کراچی کے کورنگی میں قائم حکومت سندھ کے لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن میں ریڈ سندھی گائے کے لیے سبز چارے کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے تقریباً 40 ایکڑ رقبے پر ہائی ییلڈ کنگ گراس کاشت کی گئی ہے۔
لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن سندھ میں ریڈ سندھی نسل کی گائے کے تحفظ، افزائش اور نگہداشت کے لیے اہم سرکاری مراکز میں شامل ہے۔ کورنگی میں قائم یہ مرکز اینیمل سائنس کمپلیکس کے وسیع رقبے میں واقع ہے، جہاں مویشیوں کی نگہداشت اور لائیو اسٹاک سے متعلق مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔
اسٹیشن کے انچارج ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق کنگ گراس میں پروٹین کی مقدار ساڑھے فیصد ہے، جبکہ اس کی اونچائی 12 سے 14 فٹ تک پہنچ سکتی ہے اور یہ تقریباً ڈھائی سے تین ماہ میں کٹائی کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 40 ایکڑ رقبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہر چار ایکڑ پر 15 روز کے وقفے سے کنگ گراس کاشت کی گئی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد مختلف اوقات میں چارہ تیار کرنا اور جانوروں کے لیے سبز چارے کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنا ہے۔
ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق کنگ گراس سے سال میں چار سے پانچ مرتبہ کٹائی حاصل کی جاسکتی ہے، جبکہ ایک مرتبہ کاشت کرنے کے بعد یہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کی عمر 20 سال سے زائد ہوسکتی ہے اور مسلسل دوبارہ کاشت کیے بغیر اسے کاٹا جاسکتا ہے۔
لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن میں موجود ریڈ سندھی گایوں کے لیے بھی کنگ گراس استعمال کی جارہی ہے۔ فارم میں سبز چارے کی اپنی پیداوار مویشیوں کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہے۔
اس منصوبے کا مقصد صرف اسٹیشن میں موجود مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کرنا نہیں بلکہ کنگ گراس کی افزائش کو عام کاشت کاروں تک منتقل کرنا بھی ہے۔ اسٹیشن انتظامیہ کے مطابق ضرورت مند افراد کو آزمائشی بنیاد پر ایک ایکڑ رقبے کے لیے کنگ گراس کی قلمیں مفت فراہم کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی کنگ گراس کی افزائش کو فروغ دیا جارہا ہے اور اب تک صوبے میں 200 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر اس کی کاشت کے لیے پودا یا قلم فراہم کی جاچکی ہے۔
کورنگی کے لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن میں 40 ایکڑ پر کنگ گراس کی کاشت کو سبز چارے کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریڈ سندھی نسل کے مویشیوں کے لیے خوراک کی دستیابی بہتر بنانے اور اس چارہ فصل کو دیگر علاقوں کے کاشت کاروں تک منتقل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

