی جا سکتی ہیں۔

    اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر گرین منصوبوں کی واضح تعریف موجود نہ ہو تو کسی بھی منصوبے کو ماحول دوست قرار دینا آسان ہو جاتا ہے، جس سے گرین واشنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

    پاکستان گرین ٹیکسانومی کا مقصد مالیاتی اداروں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ ان کا سرمایہ کن سرگرمیوں میں جا رہا ہے اور کیا وہ واقعی پاکستان کے ماحولیاتی اور موسمیاتی اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    صرف گرین سرمایہ کاری نہیں، موسمیاتی مالیاتی خطرات بھی

    2025 میں ایک اور اہم قدم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار جاری کرنا تھا۔

    اس ضابطہ کار کے ذریعے بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور دیگر مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کو اپنی انتظامی نگرانی، کاروباری حکمت عملی اور مالیاتی خطرات کے انتظام میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالیاتی اداروں کو 30 جون 2029 تک اس ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، جبکہ انہیں ستمبر 2029 تک بورڈ سے منظور شدہ عملدرآمد کا منصوبہ اور اہداف بھی جمع کرانے ہوں گے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات دو اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ ایک براہِ راست موسمیاتی مالیاتی خطرہ، یعنی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی یا دیگر موسمیاتی واقعات کے باعث براہِ راست ہونے والا نقصان۔ دوسرا موسمیاتی منتقلی کا مالیاتی خطرہ، یعنی دنیا کی کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کے نتیجے میں بعض روایتی اور زیادہ کاربن والے کاروباروں کی قدر یا منافع میں کمی۔

    اگر کسی بینک نے کسی ایسے کاروبار کو بڑا قرض دیا ہو جو مستقبل میں سخت ماحولیاتی قوانین یا صاف توانائی کی جانب منتقلی کے باعث مشکلات کا شکار ہو جائے تو یہ بینک کے لیے بھی مالیاتی خطرہ بن سکتا ہے۔

    موسمیاتی دباؤ کی جانچ: بینک مستقبل کا خطرہ کیسے جانچیں گے؟

    2025 میں اسٹیٹ بینک نے موسمیاتی دباؤ کی جانچ کی رہنما ہدایات بھی جاری کیں۔ ان ہدایات کے تحت مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کی مختلف ممکنہ صورتِ حال کے ذریعے یہ جانچنے کی ضرورت ہوگی کہ شدید موسمیاتی واقعات یا کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی ان کے قرضوں اور مالیاتی حیثیت کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہے۔

    اب بینکوں کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہوگا کہ قرض لینے والا آج قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی یا ماحولیاتی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے تو اس کاروبار یا منصوبے کی مالیاتی حیثیت کیا ہوگی۔

    یعنی موسمیاتی تبدیلی اب بینک کے مالیاتی خطرات کے انتظام کا بھی حصہ بن رہی ہے۔

    کوئلہ یا قابلِ تجدید توانائی؟

    پاکستان کو ایک طرف توانائی کی شدید ضرورت ہے اور دوسری طرف اسے موسمیاتی بحران کا سامنا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بینکوں کے لیے یہ فیصلہ اہم بن جاتا ہے کہ ان کا سرمایہ کس شعبے میں جائے۔

    اگر بینک اپنا سرمایہ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں، توانائی کی بچت، برقی ٹرانسپورٹ، ماحول دوست عمارتوں، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں منتقل کریں تو اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، بلکہ نئی صنعتیں، روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

    لیکن یہاں ایک بنیادی سوال موجود ہے: پاکستان کے بینکوں کی مجموعی مالیاتی معاونت میں ماحول دوست منصوبوں کا حقیقی حصہ کتنا ہے؟ اس کے مقابلے میں ایسے شعبوں کو کتنی مالیاتی معاونت دی جا رہی ہے، جن کا کاربن اخراج زیادہ ہے؟

    یہ وہ اعداد و شمار ہیں، جنہیں عوام کے سامنے زیادہ شفاف انداز میں لانے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان گرین ٹیکسانومی: گرین واشنگ کے خلاف ایک قدم؟

    پاکستان گرین ٹیکسانومی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمی واقعی ماحول دوست ہے اور کون سی نہیں۔

    اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025 میں بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کو اپنی گرین بینکنگ پالیسیوں کی تشکیل اور تجدید کے لیے رہنما کے طور پر استعمال کریں۔

    اس سے مستقبل میں ماحول دوست مالیاتی معاونت کی رپورٹنگ زیادہ واضح ہو سکتی ہے، لیکن اصل امتحان اس کے عملی نفاذ کا ہوگا۔

