سندھ میں پانی کی نکاسی، سیم و تھور کے خاتمے اور منچھر جھیل کو آلودگی سے بچانے کے لیے شروع کیا جانے والا دریائے سندھ کے دائیں کنارے رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین، یعنی آر بی او ڈی، پاکستان کے ان بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہو چکا ہے جو کئی حکومتوں کے ادوار دیکھنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکے۔
منصوبہ 2001 میں شروع ہوا تھا۔ آج 25 سال سے زیادہ عرصے بعد اس پر 40 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں، لیکن اس کا اہم ترین حصہ آر بی او ڈی-ٹو اب بھی مکمل نہیں ہوا۔
حالیہ برسوں میں اس منصوبے کی ناکامی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جولائی 2026 میں بتایا گیا کہ تقریباً 62 ارب روپے کی لاگت والا آر بی او ڈی-ٹو موجودہ صورت میں ناقابلِ عمل قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ اسے مکمل کرنے کے لیے مزید تقریباً 300 ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہے۔
یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر ایک ایسے منصوبے پر اتنی خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود یہ آج تک مکمل کیوں نہیں ہو سکا؟
آر بی او ڈی دراصل ایک کینال یا نالے کا نام نہیں بلکہ تین بڑے حصوں پر مشتمل نکاسی آب کا نظام ہے۔ آر بی او ڈی-ون، آر بی او ڈی-ٹو اور آر بی او ڈی-تھری۔
اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد سندھ اور بلوچستان کے دائیں کنارے کے علاقوں سے زرعی اور شہری آلودہ پانی کو جمع کرکے دریائے سندھ اور منچھر جھیل کو آلودگی سے بچاتے ہوئے سمندر تک پہنچانا ہے۔ آر بی او ڈی-ٹو اس پورے نظام کا سب سے اہم حصہ ہے، کیونکہ اسے سیہون کے قریب کرم پور سے شروع ہو کر ٹھٹہ کے گھارو کریک تک پہنچنا ہے۔ وہاں سے وہ گندا پانی سمندر میں جانا ہے۔
اگرچہ واپڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آر بی او ڈی کے دو اہم حصے، آر بی او ڈی-ون اور آر بی او ڈی-تھری، مکمل کر لیے تھے، تاہم سندھ حکومت نے ان منصوبوں کی تعمیر اور معیار پر اعتراضات اٹھائے اور مختلف مقامات پر موجود نقائص کی نشاندہی کی۔
واپڈا نے بعد ازاں ان دونوں منصوبوں کو آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے سندھ محکمہ آبپاشی کے حوالے کرنے کی کوشش کی، لیکن سندھ حکومت نے نقائص دور کیے جانے اور نامکمل اصلاحی کام مکمل ہونے تک انہیں تحویل میں لینے سے گریز کیا۔
یوں دونوں منصوبوں کا باقاعدہ حوالگی اور تحویل کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔ اسی دوران 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پہلے سے موجود مسائل میں مزید اضافہ کیا اور آر بی او ڈی کے مختلف حصوں، پشتوں اور متعلقہ ڈھانچوں کو مزید نقصان پہنچا، جس کے باعث ان منصوبوں کی بحالی اور مکمل فعالیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔

لاگت میں بڑا اضافہ
2001 میں جب یہ منصوبہ شروع ہوا تو اس کی منظور شدہ لاگت صرف 14 ارب روپے تھی۔ 273 کلومیٹر طویل آر بی او ڈی-ٹو کو 2006 تک مکمل ہونا تھا۔ لیکن کام کی رفتار سست رہی۔ زمین کے حصول، ٹھیکیداروں کی مشکلات، فنڈز کی کمی اور دوسرے مسائل کے باعث منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکا۔ 2006 میں حکومت نے اس کی لاگت بڑھا کر 29.2 ارب روپے کر دی۔ اس وقت تک صرف 2.88 ارب روپے خرچ ہوئے تھے اور منصوبے کی پیش رفت 34.42 فیصد بتائی گئی تھی۔
2006 میں ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ منصوبے کے ڈیزائن اور تعمیر میں کئی اضافی کام درکار ہیں۔ ابتدائی طور پر آر بی او ڈی-ٹو کی گنجائش 2,271 کیوسک پانی رکھی گئی تھی، لیکن بعد میں اسے بڑھا کر تقریباً 3,525 کیوسک کر دیا گیا۔
بلوچستان کے نکاسی آب کے پانی کو بھی اس نظام میں شامل کیا گیا۔ نالے کی چوڑائی 31 فٹ سے بڑھا کر 61 فٹ کی گئی۔ سیلاب سے تحفظ کے اضافی کام، زمین کی بڑھتی ہوئی قیمت اور مختلف ڈھانچوں کی تعداد میں اضافے نے بھی لاگت بڑھائی۔
