کسی بھی جرم کے بعد جائے وقوعہ پر موجود ہر چیز ایک خاموش گواہ ہوسکتی ہے۔ زمین پر پڑا خون کا ایک قطرہ، انگلی کا معمولی سا نشان، کپڑے کا ٹکڑا، بال، گولی کا خول یا کوئی اور چھوٹی سی چیز تفتیش کے دوران اہم ثبوت بن سکتی ہے۔ ان شواہد کو تلاش کرنا، محفوظ کرنا، درست طریقے سے جمع کرنا اور فرانزک تجزیے کے لیے بھیجنا جرم کی تفتیش کے اہم مراحل میں شامل ہے۔
سندھ پولیس نے شواہد کے اسی اہم کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے کے مختلف اضلاع میں کرائم سین یونٹس قائم کر رکھے ہیں۔ کراچی میں بھی سندھ پولیس کا خصوصی کرائم سین یونٹ کام کر رہا ہے، جو جرائم کی جائے وقوعہ سے مادی شواہد جمع کرنے اور انہیں محفوظ بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کسی جرم کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے لیے جائے وقوعہ کو محفوظ بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت یا جائے وقوعہ پر موجود اشیا کو چھونے سے اہم شواہد ضائع یا آلودہ ہوسکتے ہیں۔ کرائم سین یونٹ کے اہلکار جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف ممکنہ شواہد کی نشاندہی کرتے ہیں اور انہیں سائنسی طریقہ کار کے مطابق جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس ان شواہد میں شامل ہیں جو کسی شخص کی موجودگی یا کسی چیز کو چھونے سے متعلق اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح خون کے نمونے اور دیگر حیاتیاتی شواہد ڈی این اے تجزیے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔
بال، کپڑے، خون، ٹشوز اور دیگر حیاتیاتی یا مادی نمونے بھی تفتیش کے دوران اہم ہوسکتے ہیں۔ فائرنگ کے واقعات میں گولیوں کے خول اور دیگر متعلقہ شواہد بھی جمع کیے جاتے ہیں تاکہ فرانزک ماہرین ان کا تجزیہ کرسکیں۔
شواہد جمع کرنے کا عمل صرف کسی چیز کو اٹھا کر ایک جگہ رکھ دینے تک محدود نہیں ہوتا۔ ہر نمونے کی شناخت، اس کی جگہ، نوعیت اور جمع کرنے کے طریقے کی دستاویز بندی ضروری ہوتی ہے۔ اس کے بعد شواہد کو مناسب طریقے سے پیک کیا جاتا ہے تاکہ ایک نمونے سے دوسرے نمونے میں آلودگی منتقل نہ ہو اور ثبوت کی اصل حالت زیادہ سے زیادہ برقرار رہے۔
اس پورے عمل میں چین آف کسٹڈی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ چین آف کسٹڈی سے مراد کسی شواہد کے جمع کیے جانے سے لے کر اس کے محفوظ کیے جانے، ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہونے اور فرانزک تجزیے تک پہنچنے کا مکمل ریکارڈ ہے۔ اس ریکارڈ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ شواہد کب، کہاں، کس نے اور کس مقصد کے لیے وصول کیے یا منتقل کیے۔
اگر کسی ثبوت کی منتقلی یا حفاظت کا ریکارڈ واضح نہ ہو تو اس کی فرانزک اہمیت متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے کرائم سین یونٹ کے لیے شواہد کی حفاظت اور دستاویز بندی اتنی ہی اہم ہے جتنی ان کی تلاش اور جمع آوری۔
کرائم سین یونٹ کے اہلکار مختلف نوعیت کے جرائم کی جائے وقوعہ پر کام کرسکتے ہیں۔ قتل، فائرنگ، ڈکیتی، چوری اور دیگر سنگین جرائم کے واقعات میں جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے مادی شواہد تفتیش کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔
کرائم سین کی تفتیش میں جائے وقوعہ کی تصاویر، مشاہدات اور دستیاب مادی شواہد کو بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ بعض مقدمات میں پولیس کو جائے وقوعہ کی ازسرنو تشکیل میں بھی مدد درکار ہوتی ہے۔ ایسے مواقع پر جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی معلومات اور شواہد کی بنیاد پر واقعے کے ممکنہ تسلسل کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فرانزک سائنس کا بنیادی مقصد مادی شواہد سے سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔ کرائم سین یونٹ جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے کے بعد انہیں متعلقہ فرانزک ماہرین اور لیبارٹریز تک پہنچانے کے عمل میں کردار ادا کرتا ہے، جہاں دستیاب سہولت اور کیس کی نوعیت کے مطابق مختلف سائنسی ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔
یوں ایک معمولی سا فنگر پرنٹ، خون کا نمونہ، بال، کپڑے کا ٹکڑا یا گولی کا خول تفتیش کے لیے اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم اس معلومات کی قانونی اور فرانزک اہمیت اس بات سے بھی جڑی ہوتی ہے کہ شواہد کس طریقے سے تلاش کیے گئے، کس طرح محفوظ کیے گئے اور ان کی چین آف کسٹڈی کس حد تک برقرار رکھی گئی۔
ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آصف کمالی کے مطابق صرف کراچی شہر میں کرائم سین کے 25 یونٹس کام کر رہے ہیں، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں بھی سندھ پولیس کی جانب سے کرائم سین یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔
جرم کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی اور فرانزک سائنس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں کرائم سین یونٹس پولیس کی تفتیش اور فرانزک نظام کے درمیان ایک اہم کڑی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام جائے وقوعہ پر موجود ممکنہ شواہد کو تلاش کرنا، انہیں آلودگی اور نقصان سے بچانا، درست طریقے سے محفوظ کرنا اور فرانزک تجزیے کے لیے قابل استعمال حالت میں آگے منتقل کرنا ہے۔
کیونکہ جرم کے بعد جائے وقوعہ پر موجود ہر نشان ایک خاموش گواہ ہوسکتا ہے، اور کرائم سین یونٹ کی ذمہ داری ہے کہ اس خاموش گواہ کو سائنسی طریقے سے محفوظ کیا جائے۔