    کیونکہ کسی منصوبے پر صرف ’’گرین‘‘ کا لیبل لگانا کافی نہیں۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس منصوبے سے واقعی کاربن کا اخراج کتنا کم ہوا، توانائی کی بچت کتنی ہوئی، پانی کے استعمال میں کیا بہتری آئی اور مقامی آبادی کو کیا فائدہ پہنچا۔

    ماہرین کی رائے کیا ہے؟

    سینئر صحافی اور ماحولیاتی ماہر امر گرڑو کے مطابق حقیقی اثرات کی پیمائش ضروری ہے، صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ بینک نے گرین منصوبوں کو کتنی رقم دی۔ اصل اثر جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سرمایہ کاری سے کاربن کا اخراج کتنا کم ہوا، کتنی توانائی اور پانی محفوظ ہوا اور ماحول پر کیا مثبت اثر پڑا۔

    ان کے مطابق پاکستان میں اس حوالے سے نگرانی اور شفاف رپورٹنگ کا نظام ابھی اتنا مضبوط نہیں کہ ہر گرین سرمایہ کاری کے حقیقی ماحولیاتی اثرات واضح طور پر سامنے آ سکیں۔

    امر گرڑو کا کہنا ہے کہ بینک قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر سولر فنانسنگ، کی جانب ضرور بڑھ رہے ہیں، لیکن مجموعی بینکنگ سرمایہ کاری میں گرین منصوبوں کا حصہ اب بھی محدود ہے۔ اصل چیلنج پالیسی بنانے سے زیادہ اس پر مؤثر عملدرآمد اور نگرانی کا ہے۔

    ان کے مطابق جب تک بینکوں کی سرمایہ کاری کو واضح موسمیاتی اہداف سے نہیں جوڑا جائے گا، گرین بینکنگ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گی۔

    اگر بینکوں کی سرمایہ کاری کو گرین بنانے کے لیے سخت ماحولیاتی معیار نافذ کیے جائیں تو اس کا پاکستان کی معیشت، صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال پر امر گرڑو کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں صنعت اور بینکوں کے لیے کچھ اضافی لاگت آ سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

    ان کے مطابق صاف ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور گرین صنعتوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماحولیاتی منتقلی مرحلہ وار ہونی چاہیے تاکہ صنعت اور سرمایہ کار اچانک مالیاتی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

    امر گرڑو کے مطابق پاکستان کے موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بینکوں کو اپنی سرمایہ کاری میں موسمیاتی موافقت اور ماحول دوست منصوبوں کو واضح ترجیح دینی چاہیے۔ تاہم کوئی ایک مقررہ فیصد اسی وقت مؤثر ہوگا، جب منصوبوں کی ضرورت اور ماحولیاتی اثرات کو بھی سامنے رکھا جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو واضح پالیسی اور مراعات، اسٹیٹ بینک کو مؤثر ضابطہ اور نگرانی، جبکہ بینکوں کو اپنی ماحولیاتی ذمہ داری خود قبول کرنی ہوگی۔

    اگر کسی منصوبے کو ماحول دوست ظاہر کیا جا رہا ہو، لیکن اس کے حقیقی ماحولیاتی اثرات آلودگی یا کاربن کے اخراج میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہوں تو یہ گرین واشنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے ہر گرین قرض یا سرمایہ کاری کے قابلِ پیمائش ماحولیاتی اہداف، آزاد آڈٹ، شفاف رپورٹنگ اور سرمایہ کاری کے بعد نگرانی ضروری ہے۔

    ان کے مطابق صرف کسی منصوبے کو ’’گرین‘‘ قرار دینا کافی نہیں، اس کا حقیقی ماحولیاتی نتیجہ بھی ثابت ہونا چاہیے۔

    ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز: گرین بینکنگ کے ساتھ کوئلے سے گریز کی پالیسی ضروری

    ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز کا کہنا ہے کہ آج کل ماحول کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہر شعبے کی ترجیح ہے، یہی وجہ ہے کہ اب صرف ترقی نہیں بلکہ پائیدار ترقی کی بات کی جاتی ہے۔

    ان کے مطابق پائیداری ہر کامیاب کاروبار کا ایک اہم جزو تصور کی جاتی ہے۔ پائیداری سے مراد قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر کسی معاشرے کی کسی خاص رفتار یا سطح پر برقرار رہنے کی صلاحیت ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ پائیداری کے تین بنیادی عناصر ماحول، سماج اور انتظامی نظم و نسق ہیں اور یہ تینوں عناصر اب ہر کاروبار کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

    شبینہ فراز کے مطابق 2017 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گرین بینکنگ گائیڈ لائنز جاری کی تھیں، جن کی بنیاد پر بینکوں نے اپنے نظام کو بہتر بنایا تاکہ اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بہتر طریقے سے عمل کیا جا سکے۔

    ان کے مطابق بینکوں کو فوری طور پر کوئلے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کوئلے کے کسی بھی کاروبار میں سرمایہ کاری خود بینکوں کے لیے خطرہ قرار دی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بینکوں کو کوئلے سے توانائی اور کوئلے کی کانوں کے منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے اور اپنا سرمایہ قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست شعبوں کی جانب منتقل کرنا چاہیے۔

    شبینہ فراز کے مطابق اگر بینک کوئلے پر مبنی سرمایہ کاری جاری رکھیں گے تو آلودہ توانائی کا کاروبار جاری رہے گا اور فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    وہ گرین ٹیکسانومی کی اہمیت پر بھی زور دیتی ہیں۔ ان کے مطابق گرین ٹیکسانومی کا مقصد مالیاتی وسائل کو ماحول دوست منصوبوں کی جانب منتقل کرنا ہے۔ دنیا بھر میں گرین ٹیکسانومی کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مختلف شعبوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق مرکزی بینک اپنے اختیار کے تحت مختلف شعبوں کو مراعات دے سکتا ہے، جس کی مثال قابلِ تجدید توانائی کی اسکیم میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں گرین ٹیکسانومی کی تشکیل ماحول دوست سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ماحولیاتی ماہر رفیع الحق کا کہنا ہے کہ اگر بینک ماحول دوست ہونے کا دعویٰ کریں، لیکن دوسری جانب ایسے منصوبوں یا کمپنیوں کو قرض دیں جو آلودگی اور کاربن کے اخراج میں اضافہ کریں تو اسے گرین واشنگ کہا جا سکتا ہے۔

    اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ بینک اپنی سرمایہ کاری کی مکمل معلومات فراہم کریں، ماحول دوست منصوبوں کی آزادانہ جانچ کی جائے اور گرین ٹیکسانومی کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔

    صرف پالیسیاں اور گائیڈ لائنز کافی نہیں، ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نگرانی اور ضابطہ کار کا کردار ادا کریں، جبکہ بینک عملی طور پر ان اصولوں پر عمل کریں۔

    شفافیت، آزادانہ جانچ، سخت نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی ہی گرین واشنگ کی روک تھام کا مؤثر طریقہ ہے۔

    ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دور رس معاشی خطرہ ہے

    ماہرینِ معیشت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ایک دور رس خطرہ ہے۔ قدرتی آفات کی اقتصادی لاگت پہلے ہی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ آئی ایم ایف نے ان آفات کی مجموعی معاشی لاگت کا تخمینہ 58 ارب ڈالر لگایا ہے۔

    مئی 2025 میں آئی ایم ایف نے لچک اور پائیداری کی سہولت کے تحت اضافی 1.4 ارب ڈالر کی منظوری دی تاکہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے خلاف اقتصادی لچک بڑھانے میں مدد مل سکے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی لچک دار معیشت کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ماحولیاتی اور سماجی خطرات کی نمائش کو کم کریں اور موسمیاتی آفات سے خود کو اور اپنے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے گرین طریقوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

    2017 کی گرین بینکنگ گائیڈ لائنز نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی آپریشنز اور مالیاتی سرگرمیوں سے متعلق ماحولیاتی اور سماجی خطرات کا انتظام کریں۔

    2022 کا ماحولیاتی اور سماجی رسک مینجمنٹ امپلیمینٹیشن مینوئل ماحولیاتی اور سماجی خطرے کی درجہ بندی کے لیے معیاری اوزار متعارف کرا کر، بینکوں کے اپنے ماحولیاتی اثرات کی نگرانی اور گرین شعبوں کو قرض دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے موسمیاتی لچک دار معیشت کی جانب منتقلی کی حمایت کرتا ہے۔

    2025 کی گرین ٹیکسانومی معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے، جو گرین فنانس کے لیے اہل ہو سکتی ہیں۔

    گرین فنانس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ رپورٹس اور عوامی انکشافات مالیاتی شعبے کو سرسبز بنانے کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    مقامی طور پر کام کرنے والے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کے پاس اب نامزد گرین بینکنگ افسر موجود ہے۔ 79 فیصد بینکوں نے ماحولیاتی رسک مینجمنٹ، گرین کاروبار کی سہولت اور اپنے کاربن کے اخراج میں کمی سے متعلق گرین بینکنگ پالیسیوں کی منظوری دی ہے، جبکہ 69 فیصد نے اپنے کریڈٹ رسک اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں ماحولیاتی خطرے کو ضم کیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی قابلِ تجدید توانائی ری فنانس اسکیم، جو 2016 میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی تھی، گرین فنانس کی ایک اہم مثال ہے۔ اس سہولت کے تحت 2024 تک 94.7 ارب روپے تقسیم کیے گئے، 4,500 سے زائد قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات کو سہارا دیا گیا اور 2,061 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی۔