منصوبے کے آغاز ہی میں اس کے ڈیزائن پر سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔ جون 2003 میں دادو میں ایک سیمینار میں ماہرین، زمینداروں اور مقامی نمائندوں نے آر بی او ڈی کے راستے اور تعمیر کے طریقہ کار پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر نالی دریائے سندھ کے قریب بنائی جا رہی ہے اور اس سے میٹھے پانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
تعمیر میں ناقص مواد کے استعمال اور زمین کے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق شکایات بھی سامنے آئیں۔
یہ خدشات اس لیے اہم تھے کیونکہ آر بی او ڈی کا بنیادی مقصد ہی پانی کے مسئلے کا حل نکالنا تھا، نہ کہ ایک نیا ماحولیاتی مسئلہ پیدا کرنا۔
آر بی او ڈی-ٹو کا ایک اہم مقصد برصغیر کی مشہور منچھر جھیل کو بچانا تھا۔ مین نارا ویلی ڈرین، جسے بعد میں آر بی او ڈی-ون کے نظام سے جوڑا گیا، طویل عرصے سے آلودہ پانی منچھر جھیل میں پہنچا رہی تھی۔ نتیجتاً جھیل کا پانی آلودہ ہوچکا ہے، مچھلیوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور جھیل پر انحصار کرنے والی مقامی ماہیگیر آبادی کی معاشی مشکلات بڑھیں۔
2010 کا سیلاب: آر بی او ڈی کو شدید نقصان پہنچا
2010 کے تباہ کن سیلاب نے سندھ کے نکاسی آب کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا اور رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین، خصوصاً اس کے پشتوں اور متعلقہ ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا۔
اس وقت اخباری رپورٹس میں آر بی او ڈی کے مختلف مقامات پر شگاف پڑنے اور پانی کے بے قابو بہاؤ کا ذکر کیا گیا۔ اگست 2010 میں رپورٹ کیا گیا کہ ٹھٹہ کے قریب رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کے پشتے میں شگاف پڑنے سے پانی کا دباؤ کلری بگھار فیڈر پر بڑھ گیا اور کچھ پانی کینجھر جھیل میں داخل ہونے لگا۔ حکام کو پانی کا رخ دوسری طرف موڑنا پڑا۔
سیلاب سے آر بی او ڈی-ٹو کے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا تھا، جبکہ منصوبے کا کام پہلے ہی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث معطل تھا۔ منصوبے کے ڈائریکٹر کے مطابق 2009-10 میں مختص 4 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 92 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جس کے باعث ٹھیکیداروں نے کام روک دیا۔
بعد میں 2016 کی اخباری رپورٹس میں واضح کیا گیا کہ منصوبے کی لاگت میں اضافے کی وجوہات میں 2010 اور بعد کے سیلابوں سے ہونے والا نقصان بھی شامل تھا۔
یوں 2010 کا سیلاب آر بی او ڈی کی پہلے سے تاخیر کا شکار تعمیر کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا، جس کے بعد منصوبے کی لاگت، تکمیل کی مدت اور تعمیراتی کام تینوں مزید متاثر ہوئے۔

منچھر جھیل کی تباہی
2015 میں رپورٹ کیا تھا کہ آر بی او ڈی-ٹو کا بنیادی مقصد منچھر جھیل کو بائی پاس کرتے ہوئے آلودہ پانی کو کرم پور سے سمندر تک پہنچانا تھا۔
2015 تک صورت حال یہ تھی کہ آر بی او ڈی-ٹو کا تقریباً 70 فیصد کام مکمل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، لیکن منصوبے کی لاگت 45 ارب روپے تک پہنچ چکی تھی اور تقریباً 25 ارب روپے خرچ ہو چکے تھے۔ اس وقت بھی بنیادی مسئلہ فنڈز کا سست اجرا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008-09 سے 2010-11 کے دوران فنڈز کی کمی نے منصوبے کی رفتار بری طرح متاثر کی۔
اس دوران منصوبے میں بلوچستان کے پانی کو شامل کرنے سے اس کی گنجائش بھی بڑھ گئی۔ یوں ایک ایسے منصوبے پر، جو پہلے ہی تاخیر کا شکار تھا، مزید ذمہ داریاں ڈال دی گئیں۔
2017 میں منصوبے کی لاگت ایک بار پھر بڑھائی گئی اور تقریباً 62 ارب روپے مقرر کی گئی۔ منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ نومبر 2019 رکھی گئی، لیکن یہ ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا۔ 2020 میں بزنس ریکارڈر نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ لاگت 29.22 ارب سے بڑھ کر تقریباً 62 ارب روپے ہو گئی تھی اور اس اضافے کی بڑی وجہ منصوبے کی بدانتظامی قرار دی گئی۔
اسی عرصے میں منصوبے سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تحقیقات میں 4.48 ارب روپے کی مبینہ خرد برد کی نشاندہی ہوئی۔ تحقیقات میں ایسے کاموں کے بل بھی سامنے آئے جن کے بارے میں الزام تھا کہ وہ موقع پر ہوئے ہی نہیں۔
آر بی او ڈی کی کہانی میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس کی تعمیر صرف ایک لمبا نالہ کھودنے کا کام نہیں تھا۔ اس کے راستے میں سڑکوں، نہروں، ریلوے لائنوں، آبی گزرگاہوں اور آبادیوں کو عبور کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پل، پلّیاں اور دوسرے ڈھانچے تعمیر کرنا تھے۔ 2006 میں رپورٹ ہوا کہ 273 کلومیٹر کا منصوبہ تین حصوں اور 32 پیکجز میں تقسیم کیا گیا تھا۔ 28 پیکجز سول ٹھیکیداروں کو دیے گئے تھے، لیکن کئی ٹھیکیداروں نے کام چھوڑ دیا۔ زمین کے حصول کی پیش رفت بھی صرف تقریباً 70 فیصد تھی، جسے منصوبے کی تاخیر کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
بعد میں ریلوے اور دیگر اہم مقامات پر کراسنگز بھی منصوبے کی رفتار میں رکاوٹ بنیں۔
2015 کے بعد منصوبہ عملاً معطل ہو گیا۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو 2025 میں بتایا گیا کہ آر بی او ڈی-ٹو پر تقریباً 40 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، لیکن منصوبہ تقریباً دس سال سے رکا ہوا ہے۔ سندھ حکومت نے وفاق سے مزید فنڈز کا مطالبہ کیا، جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ وفاق نے 2021 کے بعد منصوبے کے لیے کوئی نئی رقم جاری نہیں کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد کے مرحلے میں صرف فنڈز کی کمی ہی مسئلہ نہیں رہی۔ 2025 میں محکمہ آبپاشی کے حکام نے بتایا کہ کام کا ٹھیکہ 2022 میں منسوخ کیا گیا، مشیر کو ہٹا دیا گیا اور نیب اور اینٹی کرپشن کی تحقیقات بھی جاری رہیں۔ تقریباً 3.5 ارب روپے دستیاب ہونے کے باوجود کام دوبارہ شروع نہیں ہو سکا۔
دریائے سندھ کے دائیں کنارے کو شدید متاثر کرنے والے 2022 کے سیلاب نے بھی اس منصوبے اور اس سے منسلک ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچایا۔ آر بی او ڈی-ٹو اور انڈس لنک میں جامشورو کے قریب شگاف پڑے۔ آر بی او ڈی-ون کے بعض حصے بھی متاثر ہوئے۔ اس طرح منٍصوبے کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے تعمیر شدہ حصوں کی مرمت کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔
اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آر بی او ڈی-ٹو مکمل نہیں ہوا۔ محکمہ آبپاشی نے اس کے موجودہ ڈیزائن پر ہی سوال اٹھا دیا ہے۔ جولائی 2026 میں اریگیشن ڈیپارٹمینٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ منصوبہ موجودہ صورت میں قابلِ عمل نہیں رہا اور مکمل کرنے کے لیے تقریباً 300 ارب روپے مزید درکار ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے منچھر جھیل کے قریب ایک ایسے پلانٹ کی تجویز بھی دی جو آلودہ پانی کو صاف یا دوبارہ قابلِ استعمال بنا سکے۔
مارچ 2026 کا ایک واقعہ اس بحران کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ جامشورو میں آر بی او ڈی-ٹو کے ایک تالاب کے بند میں غیر قانونی کٹ لگا کر گندا پانی کلری بگھار فیڈر میں چھوڑ دیا گیا۔ یہ فیڈر دریائے سندھ کا پانی کینجھر جھیل تک پہنچاتا ہے، اور کینجھر کراچی کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ ہے۔ محکمہ آبپاشی نے بعد میں کٹ بند کیا۔ حکام کے مطابق آر بی او ڈی-ٹو طویل عرصے سے غیر فعال تھا اور مقامی آبادی کے گندے اور بارش کے پانی کی نکاسی کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ 23 سال پہلے جس منصوبے کو پانی کی نکاسی اور ماحولیاتی تحفظ کا حل سمجھا گیا تھا، اس کی نامکمل حالت اب خود ایک مسئلہ بن چکی ہے۔
آر بی او ڈی کے تین حصوں میں سے آر بی او ڈی-ون اور آر بی او ڈی-تھری کا بڑا حصہ وفاقی ادارے واپڈا کو مکمل تھا، جس میں وہ ناکام رہی۔ جبکہ آر بی او ڈی-ٹو کی ذمہ داری سندھ محکمہ آبپاشی کے پاس رہی۔ لیکن اگر آر بی او ڈی-ٹو سمندر تک مکمل راستہ فراہم نہیں کرتا تو پورا نظام اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
2022 کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی لاگت اس وقت تقریباً 62 ارب روپے تک پہنچ چکی تھی اور تکمیل کی آخری مقررہ تاریخ نومبر 2019 بھی گزر چکی تھی۔
آج آر بی او ڈی کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پرانے منصوبے کو اسی شکل میں مکمل کیا جائے، نیا راستہ بنایا جائے یا آلودہ پانی کو سمندر میں ڈالنے کے بجائے پہلے صاف کرنے کا نظام بنایا جائے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ماہر مشیر مقرر کرنے اور منچھر جھیل کے قریب پانی صاف کرنے کے منصوبے پر زور دیا ہے۔ مارچ 2026 میں کمیٹی کے چیئرمین نے نئے ڈیزائن کے لیے تقریباً 200 ارب روپے کی بات کی، جبکہ جولائی میں حکام نے تقریباً 300 ارب روپے کی ضرورت بتائی۔
اس منصوبے کی پوری تاریخ دیکھیں تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔ مسئلہ صرف پیسوں کا نہیں تھا۔ ڈیزائن میں تبدیلیاں ہوئیں، منصوبے کی گنجائش بڑھی، زمین کے حصول میں تاخیر ہوئی، ٹھیکیدار بدلے، فنڈز کم پڑے، تعمیراتی کام پر سوال اٹھے، مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہوئیں، سیلاب نے نقصان پہنچایا اور آخرکار موجودہ ڈیزائن کی افادیت ہی زیر سوال آ گئی۔
سن2001 میں 14 ارب روپے سے شروع ہونے والا منصوبہ تقریباً 62 ارب روپے کی منظور شدہ لاگت تک پہنچ گیا۔ 40 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود 273 کلومیٹر کا آر بی او ڈی-ٹو نالہ سمندر تک آلودہ پانی پہنچانے کے اپنے بنیادی مقصد کو پورا نہیں کر سکا۔
اب اگر اسے مکمل کرنے کے لیے مزید سینکڑوں ارب روپے درکار ہیں تو حکومت کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ باقی کام کیسے مکمل کیا جائے۔ اسے یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کیا موجودہ منصوبہ واقعی سندھ کے پانی، زراعت، منچھر جھیل اور ماحول کے لیے بہترین حل ہے؟
23 سال کا تجربہ کم از کم اتنا ضرور بتاتا ہے کہ صرف مزید رقم مختص کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اس بار فیصلہ شفاف انجینئرنگ جائزے، ماحولیاتی مطالعے، عوامی مشاورت، مکمل مالی حساب اور واضح ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ورنہ خطرہ یہی ہے کہ آر بی او ڈی کی تاریخ میں ایک اور ترمیم، ایک اور لاگت اور ایک اور تکمیل کی تاریخ کا اضافہ ہو جائے، جبکہ سمندر تک جانے والا راستہ پھر بھی ادھورا رہے۔
ایل بی او ڈی سے بھی سبق نہیں سیکھا
ماضی میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر تعمیر کیا جانے والا لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) بھی سندھ کے بڑے نکاسی آب کے منصوبوں میں شامل ہے، جسے عالمی بینک کی مالی معاونت سے واپڈا نے مکمل کیا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد زرعی علاقوں سے سیم اور تھور کا شکار پانی نکال کر سمندر تک پہنچانا تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہ منصوبہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بجائے ایک ناکام اور متنازع منصوبے کے طور پر سامنے آیا۔
ایل بی او ڈی کے نتیجے میں سمندر کے ساحلی علاقوں خصوصاً بدین اور ٹھٹہ کے ساحلی ماحولیاتی نظام کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ نکاسی آب کا کھارا اور آلودہ پانی ساحلی علاقوں میں پھیلنے سے زرعی زمین، میٹھے پانی کے ذخائر، چراگاہوں اور ماہی گیری کے ذرائع متاثر ہوئے۔
ٹائیڈل لنک اور سمندر تک نکاسی کے نظام میں خرابی کے باعث ایل بی او ڈی کا پانی بعض اوقات ساحلی علاقوں میں واپس آنے لگا، جس سے مقامی آبادیوں کو سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
ہر سال بارشوں اور سیلاب کے دوران ایل بی او ڈی کے مختلف مقامات پر پشتوں میں شگاف پڑنے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔ ان شگافوں سے نکلنے والا پانی ڈیلٹا کے وسیع علاقے میں پھیل کر آبادیوں، فصلوں اور قدرتی ماحول کو متاثر کرتا ہے۔
ایل بی او ڈی کا تجربہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا سندھ میں نکاسی آب کے بڑے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مقامی جغرافیہ، سمندری نظام اور ماحولیاتی اثرات کو مناسب اہمیت دی گئی تھی۔

