عالمی بینک نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افغانستان پر مشتمل خطے میں پاکستان انتہائی غربت سے متاثرہ ممالک میں نمایاں ہے، جہاں خطے کے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً نصف آباد ہیں۔ یہ خطہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح کورونا وبا سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی بینک نے یہ بات اپنی تازہ معاشی رپورٹ میں کہی ہے، جو آئندہ ہفتے ہونے والے عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں سے قبل جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے نے پورے خطے کے مجموعی غربت کے اعداد و شمار پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ افغانستان، شام اور یمن میں مجموعی طور پر خطے کے مزید 47 فیصد انتہائی غریب افراد آباد ہیں۔ اس طرح پاکستان خطے میں انتہائی غربت کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق حالیہ اندازوں میں پاکستان، جبوتی، شام اور یمن میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدن والے افراد کا تناسب 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہو چکا ہے۔ 2024 میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افغانستان پر مشتمل خطے کی 14.3 فیصد آبادی روزانہ تین ڈالر سے کم آمدن پر گزارا کر رہی تھی، جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح 10.4 فیصد تھی۔
اسی طرح خطے کی 26.9 فیصد آبادی روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزار رہی تھی۔ عالمی سطح پر اس آمدن سے کم پر گزارا کرنے والوں کی شرح 18.9 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں غربت کا مسئلہ عالمی اوسط کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے۔
عالمی بینک کے مطابق خطے میں غربت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں غربت کا بڑھنا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدن کے معیار پر غربت کی شرح مالی سال 2019-2018 سے مالی سال 2025-2024 کے دوران 6.4 فیصد پوائنٹس بڑھی۔ اسی عرصے میں روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدن والے افراد کی شرح میں بھی 3.2 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت بڑھنے کے پیچھے کئی بڑے معاشی اور قدرتی بحران کارفرما رہے۔ کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، شدید مہنگائی، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور مسلسل معاشی مشکلات نے عام گھرانوں کی حقیقی آمدن کو متاثر کیا۔ اس کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی محدود ہوئے، جس کے نتیجے میں لاکھوں خاندانوں کی معاشی حالت خراب ہوئی۔
عالمی بینک نے پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال کے حوالے سے کچھ مثبت امکانات بھی ظاہر کیے ہیں۔ رپورٹ میں رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جو مالی سال 2025 میں 3.2 فیصد تھی۔ مالی سال 2027 میں شرح نمو 3.8 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق خدمات، صنعت اور مویشیوں کے شعبے نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تاہم درآمدی اشیا، ایندھن اور نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی لاگت مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری ان دباؤ کے اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان کے جاری کھاتے اور مالی خسارے کے بارے میں بھی اندازے پیش کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 0.1 فیصد کے برابر رہنے کا امکان ہے، جو مالی سال 2027 میں بڑھ کر 0.8 فیصد ہو سکتا ہے۔ مالی سال 2026 میں مالی خسارہ 2.6 فیصد جبکہ مالی سال 2027 میں 3.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔
رپورٹ میں خوراک کے عدم تحفظ کو بھی پاکستان کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق غزہ، مغربی کنارے اور یمن میں خوراک کا بحران انتہائی سنگین ہے، جبکہ افغانستان، جبوتی، لبنان اور پاکستان میں بھی خوراک کے حصول کے حوالے سے شدید دباؤ موجود ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے آخر میں معمول سے زیادہ طاقتور ال نینو موسمی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑے گا۔ پاکستان مون سون کے نظام میں تبدیلیوں کے باعث اس خطرے سے متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں خطے کو درپیش ایک اور بڑے خطرے کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے معاشی اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں تیل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی، مالی گنجائش میں کمی، خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں کمی اور قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک ان اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے تنازع سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں 2026 کے اختتام تک برقرار رہیں اور صورتحال مزید خراب نہ ہو تو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افغانستان پر مشتمل خطے کی معیشت 2026 میں 2.1 فیصد سکڑ سکتی ہے۔ اس خطے نے 2025 میں 3.3 فیصد اقتصادی ترقی کی تھی۔
رپورٹ کے اعداد و شمار پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ایک طرف معاشی استحکام اور شرح نمو میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف غربت میں اضافہ عام لوگوں کی معاشی مشکلات کو نمایاں کرتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع، قدرتی آفات اور معاشی بحرانوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