    اسٹیٹ بینک اب گرین بانڈز اور صکوک کو بھی فروغ دے رہا ہے، جبکہ گرین ٹیکسانومی سے منسلک اہلیت کے معیار مالیاتی شعبے کو مزید گرین بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

    پاکستان کے پہلے گرین صکوک کا اجرا، جس کی مالیت 30 ارب روپے ہے، گرین فنانس اور پائیدار سرمایہ کاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

    مائیکرو فنانس بینکوں نے الیکٹرک بائیکس اور آب و ہوا کے لیے لچک دار زرعی ٹیکنالوجیز کے لیے مائیکرو لون متعارف کرائے ہیں۔ کئی مالیاتی اداروں اور انشورنس کمپنیوں نے فصلوں کی انشورنس کی ایسی مصنوعات بھی متعارف کرائی ہیں، جو قدرتی آفات سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

    عام آدمی کو کیا ملا؟

    یہاں گرین بینکنگ کا سب سے اہم سوال سامنے آتا ہے۔

    اگر کوئی بینک کسی بڑی کمپنی کو شمسی توانائی کے منصوبے کے لیے کروڑوں یا اربوں روپے کا قرض فراہم کرتا ہے تو اسے گرین فنانس کہا جا سکتا ہے، لیکن کیا ایک چھوٹا کسان بھی آسان شرائط پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے لیے قرض حاصل کر سکتا ہے؟

    کیا چھوٹا کاروباری شخص اپنی دکان یا ورکشاپ کو توانائی کے مؤثر نظام پر منتقل کرنے کے لیے آسان مالیاتی معاونت حاصل کر سکتا ہے؟

    کیا کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شمسی نظام، توانائی کی بچت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں تک بینکنگ سہولت موجود ہے؟

    کیا موسمیاتی آفات سے متاثر کسانوں اور کمزور آبادی کے لیے ایسا مالیاتی نظام موجود ہے، جو انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکے؟

    اگر گرین فنانس کا بڑا حصہ صرف بڑے کاروباری منصوبوں تک محدود رہے تو اس کے ماحولیاتی فوائد تو ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا سماجی اثر محدود رہ جائے گا۔

    کسان اور موسمیاتی مالیاتی معاونت

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا بوجھ زراعت پر پڑتا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت اور فصلوں کے بدلتے موسموں کے باعث کسانوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔

    ایسی صورتِ حال میں گرین بینکنگ کو زرعی مالیاتی معاونت سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

    کیا بینک ایسے کسانوں کو قرض دے رہے ہیں، جو ڈرپ اریگیشن، شمسی ٹیوب ویل، پانی کی بچت، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی فصلوں اور توانائی کے مؤثر آلات کی جانب منتقل ہونا چاہتے ہیں؟

    اگر بینکوں کی مالیاتی معاونت موسمیاتی موافقت میں مدد کرے تو یہ نہ صرف کسانوں بلکہ بینکوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے، کیونکہ زیادہ موسمیاتی لچک رکھنے والا کاروبار مستقبل میں قرض واپس کرنے کی بہتر صلاحیت رکھ سکتا ہے۔

    سندھ میں گرین فنانس اور کاربن مارکیٹ کے مواقع

    موسمیاتی مالیات کا معاملہ صرف بینکوں تک محدود نہیں، بلکہ صوبائی سطح پر بھی اس کے وسیع معاشی امکانات موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے ماحولیاتی مشیر دوست محمد راہمون نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی ترقی، غذائی تحفظ، آبی وسائل اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک بنیادی چیلنج ہے۔

    ان کے مطابق سندھ میں ماحول دوست 13 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں مینگروز، ونڈ پاور، بائیو گیس، صاف ایندھن، محفوظ پانی اور الیکٹرک گاڑیاں شامل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی منصوبوں کے ذریعے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی اور سندھ کے لیے عالمی کاربن مارکیٹ سے سرمایہ کاری اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    دوست محمد راہمون کے مطابق سندھ میں ایسے کئی منصوبے موجود ہیں، جنہیں عالمی کاربن مارکیٹ سے جوڑ کر نہ صرف ماحول کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ روزگار، صنعتی ترقی اور پائیدار معیشت کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

    سندھ حکومت: ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی

    سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی فیصل عقیلی نے کہا کہ پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشنز، این ڈی سی 3.0، کے اہداف مقرر کیے ہیں اور سندھ حکومت ان اہداف پر مؤثر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

    ان کے مطابق 2030 تک کاربن کے اخراج میں 50 فیصد کمی کا عالمی وعدہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنا ہے، جو ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی موسمیاتی اور کاربن فنڈ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

    فیصل عقیلی کے مطابق ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو فضائی آلودگی اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لاتی ہے۔

    ان کے مطابق ماحولیاتی منصوبوں کو کاربن کریڈٹ ملتے ہیں، جن کے ذریعے عالمی اداروں اور سرمایہ کاروں سے مالیاتی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔ کاربن مارکیٹ کو ماحول کے تحفظ، معاشی ترقی، روزگار اور نئی سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور عالمی کاربن مارکیٹ میں شمولیت ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گرین منتقلی کے عمل میں آگے بڑھایا جائے۔

    کاربن فنانس: پاکستان کے لیے نیا معاشی موقع؟

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج اینڈ کاربن فنانس سید امداد شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کاربن ٹریڈنگ منظم ایس او پیز کے تحت ہوتی ہے اور نیشنل رجسٹری کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں کاربن کریڈٹس فروخت کیے جاتے ہیں۔

    ان کے مطابق صنعتی ترقی کے ساتھ ماحول کو صاف رکھنے کے لیے ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کاربن کریڈٹس کے ذریعے اس کی تلافی ممکن ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کاربن فضا میں خارج کرتے ہیں تو ہمیں اسے کم بھی کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک یا منصوبہ مقررہ مقدار سے زیادہ اخراج میں کمی حاصل کرتا ہے تو دنیا اس اضافی کمی کو خرید سکتی ہے، جس سے معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    یہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ موسمیاتی اقدامات کو صرف اخراجات کے بجائے مستقبل کی سرمایہ کاری اور آمدنی کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    پانی، توانائی اور خوراک کا باہمی تعلق

    اسلامی ترقیاتی بینک کے ماہرین نے بتایا کہ پانی، توانائی اور خوراک کے وسائل کا بہتر اور متوازن استعمال نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ اس سے سندھ میں عالمی سرمایہ کاری، کلائمیٹ فنانس اور کاربن فنانس کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ان کے مطابق تمام ادارے باہمی تعاون سے ایسے عملی اور قابلِ عمل منصوبے تیار کریں گے، جن سے سندھ میں ماحول کا تحفظ، روزگار کے نئے مواقع، سرمایہ کاری میں اضافہ اور صوبے کی پائیدار ترقی کو فروغ مل سکے۔

    بینکوں کے لیے موسمیاتی خطرہ بھی ایک مالیاتی خطرہ ہے

    موسمیاتی تبدیلی بینکوں کے لیے صرف اخلاقی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ براہِ راست مالیاتی خطرہ بھی ہے۔

    سیلاب یا خشک سالی کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہو تو کسان کے لیے قرض واپس کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ شدید گرمی یا سیلاب سے فیکٹری متاثر ہو تو کاروباری قرض خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    اسی طرح اگر دنیا تیزی سے کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوتی ہے تو کوئلے اور زیادہ کاربن خارج کرنے والے بعض شعبوں میں کی گئی سرمایہ کاری مستقبل میں مالیاتی خطرہ بن سکتی ہے۔

    2025 کی موسمیاتی دباؤ کی جانچ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار اسی سوچ کو مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں ہیں۔

    پالیسی سے عملی اقدام تک

    پاکستان میں اب گرین بینکنگ کے لیے پالیسی کا نظام پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے۔

    2017 میں گرین بینکنگ گائیڈ لائنز آئیں، 2022 میں ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری ہوا، جبکہ 2025 میں پاکستان گرین ٹیکسانومی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار اور موسمیاتی دباؤ کی جانچ کی رہنما ہدایات سامنے آئیں۔

    یعنی پالیسی کا سفر اب صرف ’’گرین منصوبوں کو قرض دینے‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’پورے مالیاتی نظام کو موسمیاتی خطرات کے لیے تیار کرنے‘‘ تک پہنچ چکا ہے۔

    لیکن اصل امتحان اب عملدرآمد کا ہے۔

    بینکوں کے لیے صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ان کی پالیسی ماحول دوست ہے۔ ضروری ہے کہ وہ واضح کریں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گرین منصوبوں کو کتنا قرض دیا گیا، کن شعبوں کو دیا گیا، کتنے چھوٹے کاروبار اور کسان اس سے فائدہ اٹھا سکے اور ان سرمایہ کاریوں سے کاربن کے اخراج، توانائی یا پانی کے استعمال میں کیا تبدیلی آئی۔

