زاویہ: ایجوکیشن سٹی انتظامیہ کی کارروائیاں، قبل اس کے کہ برداشت بغاوت بن جائے

سٹی

ملیر کی سرزمین صرف نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں، ریونیو ریکارڈ کے کھاتوں اور سرکاری فائلوں کا نام نہیں۔ یہ صدیوں سے آباد گوٹھوں، زرعی زمینوں، قبرستانوں، کھیتوں، درختوں اور ان لوگوں کی شناخت ہے جن کے بزرگوں نے اپنی زندگیاں اسی مٹی میں گزاری ہیں۔

کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنی زمین حاصل کی گئی، کتنی دیواریں گرائی گئیں یا کتنے ایکڑ کسی منصوبے میں شامل کیے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟

ملیر میں ایجوکیشن سٹی کے نام پر زمین کے حصول کا معاملہ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں انتظامی کارروائیوں، مقامی آبادی کے خدشات اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات کو نظرانداز کرنا مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

تازہ صورتحال میں درسنہ چھنہ کے قریب فقیر محمد بلوچ گوٹھ اور ملحقہ زرعی فارمز میں ایجوکیشن سٹی انتظامیہ کی جانب سے ریونیو افسران اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کارروائی کی کوشش کی گئی۔ مقامی لوگوں کے شدید احتجاج اور مزاحمت کے بعد انتظامی عملہ کارروائی مکمل کیے بغیر واپس چلا گیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر زمینوں، دیواروں اور فارم ہاؤسز کے خلاف کارروائی کی گئی اور اہلکاروں نے دوبارہ آنے کا عندیہ دیا۔

یہ معاملہ محض ایک گوٹھ یا چند زرعی فارمز تک محدود نہیں۔ یہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین حاصل کرتے وقت وہاں پہلے سے آباد انسانوں کے حقوق، ان کی زندگی، روزگار، رہائش، آباؤ اجداد کی قبریں اور قانونی تحفظات کہاں جاتے ہیں؟

مقامی آبادگاروں اور علاقہ معززین کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں بلکہ نسلوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر اور زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ اگر کسی زمین کے ریکارڈ، ملکیت یا قانونی حیثیت پر کوئی تنازع موجود ہے تو اس کا حل طاقت، خوف یا اچانک انہدام نہیں بلکہ قانون، شفاف ریکارڈ، سماعت اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

قانون ریاست کو اختیار دیتا ہے، لیکن یہی قانون شہریوں کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے زمین کے حصول کا عمل قانون کے مطابق، شفاف اور متاثرین کو اعتماد میں لے کر ہونا چاہیے۔

اگر کسی خاندان کا گھر، کسی آبادگار کا ذریعہ معاش، کسی گوٹھ کی اجتماعی زمین یا کسی قبرستان کی حدود متاثر ہوتی ہیں تو متاثرین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کی زمین کس قانونی بنیاد پر لی جا رہی ہے، معاوضے کا طریقہ کیا ہے، متبادل رہائش یا زمین کا کیا انتظام ہے اور ان کے اعتراضات سننے کا فورم کون سا ہے۔

یہ بھی ایک اہم انسانی حقوق کا سوال ہے کہ کیا کسی آبادی کو صرف اس لیے بے یقینی میں رکھا جا سکتا ہے کہ وہاں ایک بڑا منصوبہ بننا ہے؟

ترقی انسان کے لیے ہوتی ہے، انسان ترقی کی قربانی بننے کے لیے نہیں ہوتا۔

ایجوکیشن سٹی منصوبے کے آغاز سے اب تک مقامی متاثرین، منتخب نمائندوں، ریونیو حکام اور متعلقہ اداروں کے درمیان متعدد اجلاس، مذاکرات اور یقین دہانیاں ہو چکی ہیں۔ مختلف اوقات میں مسائل کے حل کی بات ہوئی، متاثرین کے تحفظات سننے کے وعدے ہوئے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئیں۔

لیکن اگر اتنے برس گزرنے کے باوجود زمین کے حصول کے لیے کارروائیاں اسی طرح جاری ہیں اور متاثرین کے بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ان اجلاسوں اور مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلا؟

اگر ہر مذاکراتی دور کے بعد دوبارہ انہدامی کارروائی کا خطرہ پیدا ہو جائے تو عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

فقیر محمد بلوچ گوٹھ کے حالیہ واقعے نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقامی آبادی کی خاموشی کو رضامندی سمجھنا خطرناک غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ لوگ برسوں سے احتجاج، مذاکرات اور قانونی راستوں کو ترجیح دیتے آئے ہیں۔ برداشت، مفاہمت، خاموشی اور مصلحت پسندی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

