دنیا سمجھتی تھی کہ جو سن نہیں سکتا وہ بول بھی نہیں سکتا، اسپین کے ایک شخص نے صدیوں پرانا یہ نظریہ غلط ثابت کر دیا۔
اسپین کے راہب پیڈرو پونس ڈی لیون کہانی انسان سے محبت اور عزم وہمت کی مثال ہے۔ڈی لیون اسپین کے شہر اونیا میں رہتے تھے۔انہیں مذہب سے پیار تھا اور شہر کی ایک خانقاہ میں مذہبی زندگی گزار رہے تھے
اس خانقاہ کی ایک منفرد بات یہ تھی کہ یہاں راہبوں کو’ چپ کا روزہ ‘ رکھنا پڑتا تھا،گویا یہ ان کی عبادت و ریاضت تھی کہ وہ زبان سے کچھ نہیں یا بہت کم بولیں گے۔ اسلامی تصوف میں بھی ’قلیل الکلام‘ کی ایک ریاضت کا ذکر ملتا ہے
اونیا کی اس خانقاہ کے راہبوں نے ایک دوسرے تک بات پہنچانے کے لیے ہاتھوں کے اشاروں کا ایک سادہ نظام بنا لیا تھا۔
اسی زمانے میں اونیا شہر میں ایک نوجوان گیسپارڈ برگوس بھی رہتا تھا۔ برگوس کو بھی مذہب سے بہت محبت تھی۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح خانقاہ کے راہبوں میں شامل ہوجائے۔
برگوس اس خواہش کو پورا کرنے سے قاصر تھا کیونکہ وہ پیدائشی طور پر گونگا تھا۔
اونیا کی خانقاہ میں ’قلیل الکلام‘ ہونا ہرچند کے ایک بڑی صفت تھی لیکن برگوس کے سامنے مسیحی مذہب کی ایک اور شرط دیوار بن گئی تھی۔ وہ شرط یہ تھی کہ راہب بننے کے خواہشمند یا امیدوار کو زبان سے بول کر ’کنفیشن‘ یعنی ماضی کے گناہوں کا اعتراف کرنا ہوتا تھا۔
خانقاہ کے ذمہ داروں نے اس بنیاد پر برگوس کی راہب بننے کی درخواست رد کردی تھی۔
گیسپارڈ برگوس کو مایوسی تو ہوئی لیکن اس نے ہار نہ مانی،وہ اپنی بپتا سنانے ڈی لیون کے پاس پہنچ گیا، راہب ڈی لیون نے جب اس نوجوان کی مذہب سے محبت دیکھی تو انہوں نے اس محرومی کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔
ڈی لیون نے خانقاہ کے ’خاموش اشاروں‘ کو برگوس کے لیے ایک تعلیمی ہتھیار بنایا۔ انہوں نے حروفِ تہجی کے لیے انگلیوں کی مخصوص حرکات تیار کیں، اشیا دکھا کر ان کے نام لکھوائے اور آہستہ آہستہ برگوس کو ہونٹوں کی جنبش پڑھنا (لپ ریڈنگ) سکھائی۔

برگوس کی غیر معمولی ذہانت اور ڈی لیون کی انتھک محنت رنگ لائی۔ برگوس نہ صرف اشاروں کی زبان سیکھ گئے بلکہ انہوں نے لکھنا، پڑھنا اور آواز نکال کر بولنا بھی سیکھ لیا۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ چرچ میں زبان سے اعتراف کر سکیں بعد میں انہوں نے خانقاہ کے خادم کے طور پر خدمات انجام دیں اور کتابیں بھی لکھیں۔
گیسپارڈ برگوس، ڈی لیون کے لیے دنیا کا پہلا اور سب سے اہم کامیاب تجربہ ثابت ہوئے۔ ان کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ سماعت سے محرومی ذہنی معذوری نہیں ہے، بلکہ صرف رابطے کا ایک الگ انداز ہے۔
برگوس سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے چل کر دنیا بھر کے کروڑوں بہرے افراد کے لیے روشنی کی کرن بن گیا۔
23ستمر: اشاروں کا عالمی دن کیوں؟
ڈی لیون اور برگوس نے جس سفر کا آغاز کیا تھا، اسے عالمی سطح پر منظم کرنے کے لیے صدیوں بعد 23 ستمبر 1951 کو ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تنظیم آج دنیا بھر کے تقریباً 70 ملین سماعت سے محروم افراد کے انسانی حقوق اور اشاروں کی زبانوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس تنظیم کے قیام کے تاریخی دن کو یادگار بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ نے23 ستمبر کو ’اشاروں کی زبان کا عالمی دن‘ قرار دیا
دو انسانوں کی کہانی،عالم انسانیت کے لیےسبق
ڈی لیون اور برگوس کی کہانی سبق دیتی ہے کہ ’کوشش کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا‘ اور یہ کہ
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