    اصل سوال اب بھی باقی ہے

    پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ حکومت اکیلے یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ نجی شعبے، بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو اس عمل میں شریک ہونا ہوگا۔

    لیکن گرین بینکنگ کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے بینک ماحول دوست پالیسی بنا چکے ہیں یا کتنی رپورٹس جاری ہوئی ہیں۔

    اصل سوال یہ ہے کہ بینکوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟

    کیا یہ کوئلے اور زیادہ کاربن والے منصوبوں کو مضبوط کر رہا ہے یا قابلِ تجدید توانائی کو؟

    کیا گرین فنانس بڑے سرمایہ کاروں تک محدود ہے یا کسان، چھوٹے کاروبار اور موسمیاتی متاثرہ آبادی بھی اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے؟

    کیا بینک اپنے قرضوں کے مجموعی حجم میں براہِ راست موسمیاتی مالیاتی خطرے اور موسمیاتی منتقلی کے مالیاتی خطرے کو واقعی شامل کر رہے ہیں؟

    کیا گرین ٹیکسانومی کے نفاذ کے بعد گرین واشنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، آزادانہ جانچ اور شفاف رپورٹنگ موجود ہوگی؟

    اور سب سے بڑھ کر، کیا پاکستان میں گرین بینکنگ واقعی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی قدم بن رہی ہے یا اب بھی پالیسی، رپورٹس اور کاغذی وعدوں تک محدود ہے؟

    2025 کے پالیسی اقدامات نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو ایک واضح سمت ضرور دی ہے، لیکن پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ اب بھی باقی ہے۔

    پاکستان کے لیے اب سوال یہ نہیں کہ گرین بینکنگ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے بعد بینکوں کی سرمایہ کاری کے رخ میں حقیقتاً کتنی تبدیلی آئی ہے؟

    اگر بینکوں کی سرمایہ کاری قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی موافقت، پائیدار زراعت، صاف ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی ماڈل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    لیکن اگر گرین فنانس صرف چند بڑے منصوبوں، رپورٹس اور ’’گرین‘‘ کے لیبل تک محدود رہا تو اس کے حقیقی موسمیاتی اور سماجی اثرات محدود رہیں گے۔

    موسمیاتی بحران ہر سال زیادہ شدید ہو رہا ہے۔ مالیاتی نظام جتنی جلد ماحول دوست سرمایہ کاری، موسمیاتی موافقت اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوگا، اتنا ہی پاکستان کے لیے مستقبل کے موسمیاتی اور معاشی نقصانات کو کم کرنا ممکن ہوگا۔

    گرین بینکنگ دراصل صرف بینکوں کی پالیسی نہیں، پاکستان کی مستقبل کی معیشت کا سوال ہے۔

  • اقتصادی سروے 26-2025: موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ سنگین، پاکستان میں قدرتی آفات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ

    اقتصادی سروے 26-2025: موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ سنگین، پاکستان میں قدرتی آفات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا سب سے بڑا قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ملک میں قدرتی آفات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کا نظام غیر متوقع ہو چکا ہے اور فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ حکومت نے معیشت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے 2050 تک تقریباً 1.6 ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ظاہر کی ہے۔

    پاکستان اکنامک سروے 26-2025 کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق باب میں فضائی آلودگی کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ آئی کیو ایئر کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا سب سے آلودہ ملک رہا۔ ملک میں پی ایم 2.5 ذرات کی اوسط مقدار عالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار سے تقریباً 13 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ فیصل آباد ملک کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار پایا جبکہ دنیا کے دس آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے چار شہر شامل رہے۔ کراچی میں نومبر کے دوران فضائی آلودگی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال تقریباً 22 ہزار اموات کا سبب بن رہی ہے۔

    حکومت کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ تاریخی اعتبار سے پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ صرف 0.4 فیصد ہے، اس کے باوجود اسے موسمیاتی بحران کا غیر معمولی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    سروے کے مطابق گزشتہ پچاس برسوں میں پاکستان کا اوسط سالانہ درجہ حرارت تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جبکہ صدی کے اختتام تک اس میں مزید 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شمالی علاقوں میں یہ تبدیلی زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ 2025 کے دوران گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں درجہ حرارت گزشتہ 65 برسوں کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    11جون کو جاری شدہ قومی قتصادی سروے کے مطابق 2025 پاکستان کا گزشتہ 65 برسوں کا دوسرا گرم ترین سال رہا۔ ملک کا اوسط سالانہ درجہ حرارت 23.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.09 ڈگری زیادہ تھا۔ سندھ کا اوسط درجہ حرارت 27.67 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو معمول سے 1.09 ڈگری زیادہ تھا، جبکہ بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی معمول سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بارشوں کا نظام بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بارش کے دن کم ہو رہے ہیں لیکن جب بارش ہوتی ہے تو انتہائی شدید ہوتی ہے۔ مون سون کا رخ بھی جنوبی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد 2025 میں بھی ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

    1980 کے بعد سے پاکستان میں قدرتی آفات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 1980 کی دہائی میں سالانہ صرف صفر سے چار قدرتی آفات ریکارڈ ہوتی تھیں، لیکن 2000 کے بعد ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 2023 گزشتہ 43 برسوں میں قدرتی آفات کے لحاظ سے بدترین سال ثابت ہوا، جب 13 بڑی آفات ریکارڈ کی گئیں۔ سروے میں شامل گراف بھی واضح کرتا ہے کہ قدرتی آفات اب معمول کے بجائے مستقل رجحان بن چکی ہیں۔

    2025 کے سیلاب ملکی معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوئے۔ ان سیلابوں سے مجموعی طور پر 822 ارب روپے، یعنی تقریباً 2.9 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ ایک ہزار 39 افراد جان سے گئے، 64 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے اور 70 اضلاع میں تباہی پھیلی۔ زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کا نقصان پہنچا، جن میں 422.6 ارب روپے صرف فصلوں کی تباہی کی مد میں تھے۔ بنیادی ڈھانچے کو 307 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار مکانات متاثر ہوئے۔ پنجاب کو مجموعی نقصانات کا تقریباً 77 فیصد برداشت کرنا پڑا۔

    رپورٹ کے مطابق ان سیلابوں نے صرف انسانی جانوں اور املاک کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ملکی اقتصادی ترقی کو بھی متاثر کیا۔ حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد سے کم کرکے 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان مقرر کیا، جبکہ تقریباً دو لاکھ نئی بے روزگاریوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

    اقتصادی سروے میں حکومت کے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت نے مون سون 2026 کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی ہے، جس میں سیلاب سے پہلے حفاظتی انتظامات، ابتدائی وارننگ سسٹم، پشتوں کی مضبوطی، شہری نکاسی آب کی بہتری، ڈیموں کی بحالی اور جدید موسمیاتی نگرانی کے نظام شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 13 ہزار سے زیادہ گلیشیئر موجود ہیں، جنہیں ملک کی آبی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے گلیشیئر کے تحفظ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں ابتدائی وارننگ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔

    اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تحت اپنی نئی قومی موسمیاتی حکمت عملی، نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (این ڈی سی 3.0) بھی جمع کرا دی ہے۔ اس کے تحت پاکستان نے 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے متوقع اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم اس میں سے صرف 17 فیصد کمی ملکی وسائل سے ممکن ہوگی جبکہ باقی 33 فیصد کے لیے عالمی مالی امداد، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا۔

    رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ موسمیاتی اہداف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے۔ حکومت کے مطابق 2035 تک موسمیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 565.7 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جبکہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق موجودہ سرمایہ کاری اور ضرورت کے درمیان تقریباً 217.7 ارب ڈالر کا خلا موجود ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق حکومت نے پاکستان کلائمیٹ پروسپیریٹی پلان، گرین ٹیکسانومی، کاربن مارکیٹ، گرین یونیورسٹی، گرین اسٹارٹ اپ پروگرام اور موسمیاتی مالیاتی ڈیش بورڈ سمیت کئی نئے اقدامات شروع کیے ہیں۔ حکومت کا ہدف 2030 تک بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 60 فیصد، برقی گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد، زرعی پیداوار میں 30 فیصد اضافہ اور 2040 تک ملک کے 75 فیصد بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

    اقتصادی سروے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، خوراک، پانی، صحت، روزگار اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا ایک ہمہ گیر بحران ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بروقت اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون نہ ملا تو مستقبل میں موسمیاتی نقصانات کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

  • پانی کا عالمی دن:  گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن: گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن، 22 مارچ 2026، ہمارے لیے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ اس بار موضوع ‘پانی اور جنسی مساوات’ ہے، مگر پاکستان کے تناظر میں یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا پانی واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ بھی طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے تابع ہو چکا ہے؟

    ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہ تر گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسمت کو بھی اب خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔

    پانی کی منڈی محض شرمندگی نہیں، ایک اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ شاید ہم دنیا کے ان چند معاشروں میں شامل ہیں جہاں سرکاری ناکامی کو اس جملے سے جائز ٹھہرایا جاتا ہے کہ ‘ہم تو خود بھی ٹینکر کا پانی استعمال کرتے ہیں’۔ گویا پیغام واضح ہے، واٹر ٹینکر اب مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا معمول ہیں۔

