سندھ میں بلدیاتی نظام ایک مرتبہ پھر قانون سازی کی میز پر ہے۔ سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں اہم ترامیم کے لیے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026ء اسمبلی میں پیش کر دیا ہے اور اس پر غور کے لیے پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کا بنیادی مقصد بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے اختیارات واضح کرنا، انتخابات کے عمل کو بروقت شروع کرنا، تنازعات کے حل کے لیے مصالحتی فورمز قائم کرنا اور صوبائی و بلدیاتی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔
بظاہر یہ اصلاحات انتظامی تسلسل اور بلدیاتی اداروں کو مؤثر بنانے کی کوشش دکھائی دیتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا مجوزہ ترامیم واقعی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرتی ہیں یا منتخب بلدیاتی نمائندوں کے نام پر ایک ایسا انتظامی بندوبست پیدا کرتی ہیں جس میں اختیارات، سیاسی مفادات اور انتخابی عمل ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جائیں؟
سب سے زیادہ توجہ طلب شق وہ ہے جس کے تحت بلدیاتی کونسل کی مدت ختم ہونے کے بعد، نئے انتخابات نہ ہونے کی صورت میں موجودہ میئر یا چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر کام جاری رکھ سکے گا۔ حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ اس سے بلدیاتی اداروں میں خلا پیدا نہیں ہوگا اور عوامی خدمات کا نظام جاری رہے گا۔
مزید یہ کہ حکومت نے انتخابات کے عمل کو کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل شروع کرنے کی تجویز بھی دی ہے لیکن یہاں بنیادی قانونی اور جمہوری سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کسی منتخب شخص کی آئینی و قانونی مدت ختم ہو چکی ہے تو اسے دوبارہ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اختیارات دینے کی مدت اور حدود کیا ہوں گی؟ کیا وہ صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلائے گا یا اسے وہی وسیع اختیارات حاصل ہوں گے جو منتخب میئر یا چیئرمین کو حاصل تھے؟
یہ فرق معمولی نہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کے پاس سرکاری وسائل، ترقیاتی فیصلوں، لائسنسوں، اجازت ناموں، این او سیز اور دیگر انتظامی معاملات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ اگر یہی شخص چند ماہ بعد دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں امیدوار بھی بننا چاہے تو مفادات کے تصادم کا سوال لازماً پیدا ہوگا۔یہاں آئین پاکستان کا آرٹیکل 224(1B) ایک اہم آئینی اصول سامنے لاتا ہے۔
اس شق کے تحت نگران وفاقی و صوبائی کابینہ، نگران وزیراعظم و وزیراعلیٰ اور ان کے فوری اہلِ خانہ متعلقہ اگلے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ یہ شق براہ راست بلدیاتی میئر یا چیئرمین کو نااہل قرار نہیں دیتی، لیکن اس کے پیچھے بنیادی اصول واضح ہے کہ انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے انتظامی ڈھانچے کو سیاسی مقابلے سے غیر جانب دار رکھا جائے۔
لہٰذا اگر سندھ قانون ساز اسمبلی ایک سابق میئر یا چیئرمین کو انتخابات تک ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات دینا چاہتی ہے تو کم از کم اس کے لیے واضح انتخابی ضابطہ، اختیارات کی حدود اور مفادات کے تصادم سے بچاؤ کی شقیں ضرور شامل ہونی چاہئیں۔ بصورت دیگر یہ اعتراض برقرار رہے گا کہ ایک ہی شخص بیک وقت انتظامی اختیار بھی رکھتا ہے اور ممکنہ انتخابی امیدوار بھی بن سکتا ہے۔
مسئلہ صرف میئر یا چیئرمین تک محدود نہیں۔ مجوزہ قانون میں ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو کونسل کا کنوینر بنانے اور اجلاسوں کی صدارت کا اختیار دینے کی تجویز بھی ہے۔
حکومت کے مطابق اس سے اختیارات کی تقسیم واضح ہوگی، لیکن قانون سازی میں ہر اختیار کی حدود، میئر اور ڈپٹی میئر کے درمیان تعلق اور اختلاف کی صورت میں فیصلہ سازی کا طریقہ بالکل واضح ہونا چاہیے۔اگر ایک ہی اختیار مختلف دفعات میں مختلف انداز سے بیان ہو تو مستقبل میں اس کی تشریح پر تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔ بالخصوص سیکشن 80-A اور 83 میں کنوینر کے کردار سے متعلق تکرار یا باہمی تضاد موجود ہو تو قانون سازی کے معیار کے اعتبار سے اسے حتمی منظوری سے قبل دور کرنا ضروری ہے۔
قانون میں ابہام انتظامی سہولت نہیں بلکہ مستقبل کے قانونی تنازعات کی بنیاد بنتا ہے۔
اسی طرح تحریک عدم اعتماد کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط بھی غور طلب ہے۔ ایک طرف یہ شرط منتخب چیئرمین یا وائس چیئرمین کو غیر ضروری سیاسی عدم استحکام سے تحفظ دے سکتی ہے، لیکن دوسری طرف اگر کسی نمائندے کی کارکردگی واقعی ناقص ہو تو دو تہائی اکثریت کی شرط اسے احتساب سے غیر معمولی تحفظ بھی فراہم کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون ساز یہ واضح کریں کہ استحکام اور احتساب کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا۔
بلدیاتی اداروں کے حوالے سے صوبائی بیوروکریسی کا کردار بھی بنیادی سوال ہے۔ موجودہ قانون میں حکومت کو کونسلوں کے معائنے کا اختیار حاصل ہے اور سرکاری معائنہ کار کونسل کے کام، املاک اور جاری منصوبوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
احتساب اور نگرانی جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا نگرانی کا اختیار منتخب اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوگا یا ان کے فیصلوں کو انتظامی محکموں کے تابع رکھنے کے لیے؟ اگر بلدیاتی کونسل عوام کے ووٹ سے وجود میں آتی ہے تو اسے محض صوبائی محکموں کی ایک ذیلی انتظامی اکائی بنا دینا مقامی حکومت کے بنیادی تصور کو کمزور کرے گا۔
بلدیاتی نظام کا اصل فلسفہ یہی ہے کہ شہریوں کے روزمرہ مسائل کے فیصلے مقامی سطح پر ہوں۔ پانی، صفائی، سڑکیں، نکاسی آب، تجاوزات، مقامی منصوبہ بندی اور دیگر بنیادی شہری معاملات کے لیے عوام کو صوبائی سیکریٹریٹ کے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔
اگر منتخب کونسل کے پاس فیصلہ سازی کے اختیارات محدود اور صوبائی بیوروکریسی کے پاس حتمی اختیار زیادہ ہو تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ بلدیاتی انتخابات پر اربوں روپے اور سیاسی توانائی خرچ کرنے کا مقصد کیا ہے؟
مجوزہ مصالحتی فورمز بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔ مقامی سطح پر معمولی تنازعات کو عدالتوں اور تھانوں تک پہنچنے سے پہلے مصالحت کے ذریعے حل کرنے کا تصور عوام کے لیے مفید ہے۔ تاہم اگر سیکشن 84-A کے تحت مصالحت کاروں کی مدت کونسل کی مدت کے برابر رکھی جائے اور دوسری طرف کونسل کو انہیں کسی بھی وقت ہٹانے کا اختیار حاصل ہو تو ان فورمز کی آزادی اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
مصالحتی فورم اسی وقت مؤثر ہوگا جب اس کے ارکان سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کرسکیں۔ایک اور اہم پہلو کراچی اور دیگر میٹروپولیٹن اداروں کا انتظامی ڈھانچہ ہے۔ مجوزہ ترامیم میں میٹروپولیٹن کمشنر کو چیف ایگزیکٹو رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ انتظامی طور پر مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، مگر ضروری ہے کہ منتخب میئر اور پیشہ ور انتظامی افسر کے اختیارات کی حد بندی قانون میں غیر مبہم انداز میں کی جائے۔ ورنہ ایک ہی ادارے میں سیاسی مینڈیٹ اور انتظامی اختیار کے درمیان کشمکش جنم لے سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات صرف نمائندے منتخب کرنے کا عمل نہیں بلکہ مقامی جمہوریت کا بنیادی ستون ہیں۔ اس لیے انتخابات میں تاخیر کو کسی مستقل انتظامی بندوبست کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ اگر حکومت نے واقعی انتخابات کے عمل کو 120 روز پہلے شروع کرنے کی تجویز دی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ الیکشن کمیشن کو بروقت اور مؤثر طور پر انتخابی شیڈول مکمل کرنے کے لیے تمام انتظامی تعاون فراہم کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بلدیاتی قانون کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس میں کتنی دفعات شامل کی گئیں، بلکہ یہ ہے کہ اس سے عوام کو کتنا اختیار ملا، منتخب نمائندے کتنے جواب دہ ہوئے اور صوبائی حکومت کا کنٹرول کس حد تک کم ہوا۔
سندھ اسمبلی نے اس بل پر مزید غور کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کر کے ایک مناسب موقع پیدا کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیٹی محض حکومتی مسودے کی رسمی منظوری دینے کے بجائے قانونی ماہرین، سابق و موجودہ بلدیاتی نمائندوں، سول سوسائٹی، شہری تنظیموں اور عوامی حلقوں سے بھی رائے لے۔ اسمبلی کی قائم کردہ کمیٹی کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
بالخصوص ایڈمنسٹریٹر کے طور پر سابق میئر یا چیئرمین کی تقرری کے معاملے میں واضح حفاظتی شق ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص انتخابات تک سرکاری اختیار استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے یا تو آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے پر واضح پابندی ہونی چاہیے، یا کم از کم ایسی سخت انتخابی و انتظامی حدود مقرر ہونی چاہئیں جن سے سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال کا امکان ختم ہو۔
بلدیاتی قانون کسی جماعت، حکومت یا فرد کی سیاسی سہولت کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے حقِ حکمرانی کے لیے ہوتا ہے۔ سندھ میں پہلے ہی شہری مسائل، پانی، صفائی، سڑکوں، نکاسی آب اور تجاوزات جیسے معاملات عوام کے لیے مسلسل مشکلات کا باعث ہیں۔
ایسے میں ضرورت ایک مضبوط، بااختیار، جواب دہ اور شفاف بلدیاتی نظام کی ہے، ایسا نظام نہیں جس میں انتخابات کے بعد بھی اختیارات کا مرکز وہی رہے اور صرف عہدوں کے نام تبدیل ہوتے رہیں۔
سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026ء اس لحاظ سے ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ اگر قانون ساز واقعی بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس مسودے سے ہر وہ ابہام، تضاد اور مفادات کے تصادم کا امکان ختم کرنا ہوگا جو مقامی جمہوریت کو کمزور کرسکتا ہے سندھ کو ایسا بلدیاتی قانون چاہیے جس میں اقتدار کی مدت ختم ہونے کے بعد اختیارات کا تحفظ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔

