حبیب جالب صرف شاعر نہیں تھے۔ وہ پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے ایسے گواہ بھی تھے جنہوں نے اپنے عہد کے حکمرانوں، آمریت، سیاسی جبر اور معاشرتی ناانصافیوں کو شاعری کا موضوع بنایا اور پھر اسی شاعری کو عوام کے درمیان لے گئے۔
ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928 کو برطانوی ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے گاؤں میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور کراچی ان کی ابتدائی عملی اور ادبی زندگی کا اہم شہر بنا۔ کراچی میں انہوں نے روزنامہ امروز میں پروف ریڈر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے کراچی میں روزنامہ جنگ اور ڈان کے ساتھ بھی پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کیا۔
جالب کی رسمی تعلیم کا سفر بھی مختلف مرحلوں سے گزرا۔ انہوں نے دہلی کے اینگلو عربک ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جبکہ پاکستان آنے کے بعد کراچی کے جیکب لائنز کے سرکاری اسکول میں بھی زیر تعلیم رہے۔ ان کی اعلیٰ تعلیم مکمل نہ ہو سکی، لیکن کم عمری ہی میں شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
وہ تقریباً 15 برس کی عمر میں شاعری کرنے لگے اور ابتدا میں معروف شاعر جگر مراد آبادی سے متاثر ہو کر روایتی غزلیں لکھتے تھے۔
یہ حبیب جالب کی زندگی کا وہ پہلو ہے جسے ان کی بعد کی مزاحمتی شاعری نے تقریباً پس منظر میں دھکیل دیا۔
وہ ابتدا ہی سے صرف سیاسی شاعر نہیں تھے۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ ‘برگِ آوارہ’ 1957 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں زیادہ تر غزلیں شامل تھیں اور بعد کے جالب کے مقابلے میں اس شاعری میں احتجاجی رنگ نمایاں نہیں تھا۔ یعنی جس شخص کو بعد میں پاکستان کا مزاحمتی اور عوامی شاعر کہا گیا، اس کے ادبی سفر کی ابتدا محبت، حسن، تنہائی اور رومان کے موضوعات سے بھی ہوئی تھی۔
لیکن پاکستان کے سیاسی حالات نے ان کی شاعری کا رخ بدل دیا۔
جالب ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور مزدوروں، کسانوں اور عام لوگوں کے مسائل کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ سندھ میں حیدر بخش جتوئی کی ہاری تحریک سے ان کی وابستگی بھی سامنے آتی ہے۔ 1954 میں ہاری تحریک کی سرگرمیوں کے سلسلے میں کراچی میں ان کی گرفتاری ہوئی۔ یہی وہ دور تھا جب شاعری ان کے لیے محض ادبی اظہار نہیں رہی بلکہ سیاسی اور سماجی جدوجہد کا ذریعہ بنتی گئی۔
پھر آیا فوجی آمر ایوب خان کا دور۔
1962 میں ایوب خان کے آئین کے خلاف حبیب جالب نے اپنی سب سے مشہور نظم ‘دستور’ لکھی۔ اس نظم کا مرکزی احتجاج اس نظام کے خلاف تھا جسے وہ عوام کی حقیقی نمائندگی سے محروم سمجھتے تھے۔ نظم کی مقبولیت ایسی ہوئی کہ جالب کا نام ‘دستور’ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔ بعد میں انہوں نے فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی بھرپور حصہ لیا۔
جالب کی مزاحمتی شاعری صرف فوجی آمر ایوب خان تک محدود نہیں رہی۔
یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان کے بحران اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف بھی ان کی آواز بلند ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے حکومت پر تنقید کی اور ‘لاڑکانہ چلو ورنہ تھانے چلو’ جیسی سیاسی نظموں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ان کی شاعری نے ایک بار پھر آمریت کو براہ راست چیلنج کیا۔ ‘ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا’ اسی دور کی سب سے معروف مزاحمتی نظموں میں شمار ہوتی ہے۔
اسی مسلسل مزاحمت کی قیمت بھی جالب کو ادا کرنا پڑی۔
وہ زندگی میں کئی مرتبہ گرفتار ہوئے اور مختلف ادوار میں جیل کاٹی۔ ان کی گرفتاریوں کی مکمل مدت کے بارے میں سوانحی ذرائع میں یکساں اعداد نہیں ملتے، اس لیے کسی ایک حتمی عدد کو بلاشرط بیان کرنا درست نہیں۔ بعض سوانحی ذرائع کے مطابق انہوں نے مجموعی طور پر تقریباً سات برس جیل میں گزارے، جبکہ ایوب خان کے دور میں تقریباً چار برس قید کا ذکر بھی ملتا ہے۔
ان کی گرفتاریوں کی وجوہات بھی مختلف رہیں۔ کہیں سیاسی سرگرمی، کہیں حکومت مخالف شاعری اور کہیں سیاسی مقدمات ان کے خلاف کارروائی کا سبب بنے۔ 1967 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک مقدمے کے عدالتی ریکارڈ میں بھی حبیب جالب کی گرفتاری کا ذکر موجود ہے۔ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق فروری 1967 میں لاہور کے وائی ایم سی اے ہال میں ان کی جانب سے ایک نظم سنائے جانے کے بعد ان کے خلاف ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں گرفتار کیا گیا۔

1976 میں انہیں حیدرآباد سازش کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا اور جنوری 1978 تک قید میں رہے۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی ان کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔
1983 میں خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والے احتجاج میں ان کی شرکت بھی ان کی مزاحمتی زندگی کا اہم واقعہ ہے۔ وہ پولیس حصار توڑ کر احتجاج کرنے والی خواتین کے پاس پہنچے اور اپنی شاعری کے ذریعے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔
جالب کی مزاحمت کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کی شاعری پیچیدہ زبان میں نہیں تھی۔
وہ عام آدمی کی زبان میں بات کرتے تھے۔
ان کے ہاں کسان، مزدور، عورت، طالب علم، سیاسی کارکن اور عام شہری سب موجود تھے۔ یہی سادہ زبان، ترنم اور براہ راست انداز ان کی شاعری کو مشاعرے سے نکال کر جلسے، سڑک اور عوامی اجتماع تک لے گیا۔
ان کی مقبول نظموں میں ‘دستور’، ‘مشیر’، ‘لاڑکانہ چلو ورنہ تھانے چلو’، ‘عورت کا ترانہ’ اور ‘ظلمت کو ضیا’ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں سیاسی جبر کے ساتھ ساتھ کسانوں، مزدوروں، خواتین اور معاشرے کے محروم طبقات کے مسائل بھی بار بار سامنے آتے ہیں۔
ان کے شعری مجموعوں میں ‘برگِ آوارہ’، ‘سرِ مقتل’، ‘عہدِ ستم’، ‘حرفِ حق’، ‘ذکر بہتے خون کا’، ‘عہدِ سزا’، ‘اس شہرِ خرابی میں’، ‘گنبدِ بے در’، ‘گوشے میں قفس کے’، ‘حرفِ سرِ دار’ اور ‘چاروں جانب سناٹا’ شامل ہیں۔
لیکن جالب کی شہرت صرف سیاسی شاعری تک محدود نہیں تھی۔
وہ فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے اور کئی پاکستانی فلموں کے لیے نغمے لکھے۔ ‘زرقا’، ‘خاموش رہو’، ‘گھونگھٹ’، ‘زخمی’ اور دیگر فلمیں ان کے فلمی کام کی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ پہلو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جالب کی ادبی شخصیت صرف جلسوں میں نظم پڑھنے والے مزاحمتی شاعر تک محدود نہیں تھی۔
اور شاید ان کی زندگی کا سب سے کم بیان ہونے والا پہلو یہی ہے کہ جس جالب کو آج ہم تقریباً مکمل طور پر مزاحمتی شاعر کے طور پر یاد کرتے ہیں، وہ اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں ایک رومانوی اور غزل گو شاعر بھی تھے۔ ‘برگِ آوارہ’ اس ابتدائی جالب کی گواہی دیتا ہے۔ بعد کے سیاسی حالات نے ان کے لہجے کو بدل دیا اور یہی شاعر آگے چل کر عوامی مزاحمت کی علامت بن گیا۔
ایک اور واقعہ ان کی شخصیت کا گہرا پہلو سامنے لاتا ہے۔ جیل میں ان سے قلم اور کاغذ چھین لیے جانے کے باوجود ان کی شاعری نہیں رکی۔ جالب نے اس صورت حال میں محافظوں کو اپنے اشعار سنانے اور ان کے ذریعے شاعری کو لوگوں تک پہنچانے کی بات کی تھی۔ یعنی ان کے لیے شاعری صرف کاغذ پر لکھی ہوئی چیز نہیں بلکہ براہ راست عوام تک پہنچنے والی آواز تھی۔
ان کی زندگی کا آخری حصہ بھی اسی خودداری کے ساتھ گزرا۔
وہ مارچ 1993 میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی تاریخ کے بارے میں معتبر ذرائع میں 12 اور 13 مارچ دونوں درج ہیں۔ بعد از وفات حکومت پاکستان نے انہیں نشانِ امتیاز سے بھی نوازا۔
حبیب جالب کی اصل میراث شاید ان کی کوئی ایک نظم یا کتاب نہیں۔
ان کی میراث وہ سفر ہے جو ایک نوجوان شاعر سے شروع ہوا، کراچی کے اخبار کے پروف ریڈر تک پہنچا، مزدور اور ہاری تحریکوں سے گزرا، جیلوں تک گیا، آمریتوں اور منتخب حکومتوں دونوں پر تنقید کرتا رہا اور آخرکار ایسا شاعر بن گیا جس کی شاعری پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی اہم ادوار کا عوامی ریکارڈ بن گئی۔
وہ اقتدار کے قریب جا کر شاعر نہیں بنے۔
وہ عوام کے درمیان رہ کر شاعر بنے۔
اور اسی لیے حبیب جالب کا نام آج بھی صرف اردو ادب کی تاریخ میں نہیں، بلکہ پاکستان میں مزاحمتی شاعری کی تاریخ میں بھی ایک نمایاں حوالہ ہے۔