    جب پانی خریدنا روزمرہ کا حصہ بن جائے، جب مفت ٹینکر کے لیے سفارش ڈھونڈی جائے، جب گھروں کے باہر کھڑے ٹینکر حیثیت کی علامت بن جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں، اجتماعی بے حسی کا بھی ہے۔ ہم نے پانی کو حق نہیں، سہولت بنا دیا ہے، اور وہ سہولت بھی صرف اسی کے لیے ہے جس کے پاس پیسہ یا رسائی ہو۔

    اعداد و شمار خاموش ہیں مگر خطرناک۔ چند دہائیوں پہلے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر کے قریب تھی، آج یہ کم ہو کر ایک ہزار کے آس پاس رہ گئی ہے۔ یہ محض کمی نہیں، ایک واضح انتباہ ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہماری زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے، اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف ہم زیر زمین پانی کو اس رفتار سے نکال رہے ہیں جیسے ہر دن آخری ہو۔ دنیا بھر میں اربوں لوگ ایسے ممالک میں رہ رہے ہیں جہاں پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عالمی بحران سے کچھ سیکھا، یا ہم بھی خاموشی سے اسی تباہی کو معمول بنا چکے ہیں؟

    جب پانی کی قلت کی بات ہوتی ہے تو اکثر ڈیم، نہریں اور بارشیں زیر بحث آتی ہیں، مگر ایک حقیقت مسلسل نظر انداز ہوتی ہے۔ دیہی پاکستان میں آج بھی پانی لانا زیادہ تر خواتین اور بچیوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ میلوں پیدل چلتی ہیں، صرف اس لیے کہ گھر میں پانی ہو۔

    لیکن جب پانی کی پالیسیاں بنتی ہیں تو وہ کمرے ان کے بغیر بھرے ہوتے ہیں۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جو مسئلے کو بھگتتے نہیں، صرف اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔

    پاکستان ایک عجیب تضاد کی تصویر ہے۔ ایک طرف سیلاب اربوں گیلن پانی سمندر میں بہا دیتے ہیں، دوسری طرف شہر پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔

    کراچی جیسے شہر میں پانی کی لائنیں صرف پانی نہیں، طاقت کی تقسیم بھی ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ کہیں پانی چوری ہوتا ہے، کہیں بیچا جاتا ہے، کہیں روکا جاتا ہے، اور کہیں لوگ قطاروں میں کھڑے رہ کر صرف اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کی رٹ کمزور پڑتی ہے اور غیر رسمی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔

    ہم اکثر پانی کے مسئلے کو سرحدی تنازعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے دریا پہلے خود کمزور کیے ہیں۔ جب ملک کے اندر ہی پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہ ہو، جب صوبوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو، جب ڈیٹا بھی متنازع ہو جائے، تو بیرونی خطرات پر شور مچانا آسان ہو جاتا ہے، حل تلاش کرنا نہیں۔

    پانی پر سیاست کرنا آسان ہے، پانی کو سنبھالنا مشکل۔

    وجوہات سب کے سامنے ہیں مگر سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آبادی بڑھ رہی ہے مگر ذخائر نہیں، موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے نظام کو بدل رہی ہے مگر ہماری منصوبہ بندی وہی پرانی ہے۔ آبی نظم و نسق بکھرا ہوا ہے، ادارے مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں، اور ہم سب مل کر پانی کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

    یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی۔ اگر ایک قوم پانی کے مسئلے کا حل ٹینکر خریدنے میں دیکھے، اگر شہری اپنی بقا کو نجی انتظامات سے جوڑ لیں، اگر ریاست کی ذمہ داری کو ذاتی سہولت سے بدل دیا جائے، تو پھر کسی پالیسی، کسی ڈیم یا کسی منصوبے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ یہ صرف ناکامی نہیں، ایک خطرناک معمول بن چکا ہے۔

    اب بھی وقت ہے، مگر زیادہ نہیں۔ حل موجود ہیں مگر ارادہ کمزور ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زراعت کو جدید بنایا جا سکتا ہے، شہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

    مگر سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اور حق کو بازار کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ہم کب تک پانی کو قسمت پر چھوڑے رکھیں گے؟ کب تک ٹینکر ہمارے نظام کا متبادل رہیں گے؟ کب تک ایک بچی پانی کے لیے اسکول چھوڑتی رہے گی؟ اور کب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ مسئلہ کسی اور کا ہے؟

    اگر پانی ختم ہو گیا تو باقی سب بحثیں بے معنی ہو جائیں گی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سچ بولیں۔ پانی کا بحران صرف وسائل کا نہیں، ضمیر کا بھی ہے۔