جب انسان کو مسلسل یہ خوف لاحق رہے کہ کل اس کا گھر، اس کی زمین، اس کا کھیت یا اس کے بزرگوں کی قبر محفوظ ہوگی یا نہیں تو اس کی بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی اداروں کو طاقت کے استعمال کے بجائے اعتماد سازی کی طرف جانا چاہیے۔

کیونکہ آج کی خاموشی کل کسی بڑے عوامی احتجاج کا سبب بن سکتی ہے۔

یہاں ‘بغاوت’ سے مراد کسی قسم کا تشدد نہیں بلکہ وہ اجتماعی، آئینی اور قانونی مزاحمت ہے جو اس وقت جنم لیتی ہے جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔

اس لیے حکومت، ریونیو حکام، ایجوکیشن سٹی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کو ابھی سے ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ فقیر محمد بلوچ گوٹھ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں کسی بھی نئی کارروائی سے پہلے فوری طور پر مشترکہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ زمینوں کا ریکارڈ سامنے لایا جائے، گوٹھوں کی قانونی حیثیت واضح کی جائے، قبرستانوں کی حدود محفوظ کی جائیں، متاثرہ خاندانوں کی فہرست تیار کی جائے، زمینوں کے مالکان اور آبادگاروں کو سنا جائے اور ہر فریق کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

اگر کسی زمین پر واقعی حکومت یا منصوبے کا قانونی حق ثابت ہوتا ہے تو بھی حصولِ اراضی کا عمل قانون کے مطابق، شفاف اور مناسب معاوضے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی خاندان یا آبادی کا قانونی حق ثابت ہوتا ہے تو اسے محض انتظامی دباؤ کے ذریعے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔

قبرستانوں کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی زد میں آنے والی قبروں اور قبرستانوں کو محض زمین کا ایک ٹکڑا سمجھنا نہ قانونی طور پر مناسب ہے اور نہ انسانی، اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے قابل قبول۔

ان قبروں میں کسی کے والد، کسی کی ماں، کسی کا دادا، کسی کا بیٹا اور کسی خاندان کی نسلوں کی یادیں دفن ہیں۔ ترقی کے نام پر ان مقدس مقامات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

منتخب نمائندوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف اجلاسوں میں شرکت تک محدود نہ رہیں۔ اگر ان کے حلقے کے لوگ بے گھر ہونے، زمین سے محروم ہونے یا قبرستانوں کے تحفظ کے بارے میں پریشان ہیں تو انہیں متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور حکومت کے سامنے واضح، تحریری اور قابلِ عمل حل پیش کرنا چاہیے۔

ایجوکیشن سٹی اگر واقعی تعلیم اور ترقی کا منصوبہ ہے تو اسے انصاف، شفافیت اور مقامی آبادی کے اعتماد کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایسا منصوبہ جو مقامی لوگوں کے دلوں میں خوف، غصہ اور بے یقینی پیدا کرے، اپنی کامیابی کے باوجود ایک بنیادی انسانی سوال ہمیشہ اپنے ساتھ لے کر چلے گا۔

آج بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔

حکومت چاہے تو فقیر محمد بلوچ گوٹھ کے واقعے کو ایک تصادم کا آغاز بنانے کے بجائے مذاکرات اور انصاف کا نقطۂ آغاز بنا سکتی ہے۔ انتظامیہ کارروائی مؤخر کرکے متاثرین، مقامی معززین، قانونی ماہرین، منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کو ایک میز پر بٹھا سکتی ہے۔ تمام ریکارڈ سامنے آ سکتے ہیں اور ہر فریق کا مؤقف قانون کی روشنی میں سنا جا سکتا ہے۔

یہی جمہوری راستہ ہے، یہی آئینی راستہ ہے اور یہی انسانی حقوق کا تقاضا بھی ہے۔

کیونکہ اگر آج لوگوں کے سوالات سن لیے گئے، ان کے خدشات دور کر دیے گئے اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کر دیا گیا تو کل کا تصادم ٹل سکتا ہے۔

لیکن اگر گھروں، گوٹھوں، زرعی زمینوں اور قبرستانوں کے بارے میں اٹھنے والی آوازوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، مذاکرات کو بے معنی بنا دیا گیا اور ہر اختلاف کا جواب انتظامی کارروائی سے دیا گیا تو پھر یہ خاموشی کب تک قائم رہے گی؟

اس سے پہلے کہ برداشت بغاوت بن جائے، بات چیت کا دروازہ کھولنا ہوگا۔

اس سے پہلے کہ عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو، انصاف کا یقین دلانا ہوگا۔

اور اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے اور ذمہ دار ادارے صرف افسوس کرتے رہ جائیں، حکومت، انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ملیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ایک ایسے تنازع کو مزید گہرا ہونے دیں گے جس کا حل آج بھی مذاکرات، قانون اور انصاف کے ذریعے ممکن ہے۔

اسی بارے میں: